صہیونیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(صیہونیت سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
تھیوڈور  ہرتذل  کو جدید صہیونی تحریک کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ 1896ء کی اپنی کتاب 'دیر یودنستات' (یہودی ریاست) میں انہوں نے بیسویں صدی میں مستقبل کی خودمختار یہودی ریاست کا تصور دیا۔

صیہونیت (عبرانی: צִיּוֹנוּת‎‎ تصیہونت عبرانی تلفظ: [t͡sijo̞ˈnut] از ) قومی تحریک ہے جو یہودی لوگوں کی دوبارہ یہودی وطن یعنی  ملک اسرائیل (جو  کنعان، ارض مقدس اور فلسطین پر مشتمل ہے)۔ قیام کی حمایت کرتی ہے[1][2][3][4] جدید صیہونیت انیسویں صدی کے اخائر میں وسطی اور مشرقی یورپ میں ایک یہودی قومی احیاء کی تحریک کے طور پر  ابھر کر سامنے آئی، جس نے سام دشمنی کے رد عمل اور اخراجی قوم پرست تحریکوں کے جواب میں جنم لیاـ[5][6][7] اس کے بعد جلد ہی، اس کے زیادہ تر رہنماؤں نے اس تحریک کا مقصد  مطلوبہ ریاست فلسطین اور بعد میں سلطنت عثمانیہ  کے زیر حکومت علاقوں میں  قائم کرنے سے وابستہ کر لیاـ[8][9][10]

1948ء تک صیہونیت کے بنیادی مقاصد میں دوبارہ  یہود کو ارض مقدسہ میں تاریخی خود مختاری دلوانے، اجتماعِ جلاوطن یہود ، سام دشمنی، امتیازی سلوک اور یہود پرظلم و ستم سے آزادی پر مرکوز تھے جس کا سامنہ انہوں نے یہودی جلاوطنی میں کیا تھا۔ 1948ء میں اسرائیل کی ریاست کے قیام کے بعد صیہونیت بنیادی طور پر منجانب اسرائیل  اس کی مسلسل موجودگی، توسیع اور دفاع کے خطرات سے نمٹنے کے لیے وکالت اور حمایت کا نام ہے۔

مذہبی قسم کی  ایک صیہونیت  یہودی تشخص برقرار رکھنے  کی حمایتی ہے اور اسے مذہبی یہودیت سے وابستگی کو متعرف کرتا ہے اور یہودیوں کے دوسرے معاشروں میں انجذاب کی مخالفت کرتا ہے اور یہودیوں کی  اسرائیل واپسی کو یہودیوں کی   اپنی ایک علاحدہ ریاست میں اکثریتی قوم بننے کے ایک ذریعے کے طور پر وکالت کرتا ہے۔[11]  ثقافتی صیہونیت ایک قسم کی  صیہونیت ہے جس کی سب سے زیادہ نمایاں نمائندگی احد ہام نے کی اور بنیاد رکھی اور اسرائیل میں ایک یہودی "روحانی مرکز "کے  سیکولر (غیرمذہب نقطہ نظر کو فروغ دیا۔  سیاسی صیہونیت کے بانی ہرضل کے برعکس  احد ہا م کی جدوجہد  اسرائیل کو "یہودی ریاست  نہ کہ صرف یہودیوں کی ریاست" بنانے کے لیے تھی۔[12]

صیہونیت کے حمایتی اور وکیل اسے مختلف قوموں میں رہنے والی مظلوم یہودی اقلیتوں کو واپس اپنے آبائی وطن میں بسانے کی ایک قومی تحریک آزادی کے طور پر دیکھتے ہیں۔ صیہونیت کے ناقدین اسے استعمار پسندی نسل پرستی اور امتیاز پسندی کے نظریے جس نے اپنے پیرو انتداب فلسطین کے دوران یہودی صیہونی تشدد کی جانب راغب کرتی تحریک کے طورپر جانتے ہیں، جس نے نکبت فلسطین اور انہیں آج تک مسلسل 1948ءکی جنگ کے دوران چھینے گئے فلسطینی کی جائداد اور املاک  کی واپسی سے محروم رکھا۔[13] [14][15][16]

اصطلاح[ترمیم]

صہیون لفظ (عبرانی: چیان، طزی یون) لفظ "صیہونیزم" سے اخذ ہوا ، جو یروشلم سے منسوب ہے۔ 19ء ویں صدی کے آخر میں تمام تر مشرقی یورپ میں، کئی مقامی گروہ یروشلم میں یہودی قومی آبادکاری اورعبرانی زبان کی بحالی اور نشو و نما کی تائید کوفروغ دیتے رہے۔ یہ گروہ اجتماعی طور پر "محبین صہیون" کہلاتے تھے ،جنھوں نے یہودی لوگوں میں اس تحریک کی سمجھ اجاگر کرنے میں کردار ادا کیا۔ اس اصطلاح کا پہلے پہل استعمال آسٹریا میں قدیمہ قوم پرست یہودی تلامذہ تحریک کے بانی ناتھن برنبم سےمنسوب کیا جاتا ہے۔اس نے 1890ء میں اپنے جریدے Selbstemanzipation (خود خلاصی) میں اصطلاح استعمال کیا ،جو لیون پنسر کی 1882ء کتاب "آپ خلاصی" کےتقریبا بعینہ تھی ۔[17]

جائزہ[ترمیم]

مزید دیکھیں :صہیونیت کی اقسام

تمام  صہیونیوں میں  ارض اسرائیل تک یہودکی بطور قومی آبائی وطن واپسی کو یہودی قومی  خود مختاری کے لیے جائز نقطۂِ مرکوز جانتے ہیں جو ان میں ایک مشترک  نظریہ ہے ۔ یہ تاریخی تعلقات اور مذہبی روایات پر مبنی ہے جو یہود کو ارض اسرائیل سے  مربوط کرتی ہے۔ صہیونیت کوئی  خاص یک ریخت و یکصورت نظریہ نہیں، بلکہ یہ بہت  سے نظریات کے مباحثوں سے مرتب ہوا : جیسےعمومی صہیونیت، مذہبی  صہیونیت،  لیبر(مشقتی) صہیونیت،تبدیلی  پسند صہیونیت، ماحولیاتی صہیونیت وغیرہ

تقریباً دو ہزار  سال تک  بغیر ریاست اور دوسرے ممالک کےغیر  یہودی علاقوں میں رہنے  کے بعد صہیونی تحریک کا قیام 19ء ویں صدی کے سیکولر  اشکنازی یہود نے دیگر  وجوہات کے ساتھ ساتھ یورپ میں بڑھتی ہوئی ضد سامیت کے جواب میں رکھا،   ضد سامیت کی اس وقت کی مثالوں  میں فرانس میں ڈریفس معاملہ اور روسی سلطنت کے پوگروم بھی تھے۔ سیاسی صہیونی  تحریک کا باقاعدہ قیام  آسٹریائی۔مجرستانی صحافی تھیوڈور  ہرتذل نے 1897ء میں اپنی کتاب (Der Judenstaat  یہودی ریاست ) لکھنے کے بعدرکھا۔ اس وقت اس تحریک کا مقصد یہود کو سلطنت عثمانی کی جانب ہجرت کرنے پر ابھارنا تھا۔

اگر چہ اولا ً  کئی  یہودی تحاریک نے یورپی ثقافتی و دیگر انجذاب اور ضد سامیت کے متبادل پیش کیے تاہم  صہیونیت بہت تیزی سے  پھیلی۔ اولین مراحل میں اس کے حامیوں اور کارکنوں نےتاریخی فلسطینی علاقوں میں  یہودی ریاست کے قیام  کو بھی پیش نظر رکھا۔ جنگ عظیم دوم کے بعد وسطی اور مشرقی یورپ میں جہاں یہ تحاریک پروان چڑھیں یہودی ثقافت اور زندگی کے خاتمے کے بعد، وہاں یہ یہودی ریاست کی سوچ غالب رہی ۔

مملکت متحدہ کے ساتھ  اتحاد بنانے اور فلسطین کی جانب ہجرت کرنے کے لیے اس کی حمایت حاصل کرلینے کے بعد، صہیونیوں نے یورپی یہود کو وہاں جانے کے لیے بھرتی بھی کیے، خاصکر وہ یہود جو روسی سلطنت کے ان علاقوں میں رہے جہاں ضد سامیت عروج پر تھی۔ جیسے جیسے برطانیہ کو یہودی تحریک کے عربوں پر اثرات کا احساس ہوتا گیا یہ اتحاد کشیدہ رہا   تاہم صہیونی پھر بھی غالب رہے۔ یہ تحریک بالاخر  14 مئی 1948ء کو اپنے مقصد میں کامیاب ہوئی اور یہودی لوگوں کے لیے ایک ریاست قائم کی۔ اسرائیل میں یہودی آبادی کا تناسب اس تحریک کے ابھرنے کے بعد سے  مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ایکیسویں صدی  کے آغاز سے تمام دنیا کے% 40 یہود  اسرائیل میں رہ رہے ہیں جو کسی بھی ملک کے یہود کی تعداد سے زیادہ ہے۔ ان دو نتائج  سے صہیونی تحریک کی کامیابی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہےجسکی مثال پچھلے دو ہزار سال کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ اکادمی تعلیم کے  مطابق  صہیونی تحریک کو جلاوطنی سیاست کے تناظر میں  بطور قومی آزادی کی جدید تحریک دیکھا جاتا ہے۔

