عدالت

عدالت (انگریزی: Court) سے مراد وہ قانونی و شرعی ادارہ، ہیئت یا معین شدہ مقام ہے جہاں قاضی یا منصفین کی نگرانی میں افراد اور گروہوں کے مابین نزاعات کا جائزہ لے کر قانون اور شریعت کے مطابق فیصلے صادر کیے جاتے ہیں۔[1][2] انگریزی لفظ Court کا اطلاق اس سے ملتے جلتے کئی دیگر مفاہیم پر بھی ہوتا ہے: مثلاً کوئی کھلا صحن یا آنگن جو چھت کے بغیر ہو، خواہ وہ کسی مکان کے سامنے، پیچھے یا اس کے گرد واقع ہو؛ کوئی چوک، گلی یا تنگ سڑک؛ بادشاہ یا کسی حکمران کا محل اور اس کے اردگرد کا نواحی علاقہ؛ درباریوں اور خدام کی مجلس؛ عدالت کا کمرہ یا ہال؛ باسکٹ بال، ٹینس اور سکواش جیسے کھیلوں کا میدان؛ اور کسی بااختیار شخص کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ادب و آداب، خوشامد یا خطاب کرنا۔[3]
لغوی پس منظر اور اصطلاحی اشتقاق
[ترمیم]عربی لغت میں لفظ "عدالت" کا بنیادی مادہ "ع د ل" ہے، جس کے معنی استقامت، توسط اور دو چیزوں کے درمیان برابری و انصاف قائم کرنے کے ہیں، جو جور اور ظلم کی ضد ہے۔[4][5] شرعی اصطلاح میں "عدالت" سے مراد نفس کی وہ مستحکم کیفیت اور استقامت ہے جو انسان کو تقویٰ، مروّت اور محظوراتِ دین سے بچنے پر ابھارتی ہے۔[6][7]
دوسری جانب اصطلاح "محکمہ" اسمِ مکان ہے جو قاضی کے فیصلے کی جگہ یا اس رسمی ادارے کے لیے بولا جاتا ہے جو خصومات اور دعوؤں کے تصفیے کا معین مرکز ہوتا ہے۔[8][9] جبکہ "قضاء" کا لغوی معنی امضاء، حتم اور قطع کا ہے اور فقہی و قانونی اصطلاح میں اس سے مراد شرعی احکام کو ظاہر کرنا، فریقین پر ان کا الزام قائم کرنا اور تنازعات کو ختم کرنا ہے۔[10][11] نیز "حکم" کی بنیادی لغوی حقیقت روکنے کی ہے، کیونکہ فیصلہ ظالم کو ظلم کرنے سے روکتا اور باطل کا سدِباب کرتا ہے۔[12][13]
اسلامی فقہ میں قضاء اور عدالت کی اہمیت
[ترمیم]اسلامی نظام میں عدالت اور قضاء کو اہم ترین شرعی فرائض میں شمار کیا گیا ہے، کیونکہ اس کا بنیادی مقصد زمین پر حق قائم کرنا ہے۔[14][15] قرآن مجید میں حضرت آدم اور حضرت داؤد علیہما السلام کا ذکر خلافت اور لوگوں کے درمیان حق کے مطابق فیصلے کرنے کی ذمہ داری کے ساتھ کیا گیا ہے۔[14]
فقہا کے مطابق عدالت کے ذریعے ایک دن انصاف کے ساتھ فیصلہ کرنا طویل عرصے کے نفلی جہاد سے برتر فضیلت رکھتا ہے، تاکہ معاشرے سے فتنہ ختم ہو اور حقوق محفوظ رہیں۔[15] اسلام میں قاضی پر لازم ہے کہ وہ "آدابِ قاضی" کا التزام کرے، جس میں فریقین کے مابین کامل مساوات اور عدل شامل ہے۔[10][16]
عدالت کے ارکان اور انتظامی ساخت
[ترمیم]فقہا اور اصولیین نے عدالتی کارروائی کے چھ بنیادی ارکان متعین کیے ہیں:
