بھارت میں اسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بھارت میں اسلام
Jama Masjid Delhi.JPG
جامعہ مسجد دہلی
معلومات ملک
نام ملک Flag of India.svg بھارت
کل آبادی 1,129,866,154
ملک میں اسلام
مسلمان آبادی 189,000,000[1]
فیصد ~14.2٪[2]
اہل سنت آبادی 123,600,000
اہل تشیع آبادی 30,900,000

بھارت میں ہندو مت کے بعد اسلام کے پیرو کار زیادہ ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کی آبادی 14.2% سے بھی زائد ہے۔ 2011 کی مردم شماری کے لحاظ سے 172 ملین اور 2008 مردم شماری کے مطابق 154 ملین تھی۔[3][4]

بھارت کی مسلم آبادی دنیا کی تیسری سب سے بڑی مسلم آبادی ہے۔[5] اور دنیا کی سب سے بڑی مسلم اقلیتی آبادی ہے۔[6]

تاریخ[ترمیم]

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دور ہی میں بھارت میں اسلام کی تبلیغ ہوئی۔ جنوبی ہند کے بحری راستوں سے آئے عرب تاجرین کے ذریعہ بھارت میں اسلام کی تبلیغ شروع ہوئی۔ صحابی مالک بن دینار بھارت کی جنوبی ریاست کیرالا کے ساحلی علاقہ میں تشریف لائے اور وہاں کے علاقائی بادشاہ سے ملاقات کی، بعد میں اس بادشاہ نے اسلام قبول کر لیا۔

بھارت عرب تجارتی تعلقات[ترمیم]

بر صغیر اور عرب کے درمیاں تجارتی تعلقات بہت پرانے ہیں۔ بھارت میں اسلام سے قبل ہی عرب جنوبی ہند کے مالاباری علاقوں میں آتے تھے۔ ساتویں صدی عیسوی کے قریب مسلمان عرب آنے لگے۔ شیخ زین الدین مخدوم کی تحفۃ المجاہدین میں اس کے متعلق شواہد موجود ہیں ۔[7] 629ء میں تعمیر شدہ چیرامن مسجد، بھارت کی پہلی جامع مسجد ہے۔

بھارت میں مالابار کی موپلا قوم نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ عربوں اور ماپلاؤں کے درمیاں بہترین تعلقات تھے۔

ہند اسلامی فنِ تعمیر[ترمیم]

گول گنبد، بیجاپور جو دنیا کی دوسری بڑی گنبد ہے
بہا الدن کا مقبرہ
400 سال پرانی مسجد مكة حیدر آباد۔ Photo: 1885.
دہلی جامع مجد کی تصویر 1852ء

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

Articles