صہیونیت  کا ایک مقصد  انجذاب یہود یعنی یورپی و دیگرمعاشروں میں یہود کی قبولیت تھی۔اس جلاوطنی کی وجہ سے بہت سے یہود اپنے اختیار کردہ ممالک میں  پردیسی بنکر رہتے رہے چنانچہ وہ جدیدیت اور نئے تصورات سے منفصل و بے بہرہ رہے۔ نام نہاد انجذاب پسند یہودیوں کی یورپی معاشرے میں مکمل جذب ہو جانے کی تمنی کرتے رہے اور جدیدیت اور انجذاب معاشرہ کے لیے وہ اپنی یہودیت ، یہودی روایات و تمدن میں تخفیف کرنے پر  بھی آمادہ تھے۔ تاہم ثقافتی ترکیب (معتدل قسم کی انجذاب کو ثقافتی ترکیب کہتے ہیں) کے تسلسل اور دھیمی ارتقا کےحامیین کو یہ بھی فکر لاحق رہا کہ یہود اپنی جداگانہ شناخت ہی نہ کھو دیں۔ ثقافتی ترکیب نے روایتی یہودی اقدار و عقائدکو برقرار رکھنے اور جدید معاشرے سے ہم آہنگی  کی ضرورت دونوں ہی پر زور دیا  مثلاّ ہفتے سے  اتوار کے دن کی چھٹی  و دیگرآداب معاشرت۔

1975ء میں  اقوام متحدہ مجلس عمومی  نے قرارداد 3379منظور کی ، جس نے صہیونیت کو بطور "نسل پرستی اور نسلی تفریق  کی ایک قسم " نشان دہی کی ۔ یہ قرارداد  1991ء میں رد کردی گئی اور اسے  قرارداد  86/ 46سے بدلا گیا۔  صہیونیت کی بطور نظریہ  مخالفت کو کبھی کبھار نسل پرستی اور  افتراق بین الناس بھی گردانا گیا  جنہیں ہم بودیت (ایک ساتھ رہنے) کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔

عقائد[ترمیم]

صہیونیت کو اسرائیلی ریاست بنانے کے سیاسی مقصد کو مد نظر رکھتے قائم کیا گیا تھا   جہاں یہود اکثریت میں ہوں نہ کہ اقلیت میں  جیسے وہ مختلف اقوام کے تحت جلاوطنی میں رہتے رہے۔ مفکر صہیونیت  ،تھیوڈور ہرتذل نے   ضد  صہیونیت کوان تمام معاشروں  کاایک ابدی پہلو قرار دیا جہاں یہود اقلیت میں رہ رہے تھے اور یہ کہ صرف  ان معاشروں سے علیحدگی ہی اس  ابدی عقوبت سے  خلاصی دے سکتی ہے۔   وہ اگر صرف ہمارے لوگوں کی ضروریات کے لیے کافی زمین کے ٹکڑے پر  خود مختاری دے دیں  ، تو باقی ہم خود کر لیں گے "  اس نے یہ دعوی ٰکر کے اپنے عزائم چاک کیے۔
صہیونیت کو اسرائیلی ریاست بنانے کے سیاسی مقصد کو مد نظر رکھتے قائم کیا گیا تھا   جہاں یہود اکثریت میں ہوں نہ کہ اقلیت میں  جیسے وہ مختلف اقوام کے تحت جلاوطنی میں رہتے رہے۔ تھیوڈور ہرتذل ، مفکر صہیونیت  نے   ضد  صہیونیت کوان تمام معاشروں  کاایک ابدی پہلو قرار دیا جہاں یہود اقلیت میں رہ رہے تھے اور یہ کہ صرف  ان معاشروں سے علیحدگی ہی اس  ابدی عقوبت سے  خلاصی دے سکتی ہے۔ "  وہ اگر صرف ہمارے لوگوں کی ضروریات کے لیے کافی زمین کے ٹکڑے پر  خود مختاری دے دیں  ، تو باقی ہم خود کر لیں گے "  اس نے یہ دعوی ٰکر کے اپنے عزائم چاک کیے۔

ہرتزل نے دو ممکن جگہوں پر  آبادکاری کی تجویز دی  ارجنٹینا اور فلسطین . اس نے فلسطین پر ارجنٹینا کو اس کے وسیع   علاقوں ، معتدل  موسم اور کم آبادی کی وجہ سے فوقیت دی  ۔لیکن تسلیم کیا کہ فلسطین  اپنے پرانے یہودی  تعلق کی وجہ سے زیادہ پر کشش ہوگا – اس نے یوسف چیمبرلن کی تجویز  یعنی  برطانوی زیر تسلط  مشرقی افریقی ممالک میں آبادکاری کو بھی قبول کیا۔

موجودہ ریاست اسرائیل ، ہدفِ صہیونی تحریک

علیاہ (لفظی معنی:  چڑھنا) ارض اسرائیل کی جانب  ہجرت ایک موضوع  ہے جو یہودی دعاؤں میں تواتر   سے ملتا ہے۔  صہیونیت میں جلاوطنی کی زندگی کا  استرد ایک مرکزی پہلو ہے۔ حامیین  صہیونیت کا ماننا تھا کہ یہود کو ان کے مکمل نشو و نما ، قومی اور انفرادی زندگی  سے محروم رکھا جارہا ہے۔

صہیونی عموما عبرانی زبان بولنے کو ترجیح دیتے  ہیں، ایک ایسی سامی زبان جو قدیم یہوداہ میں یہودی آزادی کے دوران وجود میں آئی،جسے انہوں نے جدت دی اور روزمرہ استعمال کے لیے قابل قبول بنایا۔ صہیونی  یدش  بولنے کو انکار بھی کرتے ہیں، جسے وہ ایسی زبان سمجھتے ہیں جو  یورپی عقوبت میں پروان چڑھی۔ وہ جب اسرائیل منتقل ہوئے  بہت سے اسرائیلیوں نے اپنی جلاوطنی کی مادری زبان بولنے سے انکار کر دیا اور نئی عبرانی زبان اور نام اختیار کیے۔عبرانی نہ صرف نظریاتی وجوہ سے اپنائی گئی بلکہ اس زبان کی وجہ سے نئی ریاست کے مختلف زبان بولنے والےشہریوں کو ایک زبان پر مجتمع ہونے کا موقع ملا۔یوں  انہوں نے اپنے سیاسی اور ثقافتی  بندھن کو مضبوط کیا۔

صہیونی نظریات میں سے اہم  اسرائیلی قرارداد آزادی میں پیش کی گئیں

  • ارض اسرائیل  یہودی قوم کا جائے پیدائش ہے۔ انکا  روحانی ، مذہبی  اور سیاسی تشخص   یہیں تشکیل ہوا۔ یہیں انہیں پہلا  ریاست پن  حاصل ہوا، قومی اور عالمگیر ی اہمیت کی حامل  ثقافتی اقدار یہیں قائم کیں اور دنیا کو  ازلی کتابوں کی کتاب عنایت کی۔
  • اپنی زمین سے زبردستی  جلاوطن کیے جانے کے بعد، دوران انتشار ان لوگوں نے اپنا ایمان قائم رکھااور ہمیشہ وطن واپسی کی اور سیاسی بحالی کی دعائیں کرتے رہے۔
  • تاریخی اور روایتی  لگاؤ کی وجہ سے مجبور ، یہود نے ہر نسل اور دور میں  اپنے آبائی وطن میں پھر سے  ریاست قائم کرنے کی جدوجہد کی – حالیہ دہائیوں میں یہ اپنے  لوگوں میں جا پہنچے۔

تاریخ[ترمیم]

دیکھیں تاریخ صہیونیت : اصلِ صہیونیت اور تاریخ اسرائیل

فلسطینی آبادی بہ نسل ومذہب [18]
سال مسلمان یہود مسیحی دیگر ُکل
1922 486,177 (74.91%) 83,790 (12.91%) 71,464 (11.01%) 7,617 (1.17%) 649,048
1931 493,147 (64.32%) 174,606 (22.77%) 88,907 (11.60%) 10,101 (1.32% 766,761
1941 906,551 (59.68%) 474,102 (31.21%) 125,413 (8.26%) 12,881 (0.85%) 1,518,947
1946 1,076,783 (58.34%) 608,225 (32.96%) 145,063 (7.86%) 15,488 (0.84%) 1,845,559

