حرام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مقالات بہ سلسلۂ مضامین

فقہ

ائمہ فقہ

امام ابو حنیفہ · امام مالک
امام شافعی · امام احمد بن حنبل

فقہ اربعہ

فقہ حنفی · فقہ شافعی
فقہ مالکی · فقہ حنبلی

تقسیم بلحاظ تقلید

احناف · شوافع
مالکی · حنابلہ
غیر مقلد

اقسام جائز و ناجائز

فرض <=> حرام
واجب <=> مکروہ تحریمی
سنت مؤکدہ <=> اساءت
سنت غیرمؤکدہ <=> مکروہ تنزیہی
مستحب <=> خلافِ اولی
مباح


شریعت اسلامی کی اصطلاح میں حرام وہ حکم شرعی ہوتا جس کی ممانعت دلیل قطعی (قرآنی حکم اور حدیث متواتر) سے ثابت ہو، یعنی ایسی دلیل جس میں شبہ کی کوئی گنجائش نہ ہو۔

مثلا مردار، خون، خنزیر کا کھانا اور ناحق قتل، بدکاری، سود، شراب نوشی، والدین کی نافرمانی، غیبت اور جھوٹ بولنا وغیرہ سب حرام ہیں اور ان سے بچنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے۔

اسلامی فقہ میں حرام کی اصطلاح فرض کے بالعکس ہے۔ اگر کوئی مسلمان ان کی حرمت کا انکار کرے تو وہ کافر ہو جاتا ہے جبکہ بلا شرعی عذر اسے اپنانے والا فاسق اور سزا کا مستحق ہوتا ہے۔

سورۃ مائدہ میں مندرجہ ذیل چیزوں کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ مردہ جانور ، خون ، خنزیر ’’سور‘‘ وہ جانور جو غیر اللہ کے نام سے ذبح کیا جائے ۔ مرنے سے ہلے جانور ذبح کر دیا جائے اور خون نکل آئے تو وہ حرام نہیں ہوتا لیکن اگر خون نہ نکل سکے تو حرام ہے۔ سورۃ النساء کی رو سے مندرجہ ذیل عورتوں کے ساتھ نکاح حرام ہے۔ ، ماں بیٹی ، سگی بہن ، سوتیلی بیٹی ، خالہ بھتیجی ، بھانجی ، جس عورت نے دودھ پلایا ہو ، ساس ، بیوی کی ماں ، سوتیلی بیٹی اور بہو ۔ ان کے علاوہ بیک وقت دو سگی بہنوں سے یا کسی کی منکوحہ بیوی یا رضاعی بہن سے نکاح حرام ہے۔ بعض کام حرام ہیں جیسے سود لینا ، جوا کھیلنا ، شراب پینا ، زنا ، چوری ، قتل و غارت ، جھوٹ بولنا ، رشوت لینا اور دینا ، خیانت ، غبن ظلم وغیرہ

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=حرام&oldid=719166’’ مستعادہ منجانب