- حاکم یا قاضی: وہ فرد جسے مقتدرہ کی طرف سے خصومات اور دعووں کا فیصلہ کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہو۔[11][17]
- محکوم بہ: وہ حق یا چیز جس کا قاضی کی طرف سے فیصلہ دیا جائے۔[11][9]
- محکوم لہ: وہ مدعی جس کے حق میں فیصلہ صادر ہو۔[11]
- محکوم علیہ: وہ مدعا علیہ جس پر فیصلہ نافذ کیا جائے۔[11]
- حکم: وہ فیصلہ جو ولایتِ عامہ کے تحت صادر ہوتا ہے۔[11][18]
- طریقِ ثبوت: وہ شرعی ثبوت جس پر فیصلے کی بنیاد رکھی جائے، جیسے گواہی، اقرار یا انکار۔[10][11]
عدالتی نظام کے انتظامی ڈھانچے میں اہم دستاویزات اور معاونین بھی شامل ہوتے ہیں، جیسے "محضر" (جس میں فریقین کے بیانات لکھے جاتے ہیں)، "سجل" (وہ رجسٹر جس میں حتمی فیصلے کا نفاذ درج ہوتا ہے) اور دفترِ قضاء کا عملہ۔[19][20][21]
عدالتوں کی جدید اقسام
[ترمیم]جدید قانون اور ریاستی ساخت میں عدالتوں کو ان کے دائرہِ اختیار اور نوعیتِ کار کی بنیاد پر مختلف درجات میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
ابتدائی عدالت
[ترمیم]یہ وہ بنیادی عدالت ہے جو دیوانی یا عمومی نوعیت کے دعووں کو پہلی مرتبہ سننے اور فیصل کرنے کی اہل ہوتی ہے۔[22]
عدالتِ اپیل
[ترمیم]یہ اعلیٰ عدالت نچلی عدالتوں کے فیصلوں پر فریقین کی طرف سے دائر کردہ اپیلوں کا از سرِ نو جائزہ لیتی ہے۔[22]
عدالتِ عظمیٰ (سپریم کورٹ)
[ترمیم]یہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت ہوتی ہے جو فیصلوں کی آئینی و قانونی مطابقت کا جائزہ لیتی ہے اور اس کے قائم کردہ اصولوں کی پیروی دیگر تمام عدالتوں پر لازم ہوتی ہے۔[23][22]
فوجداری عدالتیں
[ترمیم]یہ عدالتیں سنگین جرائم اور جنایات کا جائزہ لیتی ہیں جن میں قانوناً قید یا دیگر سزائیں مقرر ہوتی ہیں۔[24]
خاندانی و شرعی عدالتیں
[ترمیم]یہ خاص عدالتیں نکاح، طلاق، وصیت اور خاندانی حقوق سے متعلق تنازعات کا فیصلہ شریعت و قانون کے مطابق کرتی ہیں۔[25][22]
بین الاقوامی عدالتِ انصاف
[ترمیم]یہ اقوامِ متحدہ کا اعلیٰ عدالتی ادارہ ہے جو لاہائے (ہالینڈ) میں واقع ہے اور مختلف ریاستوں کے درمیان پیدا ہونے والے بین الاقوامی تنازعات اور معاہدوں کی تعبیر پر فیصلہ کرتا ہے۔[22][26]
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ مجمع اللغة العربية (2004)۔ المعجم الوسيط۔ قاہرہ: م كتبة الشروق الدولية۔ ج 2۔ ص 779
- ↑ أحمد مختار عمر (2003)۔ معجم اللغة العربية المعاصرة۔ قاہرہ: عالم الكتب۔ ج 3۔ ص 1830
- ↑ آن لائن قومی انگریزی اُردو لُغت، ادارۂ فروغِ قومی زبان اسلام آباد پاکستان