پہلی صدی عیسوی کے بعد سے اکثر یہود ارض اسرائیل (فلسطین)سے باہر ہی رہتے رہے، اگرچہ ایک اقلیتی یہودی آبادی وہاں بستی رہی۔ یہودیت ، عیسائیت اور اسلام کے مطابق  ارض اسرائیل ہی وہ موعود جگہ تھی جو یہود کو اللہ نے دی۔ یہود کو اس خطہ ارض سے 586 ق م میں بابلی قبضہ کے دوران نکالا گیا۔ بابلیوں نے ہیکل سلیمانی کو تباہ کیا جو یہود کا ثقافتی اور مذہبی قبلہ تھا۔ پہلی صدی عیسوی کے بغاوت عظیم  اور دوسری صدی کے بار کوخبہ بغاوت کےبعد رومیوں نے یہود کو ریاست /صوبہ یہوداہ سے بیدخل کیا اور اس کا نام بدل کر  سوریہ فلسطینیہ رکھ دیا۔ بار کوخبہ بغاوت کے بعد سام دشمنی اور یہودی عقوبت میں اچانک اضافہ ہوا۔ بعد کی جلاوطنی نے فلسطین سے باہر رہنے والے یہود کی تعداد میں بے پناہ اضافہ کر دیا۔

صہیون دراصل یروشلم  کے قریب ایک پہاڑی ہے، وسیع طور پہ   ارض اسرائیل کے لیے استعارہ  ہے۔

اخبار کولونیل ٹائمز 1841ء میں پروٹسٹنٹ فرمانرواہوں کی طرف فلسطین میں یہودی ریاست کی بحالی کیلئے چھپی یاداشت

  16ویں صدی کے وسط میں ، یوسف نصی نے   عثمانی سلطنت کی حمایت سے   پرتگالی یہود کو اکھٹا کرنے کی کوشش کی ، انہوں نے پہلے قبرص ہجرت کرنا تھی ، پھر جمہوریہ وینس کی ملک میں آنا تھا اور آخر کار طبریہ میں  آبادہونا تھا۔ نصی جو غیر مسلم ہی رہانے آخر کار سلطنت میں اعلی ترین طبی عہدہ حاصل کیااور شاہی درباری معملات میں بھی متحرک رہا۔ اسنے سلیمان اول کو  پوپ کے زیر حراست عثمانی  رعایا یعنی پرتگالی یہود کوبری کرنے کیلئےمداخلت کیلئےقائل کیا۔4اور 19ویں صدی کے درمیان، فلسطین میں کسی قسم کا یہودی سیاسی مرکز بنانے کی عملی کوشش صرف نصی ہی کی جانب سے ہوئی۔

17 ویں صدی میں  سباتائی زیوی(1676ء-1626ء) نے مسیح ہونے کا اعلان کیااور اپنے گرد بہت سے یہود کو جمع کرنے میں کامیاب ہو گیا، سلونیکا اس کا گھڑ تھا۔ اس نے غزہ میں آبادکاری کی کوشش کی  لیکن بعد میں  سمیرنا ، یونان گیا۔ وہاں کے پرانے ربی ہارون لپاپہ کو اختیارات سے محروم کرنے کے بعد 1666 ء  کی بہار میں ، آوینیو ،فرانس کی یہودی برادری نے نئی مملکت میں  ہجرت کرنا شروع کی۔اس وقت کے یہود  سباتائی کے مسیحانہ دعووں کوقبول کرنےکی  بڑی وجہ  17ویں صدی کی یہودیت کی مایوسی اور ابتر حالت تھی۔ بوگدان خملنیتسکی کے خونریز پوگروم نے ایک تہائی یہودی آ  بادی  کا صفایا کردیااور بہت سے یہودی تعلیمی اور مشترکہ زندگی کے مراکز تباہ کیے۔

انیسویں صدی میں ،یہودیت کے  صہیون واپسی کی تحریک کی شہرت نے زور پکڑا، خاصکر یورپ میں ،جہاں سام مخالفت اور یہود دشمنی بڑھ رہا  تھا۔اس دور میں فلسطین واپسی کا نظریہ ربیوں کی مجالس نےرد کیا۔ اس دوران انفرادی کوششیں یہودی گروہوں کی فلسطین واپسی کی حمایت کرتی رہی، قبل از صہیونیت علیا،1897ء سے بھی پہلے،اس سال کو عملی صہیونیت کے آغاز کا سال گردانا جاتا ہے۔

اصلاحی  یہود نے صہیون واپسی کےنظریہ کی مخالفت کی۔یہودی ربیوں کی 15سے 18جولائی1845ء کو فرنکفرٹ مین میں منعقد مجلس نے ایسی تمام دعائیں اپنی کتابوں سے حذف کر دیں جو صہیون واسپی اور یہودی ریاست کی بحالی سے متعلق تھیں۔ فلاڈلفیہ مجلس، 1869ء،نے جرمن یہود کی دیکھا دیکھی فرمان جاری کیا کہ اسرائیل کی مسیحانہ امید " خدا کے اکھٹے ہونے کے اقرار میں ، خدا کے بچوں  کا اکھٹا ہونا ہے"۔ پٹسبورگ مجلس 1885 ء میں پھر سے یاددہانی کرائی کہ اصلاحی یہودیت کا یہ مسیحانہ  نظریہ،جس کا اظہار قرارداد میں کیا جارہا ہے کہ "ہم خودکو اب قوم نہیں بلکہ مذہبی طبقہ سمجھتے ہیں  اور اسی لیے ہم فلسطین واپسی کی امید نہیں رکھتے، نہ ہی ہارون کی اولاد کے ماتحت قربانی کی عبادت کی  اور نہ ہی یہودی ریاست سے متعلق  کسی قانون کی بحالی کی امید رکھتے ہیں "۔

باسل سوئٹزرلینڈ: 1897ء میں منعقدہ پہلی صہیونی مجلس میں شریک مندوبین

و.د. رابنسن نے 1819ءمیں بالائی مسیسپی کے علاقے میں یہودی آبادیاں قائم کی۔ دیگرنومذہب یہودی امریکی ایلچی وارڈر کریسن کی جانب سے    1850ءمیں یروشلم کے قریب قائم کی گئیں۔ کریسن پر اس کی بیوی اور لڑکےکی جانب  سے ایک مقدمہ میں پاگل پن کا دعوی ٰکیا گیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ ایک پاگل ہی عیسائیت چھوڑ کر یہودیت اختیار کر سکتا ہے۔ مقدمہ کی دوسری پیشی میں ضد سامیت اور مذہبی آزادی کی بنیاد پر وہ سختی سے لڑا گیا مقدمہ جیت گیا۔ اس کے بعد کریسن  نے عثمانی سلطنت ہجرت کی اور یروشلم کی رفائیون وادی میں زرعی کالونی قائم کی۔ اس امید میں کہ ایسی تمام کوششیں جن سے مجبور (یہودی ) بھائیوں کی ضروریات کا فائدہ اٹھا کر انہیں  فرضی تبدیلی مذہب  سے باز رکھا جائے گا۔

پراگ میں یہودی ہجرت کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ابراہیم نیسچ اور موریطض سٹاینشنا ئڈر کی جانب سے 1835ء میں فقط وعظ و نصیحت  کی حد تک کوششیں کی گئیں۔ ریاستہائے متحدہ امریکا  میں  مورڈیکائے نوح نےگرینڈ جزیرہ  بفلو ، نیویارک کے سامنے  یہودی پناگاہ  قائم کرنے کی کوشش کی – یہودی قوم  کی آبادکاری کی ابراہیم ،کریسن اور موریطض یہ ابتدائی کوششیں بری طرح ناکام ہوئیں۔

1880ء: موسیٰ مونٹے فیورے

سر موسی مونٹے فیورے، دنیا بھر میں یہودی  طرفداری میں  مداخلت  اور ایڈگارڈو موراٹہ کی رہائی کے لیے مشہور ،  نے  فلسطین میں  یہود کے لیے کالونی قائم کی ۔  1845 ء میں اس کے دوست یہوداہ طوورو نے فلسطین میں یہودی آبادکاری کے لیے  اپنا ترکہ وقف کیا۔ مونٹے فیورے کو اس کے ترکے کا مختار نامزد کیا گیا تھا تاکہ وہ مختلف قسم کے  منصوبوں میں بشمول یروشلم میں   1860ءکی پہلی  یہودی سکونت کی آبادکاری کی تعمیر۔جسے اب مشکنوت شانیم کہتے ہیں – لارنس اولیفنٹ    (1879ء-1882ء) اسی طرح کی کوشش میں پولستان ، لتھوانیہ ، رومانیہ اور ترکی کے یہود کو فلسطین  بلانے میں ناکام ہوا۔

