تقیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

نقصان کے خوف سے عقائد کو پوشیدہ رکھنا۔ اہل تشیع اور آغاخانی فرقے اسے جائز سمجھتے ہیں۔ شیعہ علماء کہتے ہیں کہ تقیہ مومنوں کے لیے ایک پردہ ہے۔ اس سلسلے میں حضرت عمار بن یاسر کی مثال دی جاتی ہے کہ جب کفار قریش نے انھیں بہت مجبور کیا تو انھوں نے کہہ دیا کہ وہ مسلمان نہیں ہیں اور پھر حضور کے سامنے اپنی مجبوری کو بیان کرکے اسلام کا اقرار کیا۔ اسی طرح جب مسیلمہ کذاب ’’12 ہجری‘‘ نے ایک مسلمان کو اپنی نبوت کے اقرار پر مجبور کیا تو انھوں نے بھی اقرار کر لیا گو وہ دل سے اس کے منکر تھے۔ تاریخی رنگ میں تقیہ کی ضرورت اسی واسطے پیش آئی کہ بعض سلاطین نے اہل تشیع پر طرح طرح کی سختیاں کیں تو ہلاکت سے بچنے کے لیے انھوں نے یہ طریقہ اختیار کیا۔ تقیہ کے بارے میں اہل تشیع کلام پاک کی اس آیت سے استدلال کرتے ہیں۔ ترجمہ: اگر تم ظاہر کرو اُس چیز کو جو تمہارے دلوں میں ہے یا چھپالو تو اللہ تم سے اُس پر حساب کرے گا۔ (آخری رکوع سورۃ بقرہ پارہ 3) اس قسم کی اور بھی آیتیں ہیں کہ چاہے تم ظاہر کر دو یا چھپالو اللہ جانتا ہے۔

تقیہ اور اہلسنت[ترمیم]

غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں
تقیہ کی تعریف‘ اس کی اقسام اور اس کے شرعی احکام

  • آل عمران کی آیت 28میں تقیہ کی مشروعیت پر دلیل ہے۔ تقیہ کی تعریف یہ ہے : جان‘ عزت اور مال کو دشمنوں کے شر سے بچانا‘ اور دشمن دو قسم کے ہیں ایک وہ جن کی دشمنی دین کے اختلاف کی وجہ سے ہو جیسے کافر اور مسلمان‘ دوسرے وہ ہیں جن کی دشمنی اغراض دنیوی کی وجہ سے ہو مثلا مال‘ متاع‘ مالک اور امارت کی وجہ سے عداوت ہو‘ اس وجہ سے تقیہ کی بھی دو قسمیں ہوگئیں۔
  • تقیہ کی پہلی قسم جو دین کے اختلاف کی وجہ سے عداوت پر مبنی ہو اس کا حکم شرعی یہ ہے کہ
  • جب کوئی مسلمان کفار کے علاقہ میں ہو اور اس کو دین کے اظہار کے سبب اپنی جان‘ مال اور عزت کا خطرہ ہو تو اس پر اس علاقہ سے ہجرت کرنا واجب ہے اور تقیہ کرنا اور کفار کی موافقت کرناجائز نہیں ہے اس پر دلیل یہ ہے کہ قرآن مجید میں ہے۔‎