- ↑ مجمع اللغة العربية (2004)۔ المعجم الوسيط۔ قاہرہ: مكتبة الشروق الدولية۔ ج 2۔ ص 600
- ↑ مرتضى الزبيدي (1994)۔ تاج العروس من جواهر القاموس۔ بیروت: دار الفكر۔ ج 29۔ ص 444
- ↑ الشريف الجرجاني (1983)۔ التعريفات۔ بیروت: دار الكتب العلمية۔ ج 1۔ ص 16
- ↑ محمد عميم الإحسان المجددي (2003)۔ التعريفات الفقهية۔ بیروت: دار الكتب العلمية۔ ج 1۔ ص 125
- ↑ مجمع اللغة العربية (2004)۔ المعجم الوسيط۔ قاہرہ: مكتبة الشروق الدولية۔ ج 1۔ ص 190
- 1 2 محمود عبد الرحمن عبد المنعم (1999)۔ معجم المصطلحات والألفاظ الفقهية۔ قاہرہ: دار الفضيلة۔ ج 3۔ ص 231
- 1 2 3 القاسم بن عبد الله القونوي (2004)۔ أنيس الفقهاء في تعريفات الألفاظ المتداولة بين الفقهاء۔ بیروت: دار الكتب العلمية۔ ج 1۔ ص 84
- 1 2 3 4 5 6 7 محمد عميم الإحسان المجددي (2003)۔ التعريفات الفقهية۔ بیروت: دار الكتب العلمية۔ ج 1۔ ص 170
- ↑ أحمد بن محمد الفيومي (1997)۔ المصباح المنير في غريب الشرح الكبير۔ بیروت: المكتبة العصرية۔ ج 1۔ ص 145
- ↑ أحمد بن فارس (1983)۔ حلية الفقهاء۔ بیروت: مؤسسة الرسالة۔ ج 1۔ ص 207
- 1 2 القاسم بن عبد الله القونوي (2004)۔ أنيس الفقهاء في تعريفات الألفاظ المتداولة بين الفقهاء۔ بیروت: دار الكتب العلمية۔ ج 1۔ ص 83
- 1 2 القاضي عبد النبي الأحمد نكري (2000)۔ دستور العلماء۔ بیروت: دار الكتب العلمية۔ ج 2۔ ص 36
- ↑ محمود عبد الرحمن عبد المنعم (1999)۔ معجم المصطلحات والألفاظ الفقهية۔ قاہرہ: دار الفضيلة۔ ج 1۔ ص 17
- ↑ محمود عبد الرحمن عبد المنعم (1999)۔ معجم المصطلحات والألفاظ الفقهية۔ قاہرہ: دار الفضيلة۔ ج 1۔ ص 582
- ↑ محمد علي التهانوي (1996)۔ كشاف اصطلاحات الفنون والعلوم۔ بیروت: مكتبة لبنان ناشرون۔ ج 2۔ ص 1325
- ↑ محمد بن أبي الفتح البعلي (1981)۔ المطلع على ألفاظ المقنع۔ بیروت: المكتب الإسلامي۔ ج 1۔ ص 478
- ↑ ناصر الدين المطرزي (1979)۔ المغرب في ترتيب المعرب۔ بیروت: دار الكتاب العربي۔ ج 1۔ ص 387
- ↑ النووي (1988)۔ تحرير ألفاظ التنبيه۔ دمشق: دار القلم۔ ج 1۔ ص 332
- 1 2 3 4 5 أحمد مختار عمر (2003)۔ معجم اللغة العربية المعاصرة۔ قاہرہ: عالم الكتب۔ ج 1۔ ص 541
- ↑ مجمع اللغة العربية (2004)۔ المعجم الوسيط۔ قاہرہ: مكتبة الشروق الدولية۔ ج 2۔ ص 943
- ↑ أحمد مختار عمر (2003)۔ معجم اللغة العربية المعاصرة۔ قاہرہ: عالم الكتب۔ ج 1۔ ص 373
- ↑ رينهارت دوزي (1981)۔ تكملة المعاجم العربية۔ بغداد: دار الرشيد۔ ج 8۔ ص 303
- ↑ أحمد مختار عمر (2003)۔ معجم اللغة العربية المعاصرة۔ قاہرہ: عالم الكتب۔ ج 2۔ ص 1468