میگھالیہ میں اسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

میگھالیہ بھارت کی شمال مشرقی ریاستوں میں سے ایک ہے۔ یہاں کی کل آبادی2001 کی مردم شماری کے حساب سے 2,318,822 ہے۔ ان میں مسلمانوں کی تعداد 99,169 ہے جن میں مردوں کی 52,455 ہے اور خواتین کی تعداد 46,714 ہے۔[1]

مسلم آبادی[ترمیم]

میگھالیہ کے مسلمان کھاسی، آسامی، بنگالی، ہندی اور نیپالی بولتے ہیں۔ 2013 تک یہاں کی قبائلی آبادی سے وابستہ سعیداللہ نونگروم یہاں کے ریاستی وزیر تھے۔ غیر منقسم آسام میں برطانوی دور میں اسی علاقے سے وابستہ سید محمد سعداللہ ریاست کے پہلے وزیر اعظم تھے۔ اسی طرح سے سر اکبر حیدری آسام کے پہلے گورنر رہ چکے ہیں۔ سابق صدر جمہوریہ فخرالدین علی احمد بھی یہیں سے وابستہ رہے ہیں۔[2] تاہم علاقے میں مسلم نمائندگی گھٹ رہی ہے۔ جہاں 2013 کے انتخابات سے قبل ریاستی اسمبلی میں چار مسلم ارکان تھے، وہاں آج صرف ایک رکن اسمبلی موجود ہے۔[3]

مسلمانوں کی ایک محدود تعداد سرکاری ملازمت رکھتی ہے۔ کچھ مسلمان ذاتی کاروبار میں لگے ہیں جن میں جوتے بنانے کا کاروبار مشہور ہے۔ اس کے علاوہ مسلمانوں کا ایک معتد بہ حصہ گوشت کا کاروبار کرتا ہے۔

عمومًا ہندی بولنے والے مسلمان غیر مقامی ہیں اور یہاں کے قوانین کی رو سے وہ زمین یا مکان خرید نہیں سکتے۔[2]

تعلیمی ادارے[ترمیم]

یہاں کے ایک اُم شِرپی کالج میں 300 مسلم طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ اس کے علاوہ مدرسہ حمایت الاسلام اور اسلامیہ سیکینڈری اسکول مشہور مسلم ادارے ہیں۔[2]

مسلم تنظیمیں[ترمیم]

اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن (ایس آئ او)، شیلانگ مسلم یونین اور سینگ بھالانی اسلام یہاں کی چند مسلم تنظیمیں ہیں۔[2]

مساجد[ترمیم]

شیلانگ شہر میں چھ مساجد ہیں۔ یہ پولیس بازار، لابن، لَیْتُم کھڑا، گڑھی خانہ، باڑہ پتھر اور جھالُوپاڑا میں واقع ہیں۔ لابن اور ماؤپریم میں دو قبرستان واقع ہیں۔ اور لَیْتُم کھڑا، لابن اور ماؤپریم میں تین عیدگاہ ہیں۔[2]

ایک اور مسجد شیلانگ ہی میں 120 فیٹ اونچی اور 61 فیٹ چوڑی بھارت کی اولین شیشے کی مسجد لہان علاقے تعمیر کی گئی ہے۔[4]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]