نئےیئشو کی فلسطین میں باقاعدہ تعمیرکا آغاز بیلو گروہ کی 1882ءمیں آمد کیساتھ جوڑا جاتا ہے  ، جس نے پہلا علیا اختیار کیا۔ آمدہ برسوں میں ، فلسطین کی جانب یہودی ہجرت سرگرمی و سنجیدگی سے شروع ہوئی۔ اکثر مہاجرین  روسی سلطنت موجودہ یوکرین اور پولستان سے کثیرالوقع پوگروم اور ریاستی سر پرستی میں عقوبت سے فرار ہوکر  آئے – انہوں نے یہودی اور مغربی یورپی مخیر وں کی مدد سےمتعدد زرعی آبادکاریاں کیں –روسی انقلاب ،اس کے بعد پھوٹے متشدد  پوگروم اور 1930ء  کی دہائی کے نازی مظالم نے  مزید علیا کی راہ ہموار کی۔ 19ویں صدی کے آخر تک یہود فلسطین میں ایک انتہائی چھوٹی سی اقلیت تھے۔

1885ء میں ریشوں لی صہیون کا کنیسہ قائم کیا گیا

1980ء کی دہائی میں ،  تھیوڈور ہرتزل کےنئے نظریے اور عملی ناگزیریت  نےصہیونیت میں نئی روح پھونکی، جس کے نتیجے میں پہلی صہیونی مجلس  1897ء میں باسل کے مقام پر منعقد ہوئی، جس نے عالمی صہیونی تنظیم بنائی۔  ہرتزل کا مقصد ایسے اقدامات کا آغاز تھا  جو یہودی ریاست کے قیام کے لیے ضروری ہوں۔ ہرتزل نے فلسطین کے عثمانی حکمرانوں کے ساتھ سیاسی معاہدہ کرنے کی ناکام کوششں بھی کی اور دوسری حکومتوں کی بھی حمایت حاصل کرتا رہا۔ عالمی صہیونی تنظیم چھوٹے پیمانے پر یہودی آبادکاری کرتے رہے، ان کی زیادہ تر کوششیں عالمی یہودی وفاق  ترتیب دینے کے لیے یہودی احساسات و شعورکو تقویت دینے کیلئےصرف ہوتی رہیں۔

ریاستی نسل کشی اور پوگروم (نسلی صفائی )کی لمبی تاریخ کی حامل  روسی مملکت ،عام طور پر یہود کی دشمن سمجھی جاتی تھی۔ چنانچہ صہیونی تحریک کا صدر  مقام  برلن بنایا گیا، کیونکہ اس تحریک کے اکثر رہنما جرمن زبان بولنے والےجرمن تھے۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد روسی سام مخالفت کیوجہ سے زیادہ تر  یہود (اور صہیونی) جرمنی اور روس کی جنگ (دوسری جنگ عظیم)میں جرمنی کے حمایتی تھے۔

زیرغورعلاقے[ترمیم]

مرکزی مضامین دیکھیں : یہودی علاقائیت اور  یہودی ریاست کیلئے تجویز

صہیونی تحریک کی پہلی دہائی کے دوران کئی صہیونی شخصیات نے فلسطین  سے باہر کی جگہوں (جیسے یوگنڈا اور ارجنٹینا)میں   یہودی ریاست کی حمایت کی – حتی کہ تھیوڈور  ہرتزل، سیاسی صہیونیت کا بانی اولاً کسی خود اختیار یہودی ریاست  کیلئے رضامند تھا ، تاہم  دیگر صہیونیوں نے  ارض اسرائیل کے ساتھ جڑی یادوں،  جذبات اور  حکایتوں پر زور دیا۔ تحریک کا نام صہیون استعمال کرنے کے باوجود (جو کہ دراصل   لفظ یروشلم کا ہم معنی اور یروشلم میں واقع قلعہ یبوس کے نام پر رکھا گیا ہے )، فلسطین  پر ہرتزل کی توجہ صہیونی منشور جودنستات(Judenstaat') کی 1986 ء میں اشاعت کے بعد مرکوز ہوئی، لیکن اس کے بعد بھی وہ  متذبذب تھا۔

1903ء میں ، برطانونی  نوآبادیاتی سیکریٹری یوسف چیمبرلن نے  ھرتزل کو یہودی آبادکاری کیلئے زیر حمایت مستعمر یوگنڈا کا 5000 مربع میل علاقہ دینے کی پیشکش کی۔ عالمی صہیونی تنظیم کی چھٹی نشست میں اسی سال  اس پیشکش کو متعرف کرایا گیا جس پر ایک غضب ناک بحث واقع ہوئی۔ کچھ گروہوں کا خیال تھا کہ اس پیشکش کی منظوری فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کو  مزید دشوار کردیگا۔ ارض افریقہ کو بطور پیش کمرہ بیان کیا گیا۔ یہ رائے شماری کے ذریعے یہ فیصلہ کیا گیا کہ  تفتیش کے لئے زیر غورافریقی میدان مرتفعی علاقے میں ایک وفد بھیجا جائے۔ آمدہ سال  مجلس نے ایک وفد تفتیش کے لئے  بھیجا ،  وفد کے مطابق معتدل  آب و ہوا یورپی آبادکاروں کے لئے تومناسب تھی تاہم  مقامی ماسائی آبادی کیلئےاتنے زیادہ یورپی لوگوں کا انکے علاقے میں امڈ آنا  قابل قبول نہ تھا۔ مزید برآں  وفد کو وہ خطہ شیروں اور دیگر جنگلی جانور کی بہتات کی وجہ سے نامناسب معلوم ہوا۔

1904ء میں ہرتزل کی موت کے بعد  جولائی 1905ء میں ساتویں نشست کے  چوتھے دن مجلس نے فیصلہ کیا کہ   برطانوی پیشکش کو مسترد کیا جائے اور آدم رونورکے مطابق" آئندہ کی تمام تر جدوجہدکا رخ   فقط خطہ فلسطین پر مرکوز رکھاجائےگا"۔ یہودی جاگیردارانہ تنظیم کا حامی  اسرائیل زنگویل  کی آرزو تھی کہ  یوگنڈا تجویز کے جواب میں کہیں بھی  بنائی جائے جسے بہت سے مندوبین مجلس کی حمایت حاصل ہوئی۔   رائے شماری کے بعد ، جسے ماکس نورڈاؤ نے پیش کیا ، زنگویل   نے نورڈاؤ پر الزام لگایا کہ " تاریخ  کی عدالت میں نورڈاؤ اس کا ذمہ دار ٹھرایا جائے گا" جبکہ اسکے حامیوں نے  میناکھیم اسشکن کے  روس نواز اتحاد کورائے شماری کے نتیجہ کا ذمہ دار ٹھرایا۔

یہودی جاگیردارانہ تنظیم کا مجلس پر کی رخصتی کابہت کم اثر  پڑا۔ صہیونی اشتراکی کارکن جماعت نے بھی خارج از فلسطین خودمختار خطہ یہودکی یہودی جاگیردارانہ تنظیم کے نظریے کی حمایت کی تھی۔ صہیونیت کے متبادل کے طور پر ، سوویت حکام نے 1934ء میں  یہودی خودمختار آوبلاسٹ قائم کی ،  جوکہ  روس میں ابھی تک باقی روسی خودمختار اوبلاسٹ ہے۔

قرارداد بالفور اور تعہد  فلسطین[ترمیم]

مرکزی صفحات : بالفور قرارداد اور  تعہد  فلسطین( قانونی دستاویز)

1919ء : عالمی صہیونی تنظیم کی جانب سے پیرس امن اجتماع میں دعوی ٰکیا گیا فلسطینی خطہ

روسی یہودی مہاجر کھائیم ویزمان کی ترغیب کاری اور برطانوی حکومت کے خوف نے (کہ امریکی یہود امریکی حکومت  کی کمیونسٹ روس کیخلاف جرمنی کی حمایت  کرنے کی حوصلہ افزائی  نہ کردیں) ملکر جنگ عظیم اول کے اختتام پربرطانوی حکومت سے1917ءبالفور قرارداد منظورکروایا۔

اس قرارداد نے فلسطین میں یہودی  وطن کی توثیق کچھ یوں کی:

