فقہ جعفری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مضامین بسلسلہ

فقہ

ائمہ فقہ

امام ابو حنیفہ · امام مالک
امام شافعی · امام احمد بن حنبل
امام جعفر صادق

فقہ خمسہ

فقہ حنفی · فقہ شافعی
فقہ مالکی · فقہ حنبلی
فقہ جعفری

تقسیم بلحاظ تقلید

احناف · شوافع
مالکی · حنابلہ
مجتہدین · غیر مقلد

اقسام جائز و ناجائز

فرض <=> حرام
واجب <=> مکروہ تحریمی
سنت مؤکدہ <=> اساءت
سنت غیرمؤکدہ <=> مکروہ تنزیہی
مستحب <=> خلافِ اولی
مباح



شریعت اسلامی کی اصطلاح میں امام جعفر صادق کی فقہ پر عمل کرنے والے مسلمان جعفری کہلاتے ہیں۔

اور ان کا مکتب فقہی مکتب جعفریہ بھی کہلاتا ہے۔ البتہ کوئی شخص براہ راست اس فقہ پر عمل نہیں کر سکتا بلکہ متبحر علما کرام امام جعفر صادق کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اجتہاد کرتے ہیں اور ہر دور میں کئی مجتہدین عظام ہوتے ہیں عام لوگ ان مجتہدین عظام میں سے کسی کی تقلید کرتے ہیں۔ جس مجتہد کی لوگ تقلید کریں اس مجتہد کو مرجع تقلید کہتے ہیں اس طرح ہر دور میں شیعہ مراجع کرام اہل تشیع لوگوں کی دینی رہنمائی کرتے آئے ہیں۔ ہر مجتہد کی فقہی احکام کی کتاب اس کی توضیح المسائل کہلاتی ہیں۔ یعنی بطور مثال سید علی سیستانی مرجع مجتہد کی فقہی کتاب “سیستانی کی توضیح المسائل‘‘ کہلاتی ہے۔ امام جعفر صادق علیہ السلام نے اپنے دور میں آٹھ ہزار شاگردوں کی تربیت کی (ان شاگردوں میں سے دو شاگرد امام ابو حنیفہ اور امام مالک بھی ہیں ذیلی بحث میں حوالہ موجود ہے)۔ امام جعفر صادق کے درخشاں و زریں اصول “تفقہ فی الدین“ یعنی اجتہادی اصولوں اور اصول فقہ کی وجہ سے ان کے دور کے شاگردوں کے علاوہ حالیہ دور تک بھی ان کے شاگردان چلے آ رہے ہیں جو انہی کے تعلیم دیے گئے اجتہاد کرنے کے بنیادی اصولوں کو سامنے رکھ کر اجتہاد و استنباط کرتے ہیں۔

پس منظر

اہل تشیع امام علی علیہ السلام (شہادت 40 ھ) ہی کے شیعہ ہیں اور جو ہمہ وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ رہنے والے صحابی ہونے کے علاوہ اہل بیت میں بھی شمار ہوتے ہیں۔ امام علی علیہ السلام نے دین بطور مستقیم مدینۃ العلم رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اخذ کیا تھا اور خود باب العلم تھے اور اہل تشیع ان کی فقہ کو مانتے ہیں جس فقہ کو جعفری مکتب فقہ کے نام سے پکارا جاتا ہے کیونکہ (جعفر صادق پیدائش 83ھ وفات 148ھ) نے اس مکتب شیعہ کو ظلم و جبر کے دور کو چھٹنے کے بعد نئے سرے سے بیان کیا تھا۔
مگر اہلسنت و الجماعت کے چار ائمہ ہیں اور چار مکتب فقہی ہیں۔ اہل سنت کے یہ چاروں خود ساختہ مکاتب فقہ، فقہ جعفری (شیعہ مکتب فقہ) کے بہت سالوں بعد وجود میں آئے ہیں [حوالہ درکار]۔ اور ان چاروں مکاتب کے بانیان صحابی تک نہ تھے۔ اور مکتب جعفری کے بانی حضرت علی بن ابی طالب جیسی عظیم شخصیت تھی۔ [حوالہ درکار]

فقہی ائمہ کرام بلحاظ ترتیب زمانی ولادت
ترتیب نام امام مکتبہ فکر سال و جائے پیدائش سال و جائے وفات تبصرہ
1 ابو حنیفہ اہل سنت 80ھ ( 699ء ) کوفہ 150ھ ( 767ء ) بغداد فقہ حنفی
2 جعفر صادق اہل تشیع 83ھ ( 702ء ) مدینہ 148ھ ( 765ء ) مدینہ فقہ جعفریہ، کتب اربعہ
3 مالک اہل سنت 93ھ ( 712ء ) مدینہ 179ھ ( 795ء ) مدینہ فقہ مالکی، موطا امام مالک
4 شافعی اہل سنت 150ھ ( 767ء ) غزہ 204ھ ( 819ء ) فسطاط فقہ شافعی
5 احمد بن حنبل اہل سنت 164ھ ( 781ء ) مرو 241ھ ( 855ء ) بغداد فقہ حنبلی ،مسند احمد بن حنبل


فقہ جعفریہ کے بنیادی ماخذ

فقہ جعفریہ کی بنیادی روایات کی چار کتابیں جو فقہ جعفریہ کا اصل ماخذ ہیں "کتب اربعہ" کہلاتی ہیں۔ یہ کتب احادیث نبوی نیزآئمہ اثنا عشریہ کے فرامین پر مشتمل ہیں اور گیارہویں امام حسن بن علی عسکری کے دور میں ہی  [حوالہ درکار] مرتب ہونا شروع ہو گئی تھیں۔
کتاب الکافی، من لا یحضره الفقیہ، تہذیب الاحکام، الاستبصار