بے شک جن لوگوں کی جانیں فرشتے اس حال میں قبض کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے‘ فرشتے (ان سے) کہتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے ؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم زمین میں بے بس تھے ! فرشتے کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ؟ یہ وہ لوگ ہیں جن کاٹھکانہ جہنم ہے اور وہ براٹھکانہ ہے۔ مگر وہ لوگ جو (واقعی) بے بس اور مجبور ہیں وہ مرد‘ عورتیں اور بچے جو نکلنے کا حیلہ نہ پائیں اور نہ راستے سے واقف ہوں تو قریب ہے کہ اللہ ان سے درگزر فرمائے اور اللہ بہت معاف فرمانے والا بے حد بخشش والا ہے۔ جبر اور اکراہ کی صورت میں جان بچانے کے لئے تقیہ پر کرنا رخصت اور تقیہ کو ترک کرنا عزیمت ہے اس پر دلیل یہ حدیث ہے : حسن بصری روایت کرتے ہیں کہ مسیلمہ کذاب نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دو اصحاب کو گرفتار کرلیا ان میں سے ایک سے پوچھا : کیا تم گواہی دیتے ہو کہ محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں‘ اس نے کہا ہاں پھر پوچھا کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے کہا ہاں‘ تو اس کو رہا کردیا‘ پھر دوسرے کو بلا کر پوچھا کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ؟ اس نے کہا ہاں‘ پھر پوچھا کیا تم یہ گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ اس نے کہا میں بہرا ہوں اور تین بار سوال کے جواب میں یہی کہا مسیلمہ نے اس کا سر تن سے جدا کردیا‘ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک یہ خبر پہنچی تو فرمایا جو شخص قتل ہوا اور اپنے صدق اور یقین پر گامزن رہا اس نے فضیلت کو حاصل کیا اس کو مبارک ہو‘ دوسرے نے رخصت پر عمل کیا اس پر اسے کوئی ملامت نہیں ہے۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ١٠ للجصاص) تقیہ کی دوسری قسم یعنی جب مال ومتاع اور امارت کی وجہ سے لوگوں سے عداوت ہو تو اس میں علماء کا اختلاف ہے کہ اس صورت میں آیا ہجرت واجب ہے یا نہیں ؟ بعض علماء نے کہا اس صورت میں بھی ہجرت واجب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ترجمہ : اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ ‎


دوسری دلیل یہ ہے کہ مال کو ضائع کرنے کی بھی شریعت میں ممانعت ہے۔ اور بعض علماء نے یہ کہا کہ کسی دنیاوی مصلحت کی وجہ سے ہجرت واجب نہیں ہوتی‘ اور بعض علماء نے یہ کہا کہ ہجرت واجب ہوتی ہے لیکن یہ عبادت اور قرب الہی نہیں ہے جس کی وجہ سے ثواب حاصل ہو‘

نہج البلاغۃ جو اہل تشیع کے نزدیک کتاب اللہ کے بعد روئے زمین پر صحیح ترین کتاب ہے اس میں لکھا ہے : حضرت علی (رض) نے فرمایا : ایمان کی علامت یہ ہے کہ جہاں تم کو صدق سے نقصان اور کذب سے نفع ہو وہاں تم کذب پر صدق کو ترجیح دو۔ (نہج البلاغت ص ٢٩٦‘ مطبوعہ انتشارات ناصر خسروایران) 

کہاں حضرت علی (رض) کا ارشاد اور کہاں ’’ ان اکرمکم عنداللہ اتقکم‘‘ کی یہ تفسیر کرنا‘‘ اللہ کے نزدیک مکرم وہ ہے جو زیادہ تقیہ کرے‘‘ اور اسی نہج البلاغۃ میں ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : خدا کی قسم اگر میرا دشمنوں سے مقابلہ ہو درآں حالیکہ میں اکیلا ہوں اور ان کی تعداد سے زمین بھری ہو تو مجھے کوئی پرواہ نہیں ہوگی‘ نہ گھبراہٹ ہوگی کیونکہ جس گمراہی میں وہ مبتلاء ہیں اور اس کے مقابلہ میں جس ہدایت پر ہوں اس پر مجھے بصیرت ہے اور مجھے اپنے رب پر یقین ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ سے ملاقات اور حسن ثواب کی امید ہے۔ نیز اگر تقیہ واجب ہوتا تو حضرت علی (رض) ابتداء تقیہ کرلیتے اور حضرت ابوبکر (رض) سے بیعت کرنے میں چھ ماہ تک توقف نہ کرتے۔ اور حضرت حسین (رض) تقیۃ یزید کی بیعت کرلیتے اور اپنے رفقاء سمیت کربلا میں شہید نہ ہوتے‘ کیا حضرت علی (رض) اور حضرت حسین (رض) کو یہ علم نہیں تھا کہ جان کی حفاظت کے لئے تقیہ کرنا واجب ہے اور کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ امام الائمہ تارک واجب تھے۔

انبیاء علیہم السلام کی طرف جو تقیہ کی نسبت  کی گئی ہے اس کے بطلان کے لئے قرآن مجید کی یہ آیات کافی ہیں‎