بادشاہ کی حکومت  فلسطین میں یہود کیلئے قومی وطن کے قیام کو التفات سے دیکھتی ہے ، اور اپنی بہترین کاوش کے استعمال سے اس مقصد  کے حصول کیلئے تسہیل مہیا  کریں گے-یہ وضاحت سے سمجھا جائے کہ کچھ ایسا نہ کیا جائے گا  جس سے غیر یہودی فلسطینی طبقات کے شہری اورمذہبی حقوق صلب  ہوں،  اور نہ ہی دیگر ممالک کے یہود کے سیاسی حیثیت اور حقوق  جو انکو حاصل ہوں-

1922ء میں ،  جمیعت اقوام  نے قرارداد منظور کرکے برطانیہ کو تعہد فلسطین  عطا کیا۔

اس  تعہد کا مقصد یہودی قومی وطن کے قیام کا تحفظ ،خود مختار ادارےکھڑےکرنا اور فلسطینی شہریوں کو بلا لحاظ مذہبی اور شہری حقوق کا تحفظ تھا -

ویزمین کو بالفور قرارداد میں اسکے کردار کی وجہ سے صہیونی تحریک کا رہنما چنا گیا جو وہ 1948ء تک رہا اور  بعدازاں آزادی ملنے کے بعد اسرائیل کا پہلا وزیراعظم  بنا۔

خواتین کی بین الاقوامی یہودی خواہری (برادری) کی متعدد اعلی درجے کی ترجمانوں نے خواتین کی پہلی یہودی مجلس میں شرکت کی، جو ویانا  آسٹریا میں مئی 1923ء کو منعقد ہوئی۔ قراردوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ " لہٰذا معلوم ہوتا  ہیکہ تمام یہود کی ذمہ داری ہےکہ   فلسطینی سماجی اقتصادی  تعمیر نو میں  اعانت اور اس ملک میں یہودی آبادکاری میں مدد دیں ۔

فلسطین کی جانب یہودی ہجرت اورزمینداروں سے یہود کی فلسطینی اراضی  کی عام خریداری  عربوں میں  بے اراضیت   کا سبب بنی، جس نے شورش کو ہوا دی ۔  1920,21ء اور 1929ء  میں دنگے پھوٹ پڑے  جس میں یہود و عرب دونوں ہی مارے گئے۔   تعہد فلسطین پر حکمرانی اور ذمہ داری برطانیہ کی تھی اور قرارداد بالفور  کے بعد ، اصولاًً برطانیہ یہودی نقل مکانی  کی  تائید کررہی تھی – لیکن ان  متشدد دنگوں  کے واقعات میں  پیل کمیشن نے فلسطین کیلئےنئے حدود و قیودکی تجاویز دیں۔

جرمنوں کے سواسٹکا کے نشان کو اختیار کرنے پر  تھیوڈور نیومن کاؤفمن نے جواباًً  ایک نسلی جنگ چھیڑی اور جِبِلی جرمنیت کے  تصور سے رجوع کیا، "جرمنی کا خاتمہ ضروری ہے  "کا  جرمنی مخالف  مضمون لکھا ،  جیسے  دوسری جانب روزنامہ  ایکسپریس  نازی مخالف مقاطعہ کی دعوت دیتا رہا، یونہی  ہٹلر سے قبل بھی جرمن سام مخالفت کے جواب میں بھی  مضامین لکھے جاتے رہے۔  "یہود نے مرگ انبوہ شروع کرائی " کے سازشی نظریے کو اسی بات نے جنم دیا، باوجودیکہ  نازی تشہیری وزیر یوسف گوئبلز  بڑی حد تک یہود کا قلع قمع کیا جانے اورمحب وطن یہود کو نظر اندز کرکے جرمن مخالف یہود ی مواد کی بطور ثبوت تشہیرکرنے  کا ذمہ دار تھا۔

ہٹلر کا عروج[ترمیم]

گورنمنٹ پریس آفس میں ڈیوڈ بن گوریان اعلان آزادی کرتےہوئے

1933ء میں ، ہٹلر جرمنی کے اقتدار میں آیا  اور 1935ء میں نوریمبرگ قوانین نے جرمن یہود (بعد میں آسٹریائی  اور چیک یہود بھی )کو بے ریاست پناہ گزین بنا ڈالا۔ کئی یورپی نازی اتحادیوں نے ایسے ہی قوانین نافذ کئے۔ بعد ازاں بڑھتی یہودی نقل مکانی اور نازی عربوں کے لئے کئےگئے پرچار  کی وجہ سے 1936 ء سے 1939 ء کے فلسطینی دنگے رونما ہوئے۔ برطانیہ نے تحقیقات  کے لئے پیل کمیشن بنایا،  دو ریاستی حل اور جبری منتقلی آبادی کی تجویز دی۔ برطانیہ نے یہ تجویز رد کی اور  1939ء کی رپورٹ کی تجاویز نافذ کردیں۔ جس کے مطابق 1944 ء تک  یہودی نقل مکانی کو ختم ہونا تھا اور صرف75000  اضافی سے زائد یہودی مہاجرین کو نقل مکانی  کی اجازت  تھی۔ یہ پالیسی برطانیہ نے تعہد فلسطین کے اختتام تک جاری رکھی۔

فلسطین میں یہودی برادری کی آبادی میں اضافے اور یورپی یہودی زندگی کی تباہی  نے  عالمی صہیونی تنظیم کو پس پشت ڈال دیا۔  ڈیوڈ بن گوریان کی قیادت میں فلسطین کے لئے یہودی ایجنسی  زیادہ تر امریکی صہیونیوں اور امریکی فلسطینی کمیٹی کی مدد سے  پالیسی کی ہدایات دیتے تھے۔

دوسری جنگ عظیم میں ، جب مرگ انبوہ کے بارے معلومات عام ہوتی گئیں ، صہیونی قیادت نے  ایک ملین کا پلان ترتیب دیا، جو در اصل بن گوریان کے بیس لاکھ مہاجرین میں کمی تھی۔ جنگ کے اختتام پر ، فلسطین میں ایک  بہت بڑی لہر تارکین وطن یہودکی آمڈ آئی ، جو اکثر مرگ انبوہ کے مظلومین تھے،اور برطانوی قوانین کی خلاف ورزی کرتے چھوٹی کشتیوں میں پہنچے تھے۔ مرگ انبوہ نے دنیائے یہود کو صہیونی منصوبے کے تحت یکجا کردیا تھا۔برطانیہ نے ان یہود میں سے کچھ کو قبرص میں قید کیا یا برطانوی زیر تسلط جرمن علاقوں میں بھیج دیا –جس کی وجہ سے یہودی نقل مکانی کی وجہ سے عرب بغاوت کا سامنہ کرنے کے بعد اب برطانیہ کو فلسطین میں صہیونی گروہوں کی مخالفت کا سامنا تھا۔ جنوری 1946ء میں برطانوی امریکی مشترکہ کمیٹی بنائی گئی تاکہ بے پایاں یہودی نقل مکانی فلسطین کے سیاسی ، معاشی  اور سماجی   محرکات کی جانچ اورفلسطینی شہریوں کی بہبود   ہوسکے ،عرب اور یہود ترجمانوں سے مشاورت اور دیگر ضروری تجاویز دی جاسکیں ، ان مسائل کا حتمی  حل ڈھونڈا جاسکے – تاہم آخر میں کمیٹی کی سفارشات کو عرب و یہود دونوں نے رد کردیا چنانچہ برطانیہ نے مسئلہ اقوام متحدہ میں لے جانے کا فیصلہ کیا

بعد ازجنگ عظیم دوم[ترمیم]

عرب اسرائیل جنگ ١٥مئی تا ١٠ جون ١٩٤٨ء ۔ فوجوں کا حجم ، محل وقوع اور عرب حملے-

1941ء کے روسی حملے کے ساتھ، سٹالن نے  صہیونیت کی دیرپا  مخالفت پلٹ دی، اور سوویت جنگ کے لئے عالمی یہودی حمایت کو متحرک کی۔ ایک یہودی (فسطائی) فاشسٹ کمیٹی ماسکو میں قائم کی گئی۔ دوران جنگ ہزاروں یہود نازی جرمنی سے فرار ہو کر سوویت  اتحادمیں داخل ہوئے، جہاں انہوں نے پھر سے یہودی مذہبی سرگرمیاں شروع کیں اور نئے کنیسے کھولے۔مئی 1947ء میں سوویت ڈپٹی وزیر خارجہ آندرے گرومیکو نے اقوام متحدہ کو بتایا کہ متحدہ ریاستہائے سوویت روس فلسطین کی عرب اور یہودی حصوں میں تقسیم کی حمایت کرتا ہے، اور یونہی متحدہ ریاستہائے سوویت روس نے باقاعدہ اقوام متحدہ کے  نومبر 1947ء کے اجلاس میں رائے دی۔تاہم جب اسرائیل قائم ہوچکا تو ، سٹالن نے  اپنی رائے بدل دی  اور عربوں کی طرفداری شروع کی، یہودی فاشسٹ مخالف کمیٹی کے قائدین کو قید کرلیا  اور یونہی متحدہ ریاستہائے سوویت روس میں یہود پر حملے شروع کردئے۔

