توضیح المسائل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

توضیح المسائل شیعہ اثناعشری میں فقہ کی کتاب کا نام ہے جو اس مکتب کے فقہا کرام اپنے مقلدین کے لیے لکھتے ہیں۔

ہر مجتہد آیت اللہ اپنے علم اور فہم سے قرآن و سنت کو بنیاد بنا کر اجتہاد کرتے ہوئے تمام شرعی و دینی مسائل پر اپنے فتاویٰ لکھتا ہے۔
ہر مسلمان کے لیے اصول دین کو از روئے بصیرت جاننا ضروری ہے کیونکہ اصول دین پر ایمان ضروری ہے میں کسی طور پر بھی تقلید نہیں کی جا سکتی یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص اصول دین میں کسی کی بات صر ف اس وجہ سے مانے کہ وہ ان اصول کو جانتا ہے۔ تقلید صرف فروع دین میں ہوتی ہے۔ اس کتاب میں فروع دین یعنی عملی زندگی کے تمام مسائل قرآن و سنت اور ادلہ شرعیہ فقہیہ کی روشنی میں بیان ہوتے ہیں۔
اس وقت میں سب سے مشہور آیت اللہ سید علی سیستانی ہیں جن کی توضیح المسائل کروڑوں کی تعداد میں دنیا کی مختلف زبانوں میں موجود ہے جس پر اکثر شیعہ لوگ عمل کرتے ہیں۔
توضیح المسائل کے تین بنیادی حصے 1۔ عبادات 2۔ معاملات 3۔ خاتمہ (جدید مسائل اور وضاحتیں) ہیں۔ ہر حصہ میں متعد مربوطہ ابواب ہیں اور ہر باب کی کئی فصلیں ہیں ہر فصل میں مربوطہ مسائل (احکام شرع) ہیں۔
توضیح المسائل کا اجمالی خاکہ درج ذیل ہے۔

ولایت فقیہ

س ۔ کیا ولی فقیہ اس مجتہد کو کہا جاتا ہے جس کی مکلف تقلید کرتا ہے یا حاکم مجتہد کو کہا جاتا ہے ؟ کلی طور پر

ولایت فقیہ سے مراد کیا ہے ؟ ج ۔ جامع شرائط ولی فقیہ سے مراد یہ ہے کہ دین مبین اسلام جو آخری آسمانی دین ہے اور جس کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا یہ دین حکومت اورمعاشرے کے نظام کو چلانے کا دین ہے لہذا اسلامی معاشرے کے تمام طبقات کے لیے رہبر ، ولی امر اور حاکم کا ہونا ضروری ہے تاکہ وہ اسلام اور مسلمانوں کو دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھ سکے اور سماج اور معاشرے میں عدالت برقرار کرسکے طاقتورافراد کی طرف سے کمزور افراد پر ظلم و تعدی کی روک تھام کرسکے اور معاشرے و سماج کے لیے سیاسی ، ثقافتی اور اقتصادی ترقی کے وسائل فراہم کرسکے

س 2 ۔ اگر ولی فقیہ کسی مسئلہ میں حکم دے تو کیا دوسرے مراجع کے مقلدین اپنے مراجع کے فتوی کا حوالہ دیکر ولی

فقیہ کے حکم پر عمل نہ کرنے کے مجاز ہیں ج ۔ شیعہ مذہب کے اصولوں کے مطابق تمام مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ ولی فقیہ کے ولائی امر ونہی کی اطاعت کریں اور ولی فقیہ کے حکم کا اتباع مقلدین کے علاوہ فقہا عظام کو بھی شامل ہوتاہے۔


از طرف: دفتر مقام معظم رہبری

حوالہ جات[ترمیم]