جو لوگ اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اسی سے ڈرتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور اللہ کافی ہے حساب لینے والا۔ ‎


اے رسول ! جو کچھ آپ پر آپ کے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے اس کو پہنچا دیجئے اور اگر آپ نے (ایسا) نہ کیا تو آپ نے اپنے رب کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ آپ کو لوگوں (کے شر اور ضرر) سے بچائے گا۔ اس کے علاوہ اور بھی قرآن مجید میں آیات ہیں جو تقیہ کے بطلان پردلالت کرتی ہیں۔ تقیہ کے متعلق ائمہ اہل سنت کے مذاہب : امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں : اضطرار کی حالت میں تقیہ کرنے کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے‘ اور یہ واجب نہیں ہے بلکہ تقیہ کو ترک کرنا افضل ہے ہمارے اصحاب نے کہ جس شخص کو کفر پر مجبور کیا گیا اور اس نے کفر نہیں کیا حتی کہ وہ شہید ہوگیا وہ اس شخص سے افضل ہے جس نے تقیہ کیا‘ مشرکین نے حضرت خبیب بن عدی (رض) کو گرفتار کرلیا حتی کہ ان کو شہید کردیا مسلمانوں کے نزدیک وہ حضرت عمار بن یاسر سے زیادہ افضل تھے جنہوں نے تقیۃ کفر کو ظاہر کیا۔ (احکام القرآن ج ٢‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی لاہور‘ ١٤٠٠ ھ) علامہ ابوالحیان اندلسی لکھتے ہیں : امام ابوحنیفہ کے اصحاب نے یہ کہا ہے کہ تقیہ اللہ کی طرف سے رخصت ہے اور اس کو ترک کرنا افضل ہے‘ کسی شخص کو کفر پر مجبور کیا جائے اور وہ کفر نہ کرے حتی کہ اس کو قتل کردیا جائے تو وہ اس شخص سے افضل ہے جان بچانے کے لئے تقیۃ کفر کو ظاہر کرے‘ اسی طرح ہر وہ کام جس میں دین کا اعزاز ہو اس کو تلوار پر پیش کیا جائے تو آپ تقیۃ جواب دیں گے ؟ فرمایا نہیں۔ امام احمد نے فرمایا جب عالم تقیہ سے جواب دے اور جاہل جہالت کا اظہار کر رہا ہو تو حق کیسے ظاہر ہوگا، اور جو چیز ہم تک تواتر اور تسلسل سے پہنچی وہ یہ ہے کہ صحابہ کرام اور تابعین عظام نے اللہ کی راہ میں اپنی جانوں کو خرچ کردیا اور انہوں نے اللہ کی راہ میں کبھی کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ کی اور نہ کسی جابر کے ظلم کی۔ امام رازی نے کہا کہ ضرورت کی بناء پر تقیہ کی رخصت کا تعلق صرف اظہار حق اور دین کے ساتھ ہے اور جس چیز میں ضرورت کا تعلق دوسروں کے ساتھ ہو اس میں تقیہ کی رخصت کا تعلق صرف اظہار حق اور دین کے ساتھ ہے اور جس چیز میں ضرورت کا تعلق دوسروں کے ساتھ ہو اس میں تقیہ کرنے کی اجازت نہیں ہے، مثلا جان بچانے کے لئے کسی کو قتل کرنا‘ زنا کرنا‘ کسی کا مال چھیننا‘ جھوٹی گواہی دینا۔ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانا اور مسلمانوں کے رازوں سے کفار کو مطلع کرنا اس قسم کے امور کو تقیۃ انجام دینا بالکل جائز نہیں ہے۔ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب کفار غالب ہوں تو ان کے ساتھ تقیہ کی رخصت ہے‘ مگر امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ اگر مسلمانوں میں ایسی صورت حال پیدا ہوجائے تو جان اور مال کی حفاظت کے لئے ان کے درمیان بھی تقیہ کرنا جائز ہے۔ (تفسیر کبیر ج ٣ ص ٩٥‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت‘ ١٣٩٨ ھ) علامہ ابوعبداللہ محمد بن قرطبی مالکی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں : جب مسلمان کافروں کے درمیان گھر جائے تو اس کے لئے جائز ہے کہ اپنی جان بچانے کے لئے نرمی سے جواب دے درآں حالیکہ اس کا دل تصدیق سے مطمئن ہو اور جب تک قتل کا اعضاء کاٹنے کا یا سخت ایذا پہنچانے کا خطرہ نہ ہو تقیہ کرنا جائز نہیں ہے‘ اور جس شخص کو کفر پر مجبور کیا جائے تو صحیح مذہب یہ ہے کہ وہ ثابت قدمی سے دین پر جما رہے اور کفریہ کلمہ نہ کہے اگرچہ اس کی رخصت ہے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٥ ص ٥٧ مطبوعہ انتشارات ناصر خسروایران ٗ١٣٨٧ ھ) علامہ عبدالرحمان بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی ٥٩٧ لکھتے ہیں : تقیہ کرنے کی رخصت ہے یہ عزیمت نہیں ہے۔ امام احمد سے پوچھا گیا کہ آپ کے سر پر تلوار رکھ دی جائے تو کیا آپ تقیہ سے جواب دیں گے فرمایا نہیں ! آپ نے فرمایا جب عالم تقیہ سے جواب دے اور جاہل جہالت پھیلا رہا ہو تو حق کیسے ظاہر ہوگا۔ (زادالمیسر ج ١ ص‘ ٣٧٢ مطبوعہ مکتب اسلامی‘ بیروت‘ ١٤٠٧ ھ) امام فخر الدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی شافعی متوفی ٦٠٦ ھ لکھتے ہیں : جب کوئی شخص کافروں میں رہتا ہو اور اس کو اپنی جان اور مال کا خطرہ ہو تو وہ ان سے نرمی کے ساتھ بات کرے اور دشمنی ظاہر نہ کرے بلکہ یہ بھی جائز ہے کہ ان سے اس طرح باتیں کرے جس سے ان کی محبت اور دوستی ظاہر ہو لیکن دل سے محبت نہ رکھے بلکہ دشمن جانے‘ نیز جس صورت میں جان بچانے کے لئے تقیہ کرنا جائز ہے وہاں بھی حق کا اور ایمان کا اظہار کرنا افضل ہے (تفسیر کبیر ج ٢ ص ٤٢٩ مطبوعہ دارالفکر بیروت‘ ١٣٩٨ ھ)[1] حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ’’ الا ان تتقوا منہم تقۃ‘‘ میں تقیہ زبان کے ساتھ اس طرح ہوتا ہے کہ کوئی آدمی مجبور کیا جائے ایسے کام پر جو اللہ کی نافرمانی ہو مگر وہ لوگوں کے ڈر سے زبان سے وہ بات کرتا ہے لیکن اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہے مگر یہ بات اس کو نقصان نہیں دے گی کیونکہ وہ زبان کا تقیہ ہے۔ [2] تقیہ بڑا عیب ہے جس مذہب کی بنا تقیہ پر ہو وہ باطل ہے، تقیہ والے کا حال قابل اعتماد نہیں ہوتا، توبہ ناقابل اطمینان ہوتی ہے اس لئے علماء نے فرمایا لَاتُقْبَلُ تَوْبَۃُ الزِّنْدِیْقِ ۔ [3] بعض لوگوں نے ظہور اسلام کے بعد تقیہ کرنے کو ناجائز کہا ہے کیونکہ حضرت معاذ بن جبل کا قول ہے کہ ابتداء اسلام میں جب تک دین کا استحکام نہ ہوا تھا اور اسلام میں قوت نہ آئی تھی تقیہ جائز تھا لیکن اب مسلمانوں کے لیے دشمن سے تقیہ کرنا جائز نہیں۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ تفسیر تبیان القرآن،غلام رسول سعیدی،آل عمران،28
  2. ^ تفسیر در منثور جلال الدین سیوطی،آل عمران ،28
  3. ^ تفسیر خزائن العرفان ، نعیم الدین مراد آبادی،البقرہ،آیت10
  4. ^ تفسیر مظہری قاضی ثناءاللہ پانی پتی،آل عمران،28