1947ء میں ، اقوام متحدہ خصوصی کمیٹی برائے فلسطین نے سفارش کی کہ مغربی فلسطین کو یہودی ریاست بنایا جائے اور القدس کے اطراف کا علاقہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں دیا جائے۔ یہ  تقسیمی منصوبہ 29 نومبر 1947ء کو 33/181 ووٹوں کیرائے دہی کے ذریعے اختیار کیا گیا، جبکہ 13 ووٹ مخالف تھے۔ عربوں نے اس رائے دہی کی مخالفت کی ، اور یک ریاستی منصوبہ اور یہودی تارکین وطن کی منتقلی کا مطالبہ کرتے رہے، جسکے بعد 1948ء کی عرب اسرائیل جنگ ہوئی۔

یمنی یہود آپریشن طلسمی قالین کے دوران اسرائیل جاتے ہوئے۔

14 مئی1948ء کو ، تعہدبرطانیہ کے اختتام پر ،یہودی ایجنسی ڈیوڈ بن گوریان کی قیادت میں ریاست اسرائیل  کے قیام کا اعلان کیااور اسی روز سات عرب ریاستوں نے اسرائیل پر حملہ کیا، جس کی وجہ سے  7,11,000فلسطینی عرب  سے بیدخل کئے گئے جسے عربی میں نکبہ یعنی عظیم آفت کہا گیا۔ بعد ازاں اسرائیلی حکومت نے قوانین کا ایک سلسلہ منظور کیا  جسکے تحت فلسطینیوں کو واپسی اور املاک کے دعوی ٰٰ کے حق سے محروم کیا گیا،وہ  اپنے ہی علاقوں میں مع اپنے اولاد پنا ہ گزیں ہی رہے۔ فلسطینیوں کی بیدخلی کو بہت سے حلقوں میں نسل کشی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہودی اور فلسطینی مؤرخوں کے مابین بڑھتے اتفاق رائے کے مطابق   دیگر وجوہات کے علاوہ فلسطینیوں کی بیدخلی اور قصبوں کی تباہی  فلسطینی پنا ہ گزینوں کی ابتداء کا حصہ بنی۔

اسرائیلی ریاست کے قیام  کے بعد سے، عالمی صہیونی تنظیم  نے زیادہ تر یہودکی نقل مکانی میں امداد اور حوصلہ افزائی کرتی تنظیم کے طور پر کام کیا – اس نے اسرائیلی ریاست کے لئے دیگر ممالک میں سیاسی  حمایت مہیا کی لیکن اسرائیلی داخلی سیاست میں کم کردار ادا کیا۔ 1948ء کے بعد سےاس تحریک کی بڑی کامیابی نقل مکانی کرتے یہود کے لئے رسدی اعانت مہیا کرنا  تھی،  اور زیادہ اہمیت کے ساتھ ، روسی یہود کی حکام کے ساتھ روس کو چھوڑنے کے حق میں جدوجہد ،اپنے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی اور 8,50,000  بیدخل عربی یہود کی عرب سے اسرائیل نقل مکانی میں تعاون تھا۔45 -1944ء میں  ڈیوڈ بن گوریان  نے  غیر ملکی حکام کے سامنے منصوبہ دس لاکھ  کو صہیونی تحریک کا اولین ہدف اور اعلی ترین ترجیح قرار دیا۔ 1948ء کی  برطانوی تحقیقاتی رپورٹ کی پابندیوں کا مطلب یہ تھا کہ ایسا کسی منصوبہ بڑے پیمانے پر عمل در آمد نہیں ہوسکتا جبتک مئی 1948 کے اسرائیلی خودمختاری کا اعلان نہ کردیا جائے – نئے ملک کی نقل مکانی کی پالیسی کو خود اپنی حکومت ہی میں مخالفت کا سامنا بھی تھا ، جیسے کچھ کا خیال تھا کہ ایسے یہود جن کی زندگیوں کو کوئی خطرہ  نہیں انکے لئے اس قدر بڑے پیمانے پر نقل مکانی  کا انتظام کرنے کا کوئی معقول جواز نہیں ، خاصکر جب انہیں خود اس کی طلب اور رغبت  نہیں ، ساتھ ہی ساتھ یہ کہ انکے لئے انجذاب کا عمل غیر ضروری مشکلات کا حامل ہے۔ بہر کیف بن گوریان کے اثر و رسوخ اور اصرار نے  نقل مکانی کی پالیسی پر عمل پیراہی کو یقینی بنایا۔

اقسام[ترمیم]

عالمی کثیر القومی  صہیونی تحریک کی ساخت  جمہوری نمائندہ  اصول پر مبنی ہے۔ نشستیں ہر چار سال بعد (جنگ عظیم دوم سے قبل ہر دو سال بعد)منعقد ہوتی ہیں،اور  مجلس کے مندوب  منتخب کرتی ہیں – ارکان کو واجبات (شیقل ) ادا کرنا ہوتی ہیں۔ مجلس میں مندوبین 30 افراد کی ایک مجلس عاملہ  منتخب کرتی ہے جو تحریک کے قائد کا انتخاب کرتی ہے۔تحریک اپنے آغاز سے جمہوری تھی جہاں عورتوں کو حق رائے دہی حاصل تھا۔

1917ء تک، عالمی صہیونی تنظیم نے مسلسل محدود نقل مکانی اور یہودی قومی مد (فنڈ) جیسے ادارے (1901ء کاایک خیراتی  ادارہ  جو یہودی آبادکاری کے لئے زمینیں خریدتا تھا ) اور انگریز فلسطینی بنک (از 1903ء  جو یہودی تاجروں اور کسانوں کو قرضہ حسنہ فراہم کرتاتھا) بناکر یہودی قومی وطن بنانے کی حکمت عملی اپنائی  ۔1942ء میں بالٹیمور مجلس کے دوران ، تحریک نے پہلی بار ارض اسرائیل میں یہودی ریاست کے قیام کا اپنا مقصد کھلے طور پر شامل کیا –

1968 ء القدس میں 28ویں صہیونی مجلس  نے پانچ نقاطی درج ذیل 'یروشلم پروگرام' اختیار کیا ، جنہیں اب صہیونیت کا مقصدبھی کہتے ہیں :

  •       یہود کا اتحاد اور یہودی طرز زندگی میں اسرائیل کی مرکزیت۔
  •      تمام ممالک سے علیا کے ذریعے  یہود کا  تاریخی ارض اسرائیل میں اجتماع ۔
  •      امن وانصاف  کی پیغمبرانہ پیشنگوئیوں پر مبنی ریاست اسرائیل کو استحکام دینا۔
  •      عبرانی تعلیم ،روحانی و ثقافتی یہودی اقدار کے تحفظ کے ذریعے یہودی  شناخت کا تحفظ۔
  •      یہودی  حقوق کی  عالمگیر حفاظت۔

جدید اسرائیل کے قیام   کے بعد سے ، اس تحریک  کا کردار گھٹتا رہاہے۔ صہیونی تحریک اب اسرائیلی سیاست میں ثانوی عنصر ہے، اگرچہ اس کے مختلف  پہلو اسرائیلی اور یہودی سیاست میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں ۔

عمالی صہیونیت[ترمیم]

1958ء : شامیر کے کھیتوں میں کیبوتس برادری ہاتھوں سے کپاس چنتے ہوئے-

مرکزی  صفحہ : عمالی صہیونیت

1947ء میں مشمار ہائمک کیبوتس میں عرب اسرائیل جنگ کے دوران خواتین جنگی تربیت لیتے ہوئے-