الکافی

جس کے مرتب ابو جعفر کلینی ہیں یہ کتاب امام جعفر صادق کے وصال کے تقریباً 180 سال کے بعد لکھی گئی۔

من لا یحضرہ الفقیہ

اس کے مرتب محمد بن علی ابن بابویہ (معروف بہ شیخ صدوق) ہیں جو امام جعفر صادق کے 230 سال بعد لکھی گئی۔

تہذیب الاحکام

یہ محمد بن حسن طوسی (شیخ طوسی) کی مرتب کردہ ہے جو امام جعفر صادق کے 310 برس بعد لکھی گئی۔

الاستبصار

یہ بھی محمد بن حسن طوسی (شیخ طوسی) کی مرتب کردہ ہے جو تقریبا امام جعفر صادق کے 310 برس بعد لکھی گئی۔[1]

جعفر صادق

امام جعفر صادق علیہ السلام، سب سے بڑے فقیہ:

امام صادق (علیہ السلام) اپنے زمانہ کے تمام لوگوں کے نزدیک بہت ہی ممتاز تھے، یہاں پر ہم آپ کے بعض معاصرین کے اقوال کو بیان کرتے ہیں :

١۔ ابوحنیفہ، نعمان بن ثابت (ت : ١٥٠ ھ۔ ق۔) وہ کہتے ہیں : «جعفر بن محمد افقہ من رایت « ۔[2] میری نظر میں جعفر بن محمد سب سے زیادہ فقیہ ہیں ۔[3][4] دوسری جگہ پر انہوں نے کہا ہے : «لولا السنتان لہلک النعمان « ۔[5] اگر وہ دو سال نہ ہوتے جن میں میں نے امام صادق (علیہ السلام) کے علوم سے استفادہ کیا ہے تو میں ہلاک ہوجاتا ۔

حافظ شمس الدین محمد بن محمد جزری نے کہا ہے : « و ثبت عندنا انّ کلا من الامام مالک و ابى حنیفۃ صحب الامام ابا عبد الله جعفر بن محمّد الصادق حتى قال ابوحنیفۃ: مارأیت افقہ منہ۔..« [6] ۔ ہمارے لیے ثابت ہو گیا ہے کہ مالک اور ابوحنیفہ، امام ابو عبد اللہ جعفر بن محمد الصادق (علیہ السلام) کے مصاحب تھے، یہاں تک کہ ابوحنیفہ نے کہا ہے : میں نے ان سے زیادہ کسی کو فقیہ نہیں پایا ۔

٢۔ مالک بن انس (ت : ١٧٩ ھ۔ ق۔) « ما رأت عین و لا سمعت اذن و لا خطر على قلب بشر افضل من جعفر بن محمّد الصادق علماً وعبادة و ورعاً «[6] ۔ علم و عبادت اور تقوی میں امام جعفر صادق سے افضل کبھی بھی نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہے اور نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی دل پر ظاہر ہوا ہے ۔ نیز کہا ہے : « کنت آتى جعفر بن محمّد و کان کثیر التبسّم، فاذا ذکر عنده النبىّ اخضرّ واصفرّ، وما رأیتہ قطّ یحدّث عن رسول الله الاّ عن طہارة « [7] میں جعفر بن محمد کی خدمت میں پہنچا تو اس وقت وہ بہت زیادہ مسکرا رہے تھے اور جب بھی پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا نام آتا تھا تو آپ کا رنگ بدل جاتا تھا۔ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ آپ نے وضو کے بغیر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی حدیث نقل کی ہو۔

٣۔ منصور دوانیقی : « انہ لیس من اہل بیت الا و فیہم محدث و ان جعفر بن محمد محدثنا الیوم « ۔[8] ہر زمانہ میں اہل بیت سے ایک شخص محدث رہا ہے اور یقینا اس وقت جعفر بن محمد ہمارے محدث ہیں ۔[9]

چند کتب

1. جامع مسانید ابى حنیفہ

2. مختصر التحفۃ الاثنى عشریۃ

3. اسنى المطالب

4. تہذیب التہذیب۔

5. تاریخ یعقوبى.

6. اہل بیت از دیدگاه اہل سنت، على اصغر رضوانى.

7. بحوالہ ویب سائٹ آیت اللہ مکارم شیرازی۔

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. فقہ جعفریہ جلد اول،محمد علی،صفحہ 58 مکتبہ نوریہ حسنیہ لاہور
  2. جامع مسانید ابى حنیفہ، ج 1، ص 222.
  3. بہت سی کتابوں میں ہے منجملہ تهذيب الكمال - للمزّي / ج 5 / ص 79
  4. وسُئل الإمام أبو حنيفة عن أفقه من رأى فقال: ما رأيت أحدًا أفقه من جعفر بن محمد
  5. مختصر التحفۃ الاثنى عشریۃ، ص 9، مطبعہ سلفیہ، قاہرہ۔
  6. ^ 6.0 6.1 اسنى المطالب، ص 55.
  7. تہذیب التہذیب، ج 2، ص 104.
  8. تاریخ یعقوبى، ج 3، ص 177.
  9. اہل بیت از دیدگاه اہل سنت، على اصغر رضوانى، ص 100.