عمالی صہیونیت مشرقی یورپ سے شروع ہوئی۔  اشتراکیت پسند صہیونیوں کا ماننا تھا کہ سام مخالف معاشروں میں صدیوں کے مظالم نے یہود کو بے ہمت،  غیر محفوظ اور زندگی سے مایوسی  کردیا تھا جس کی وجہ سے ضد سامیت مزید بڑھی،  اولا یہ نظریہ تھیوڈور ہرتذل نے پیش کیا تھا۔ ان صہیونیوں  دلیل تھی کہ یہودی روح اور معاشرے میں انقلاب ضروری ہے جسے ان یہود کے لئے قابل حصول ہونا چاہئے جو نقل مکانی کے بعد ارض فلسطین میں اپنے وطن کے لئے کسان، مزدوراور فوجی بننے جارہے ہیں – اکثر اشتراکی  صہیونیوں نے روایتی مذہبی یہودیت کےاختیار کرنے کو رد کردیا تھا  کیونکہ اس سے جلاوطنی کی سوچ کو دوام ملتا تھااور اسرائیل میں کیبوتسیم کے نام سےدیہاتی  برادریاں  قائم کیں۔ کیبوتس نے قومی مضروعی(کھیت)منصوبے کی بدلی ہوئی شکل کے طور پر ابتداء کی ،  یہ ایک تعاونی  زراعت کی قسم تھی جسمیں یہودی قومی مد(فنڈ) یہودی مزدوروں کو تربیت یافتہ نگرانی  میں اجرت پر لیتی تھی۔ دوسری علیا  کی علامت سمجھی جانے والی کیبوتسیم میں اشتراکیت اور انسانی مساوات پر بہت زور دیا جاتا ، جوکسی حد تک تخیلی و مثالی اشتراکیت کا اظہار تھا ۔ مزید برآں ، وہ خود انحصاری پر زور دیتے ، جو کہ عمالی صہیونیت کا  ایک اہم پہلو بنا۔ اگرچہ اشتراکی صہیونیت یہودیت کے بنیادی اقدار اور روحانیت سے تاثر لیتی اور اسکےفلسفے پر مبنی ہے ، اس کا اصلاحی و ترقیاتی پہلو راسخ العقیدہ یہودیت سے ایک حریفانہ تعلق کوفروغ دیتا ہے۔

1924ء میں قائم سب سے بڑی صیہونی نوجوانوں کی اشتراکیتی تحریک نوال کی اسرائیلی نوجوان لڑکیاں ، یہودی مزاحمتی جنگجو سمچہ روطم کے ساتھ

عمالی صہیونیت  تعہدی فلسطین کے دوران یشوو کی سیاسی اور معاشی طرز زندگی میں ایک غالب قوت بنی اور اسرائیلی سیاسی اختیاراتی حاکمیت(اسٹبلشمنٹ)کا مؤثر نظریہ  رہی، یہاں تک کہ 1977ء کے الیکشن میں  اسرائیلی عمالی جماعت کو شکست ہوئی۔ اگرچہ کیبوتسیم میں سب سے مقبول جماعت میریطز ہے تاہم اسرائیلی عمالی جماعت نے بھی اپنا وجود نہیں کھویا – عمالی صہیونیت کو مرکزی  ادارہ  حستادرط (مزدورانجمنوں کی عام تنظیم)ہے ، جس نے  1920ء سے 1970ء کی دہائی تک عرب مزدوروں کی ہڑتالوں  کے دوران  متبادل یہودی مزدور مہیا کرنے سے ابتداء کی اور اسرائیلی حکومت کے بعد سب زیادہ نوکریاں دینے والا ادارہ رہا ۔


آزاد خیال صہیونیت[ترمیم]

مرکزی صفحہ :  عمومی صہیونی

1897ء کی پہلی صہیونی مجلس سےپہلی جنگ عظیم کے اختتام تک عمومی   صہیونیت (یا آزاد خیال صہیونیت) کا پلہ صہیونی تحریک کے پرحاوی رہا ہے – یورپی  آزاد خیال متوسط طبقےسے تعلق رکھنے والے عمومی صہیونی  قائدین جیسے ہرتذل اورکھائیم ویزمین جس کے خواشمند رہے تھے- اگرچہ   کسی بھی اسرائیلی جدید سیاسی جماعت کاآزاد خیال  صہیونیت  سے  براہ راست تعلق نہیں ،اس کے باوجود  اسرائیلی سیاست میں اس کا رجحان کافی مضبوط ہے  جو  آزاد تجارتی اصولوں ، جمہوریت اور انسانی حقوق پر عملدرآمد کی حامی ہے- کدیمہ  ،2000 کی دہائی کی معتدل بڑی سیاسی  جماعت اب  غیر مؤثر ہے- تاہم  بنیادی آزاد خیال صہیونی نظریہ  کے لئے پہچانی جانے والی یہ جماعت ،دیگر امور کیساتھ ساتھ  فلسطینی ریاست ، آزادانہ تجارت اور اسرائیلی عربوں کے مساوی حقوق کی حمایتی رہی ہے تاکہ اسرائیل میں ایک بہتر جمہوری معاشرہ قائم کیاجاسکے-2013ء میں میں اری شاویت نے تجویز دی کہ نئی یش اتید جماعت (جو کہ  سیکولر غیرمذہبی ، متوسط طبقہ کے مفادات کی ترجمان   کرتی ہے) نئے عمومی صہیونیوں کی کامیابی کی ظاہری شکل ہے- درور ذیگ مین لکھتا ہے کہ سماجی عدل پر،قانون و انصاف  پر،ریاست اور مذہب کے معملات میں تکثیریت و برداشت   پر، خارجہ پالیسی اور سلامتی (سیکورٹی)میں اعتدال اور لچک  پر ، عمومی صہیونیوں کا روایتی  آزاد خیال نظریہ  اب بھی کئی متحرک اہم سیاسی حلقوں میں پسند کیا جاتا ہے-

فلسفی  کرلو سٹرنگر  (اپنے "خواندہ اسرائیلی قوم  " کے تصور کی تائید کرتے ہوئے )  موجودہ  دور کی آزاد خیال صہیونیت کو بیان کرتا ہے کہ ،  یہ ہرتذل اور احد حام کی اولین نظریہ کے اساس  میں چھپی ہے، جو  دائیں بازو کی رومانوی قوم پرستی اور نیتزاہ اسرائیل کی  انتہائی راسخ الاعتقادی کے بر خلاف ہے- جمہوری اقدار اور انسانی حقوق  ، غداری کے الزامات کے بغیر سرکاری حکمت عملیوں پر تنقیدکی آزادی اورعوامی زندگی پر  بے جا مذہبی  اثراندازی  کی تردید  وغیرہ سےغرض  رکھنا اسکی خاصیت ہے- آزاد خیال صہیونیت  یہودی روایات کی سب سے زیادہ معتبر خاصیات پر عمل پیرا ہے، یعنی تند و تیز بحث کے لئے رضامندی، داوکا کی متضاد روح، آمریت کے سامنے گھٹنے ٹیک دینے سے انکار- آزاد خیال صہیونیوں کا ماننا ہے کہ " یہودی تاریخ بتاتی ہے کہ یہود کو اپنی قومی ریاست کا حق رہا ہے – اور یہ بھی کہ اب اس ریاست کو  آزاد خیال جمہوریت ہی ہونا چاہئے، جسکا مطلب ہے کہ  مذہب ، جنس اور نسلی تعصب سے آزادمکمل قانونی  برابری ہے-

تصحیحی صہیونیت[ترمیم]

تصحیحی صہیونیت کے بانی زئیف ژابوتنسکی، صہیونی مجلس میں

مرکزی صفحہ : تصحیحی صہیونیت

تصحیحی صہیونیت  جسکے قائد  اور بانی زئیف ژابوتنسکی تھے اور جو قومی صہیونییت  کہلانے لگی، اس کے رہنما اصول 1923ء کے مضمون آہنی دیوار میں وضع کئے گئے- 1935ء میں تصحیح پسندوں نے عالمی صہیونی تنظیم سے علیحدگی اختیار کی کیونکہ وہ  بطور مقصد یہودی ریاست کے قیام کو ظاہر نہیں کرتے تھے-

ژابوتنسکی کا ماننا تھا کہ،

ہر آبادیاتی تحریک کا یہ ایک آہنی اصول ہے ، ایسا اصول جس سے کوئی بھی مستثنی نہیں، جو ہر  زمان و مکان میں موجود رہا-وہ اصول ہے کہ اگر آپ ایسی زمین پر آبادکاری کرنا چاہتے ہیں جہاں لوگ پہلے سے مقیم ہوں، آپ کو اپنے لئے چھاونی بنانی پڑے گی، یا پھر آپ آبادکاری کا خواب چھوڑ دیں، کیونکہ ایک مسلح قوت جو آبادکاری کو روکنے یا تباہ کرنے کی کسی بھی قسم کی کوشش کو واقعاتاً ناممکن بنا دے اسکے بغیر آبادکاری ناممکن ہے، مشکل نہیں، خطرناک نہیں، مگر نا ممکن ! صہیونیت ایک نوآبادیاتی مہم جوئی ہے لہٰذااس صہیونیتی مہم جوئی کی عمارت صرف مسلح قوت کے سہارے ہی کھڑی رہ سکتی ہے – اسرائیل کا بننا ضروری ہے، عبرانی کا گفتاری زبان بننا بھی ضروری ہے لیکن بدقسمتی سے ان سے بھی زیادہ (اسلحہ) داغنے کے قابل ہونا ضروری ہے  وگرنہ میں اس آبادیاتی  کھیل کا حصہ نہیں ہوں- 

اور یہ کہ

اگرچہ یہود کا ماخذ مشرق ہے، لیکن ہم ثقافتاً، اخلاقاً اور روحانی طور پہ مغرب سے ہیں – ژابوتنسکی  صہیونیت  کو بطورمرغوبِ یہود ارض اسرائیل میں واپسی کے بجائے مغربی تہذیب کی مشرق میں پیوندکاری اور شاخ سمجھتا تھا- یہ نظریائے عالم، جغرافیائی ستراتجیاتی (حکمت عملی) کے نظریے میں بدلا جس میں صہیونیت کو دائما ًتمام مشرقی بحیرہ روم کے عربوں کے بالمخالف یورپی استعماریت میں ساتھ دینا تھا-

تصحیحی صہیونیوں نے فلسطین میں عرب آبادی سے یہودی بھاری نقل مکانی بزور منوانےکیلئے ہمیشہ یہودی فوج کے قیام کی حمایت کی ہے-

تصحیحی صہیونیت کے حامیوں نے اسرائیل میں لیکوڈ جماعت بنائی،  جو 1977 ء کے بعد ہر حکومت میں بڑی تعداد میں موجود رہی ہے-  یہ مغربی پٹی بشمول مشرقی القدس پر قبضہ برقرار رکھنے کی حامی ہےاور عرب اسرائیل تنازع میں سخت  نقطہ نظر  اپنایا- 2005ء میں اسرائیلی جماعت لیکوڈ  مقبوضہ علاقوں میں فلسطینی ریاست کے قیام پر تقسیم ہوگئی، جن میں سے امن مذاکرات پر منقسم ارکان نے کدیمہ جماعت بنانے میں مدد کی-


مذہبی صہیونیت[ترمیم]

مرکزی صفحہ: مذہبی صہیونیت

مذہبی صہیونیت  ایسا نظریہ ہے جو صہیونیت اور  باعمل  یہودیت کو یکجا کرتا ہے- اسرائیلی ریاست کے قیام سے قبل ، مذہبی  صہیونی زیادہ تر  باعمل یہود تھے جو ارض مقدسہ میں یہودی ریاست کے قیام کی کوششوں کی حمایت کرتے تھے-

6روزہ جنگ اور مغربی کنارے (جسے یہودی اصطلاح میں یہوداہ اور سماریہ کہا جاتا تھا  ) پرقبضہ کے بعد  ، مذہبی صہیونی تحریک کے دائیں بازو کے حصوں نے قومی برات کو مذہبی صہیونیت میں شامل کر کے صہیونیت نواز میں تبدیل ہوئے- انکا نظریہ تین ستونوں کے گرد گھومتا ہے -

  • ارض ِاسرائیل،
  • قوم ِاسرائیل اور
  • تورات ِاسرائیل -

سبز صہیونیت[ترمیم]

مرکزی صفحہ : سبز صہیونیت

سبز صہیونیت، صہیونیت کی وہ شاخ  جو بنیادی طور پر اسرائیلی  ماحول اور فضا کے ساتھ تعلق رکھتی ہے – اکیلی ماحولیاتی صہیونی جماعت سبز صہیونی اتحاد ہے-

بعد از صہیونیت[ترمیم]

20ویں صدی کے آخری پاؤ میں ،  تاریخی و مثالی  قومیت اب زبوں حالی کا شکار ہے –جس نے اب بعد از صہیونیت کو جنم دیا- بعد از صہیونیت زور دیتا ہے کہ یہودی قوم کی ریاست  کا نظریہ اسرائیل کو ترک کردینا چاہئےاور اپنے تمام شہریوں کی ریاست بننے کی کوشش کرنی  چاہئے یا دو قومی ریاست بننا چاہئے  جہاں عرب اور یہود ایک ساتھ رہ کر یکساں خودمختار ہوں-


ترجمہ و تکمیل جاری ہے

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Motyl 2001، صفحات۔ 604..
  2. Theodor Herzl۔ "Biography, by Alex Bein"۔ Der Judenstaat۔ ترجمہ از Sylvie d'Avigdor۔ New York: Courier Dover۔ صفحہ 40۔ آئی ایس بی این 978-0-486-25849-2۔ اخذ شدہ بتاریخ ستمبر 28, 2010۔
  3. "Zionism"۔ Oxford Dictionary۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جون 30, 2016۔
  4. "Zionism | nationalistic movement"۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جون 30, 2016۔
  5. Ben-Ami Shillony۔ Jews & the Japanese: The Successful Outsiders۔ Tuttle Publishing۔ صفحہ 88۔ آئی ایس بی این 978-1-4629-0396-2۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ '(Zionism) arose in response to and in imitation of the current national movements of Central, Southern, and Eastern Europe.'
  6. Mark LeVine؛ Mathias Mossberg۔ One Land, Two States: Israel and Palestine as Parallel States۔ University of California Press۔ صفحہ 211۔ آئی ایس بی این 978-0-520-95840-1۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ The parents of Zionism were not Judaism and tradition, but antiSemitism and nationalism. The ideals of the انقلاب فرانس spread slowly across یورپ, finally reaching the تحدیدی آبادکاری in the سلطنت روس and helping to set off the حثکالا, or Jewish Enlightenment. This engendered a permanent split in the Jewish world, between those who held to a halachic or religious-centric vision of their identity and those who adopted in part the racial rhetoric of the time and made the Jewish people into a nation. This was helped along by the wave of پوگرومs in Eastern Europe that set two million Jews to flight; most wound up in ریاستہائے متحدہ امریکا, but some chose Palestine. A driving force behind this was the Hovevei Zion movement, which worked from 1882 to develop a Hebrew identity that was distinct from یہودیت as a religion.
  7. James L. Gelvin۔ The Israel-Palestine Conflict: One Hundred Years of War۔ Cambridge University Press۔ صفحہ 93۔ آئی ایس بی این 978-1-107-47077-4۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ The fact that Palestinian nationalism developed later than Zionism and indeed in response to it does not in any way diminish the legitimacy of Palestinian nationalism or make it less valid than Zionism. All nationalisms arise in opposition to some "other". Why else would there be the need to specify who you are? And all nationalisms are defined by what they oppose. As we have seen, Zionism itself arose in reaction to anti-Semitic and exclusionary nationalist movements in Europe. It would be perverse to judge Zionism as somehow less valid than European anti-Semitism or those nationalisms. Furthermore, Zionism itself was also defined by its opposition to the indigenous Palestinian inhabitants of the region. Both the "conquest of land" and the "conquest of labor" slogans that became central to the dominant strain of Zionism in the Yishuv originated as a result of the Zionist confrontation with the Palestinian "other".
  8. Robin Cohen۔ The Cambridge Survey of World Migration۔ Cambridge University Press۔ صفحہ 504۔
  9. James Gelvin۔ The Israel–Palestine Conflict: One Hundred Years of War۔ Cambridge University Press۔ صفحہ 51۔ آئی ایس بی این 0521888352۔
  10. Ilan Pappe, The Ethnic Cleansing of Palestine, 2006, p.10–11
  11. Motyl 2001.
  12. Ahad Ha'am, The Jewish State and Jewish Problem, trans. from the Hebrew by Leon Simon c 1912, Jewish Publication Society of America, Essential Texts of Zionism
  13. Nur Masalha (September 15, 2007). The Bible and Zionism: Invented Traditions, Archaeology and Post-Colonialism in Palestine- Israel[1]. Zed Books. p. 314. ISBN 978-1-84277-761-9.
  14. Ned Curthoys; Debjani Ganguly (2007). Edward Said: The Legacy of a Public Intellectual[2]. Academic Monographs. p. 315. ISBN 978-0-522-85357-5. Retrieved May 12, 2013.
  15. Nādira Shalhūb Kīfūrkiyān (May 7, 2009). Militarization and Violence Against Women in Conflict Zones in the Middle East: A Palestinian Case-Study[3]. Cambridge University Press. p. 9. ISBN 978-0-521-88222-4. Retrieved May 12,2013.
  16. Paul Scham; Walid Salem; Benjamin Pogrund (October 15, 2005). Shared Histories: A Palestinian-Israeli Dialogue[4]. Left Coast Press. pp. 87–. ISBN 978-1-59874-013-4. Retrieved May 12, 2013.
  17. Nicholas De Lange۔ Introduction to Judaism۔ Cambridge University Press۔ صفحات p. 30۔ آئی ایس بی این 0-521-46624-5۔
  18. unispal (September 3, 1947). "UNSCOP Report to the General Assembly, Volume 1, Chapter II, Par. A., 12 (doc.nr. A/364)". United Nations Special Committee on Palestine. Archived from the original on January 16, 2013. Retrieved May 2, 2012.