مستحب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مضامین بسلسلہ

فقہ

ائمہ فقہ

امام ابو حنیفہ · امام مالک
امام شافعی · امام احمد بن حنبل
امام جعفر صادق

فقہ خمسہ

فقہ حنفی · فقہ شافعی
فقہ مالکی · فقہ حنبلی
فقہ جعفری

تقسیم بلحاظ تقلید

احناف · شوافع
مالکی · حنابلہ
مجتہدین · غیر مقلد

اقسام جائز و ناجائز

فرض <=> حرام
واجب <=> مکروہ تحریمی
سنت مؤکدہ <=> اساءت
سنت غیرمؤکدہ <=> مکروہ تنزیہی
مستحب <=> خلافِ اولی
مباح


مستحب : یہ وہ فعل ہے جس کا ثبوت بھی ظنی ہو اور اس کی دلیل بھی ظنی ہوشریعت اسلامی کی اصطلاح میں مستحب وہ ہے کہ جس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یا آپ کے صحابہ نے کیا ہو یا اس کو اچھا خیال کیا ہو یا تابعین نے اس کو اچھا سمجھا ہو۔ لیکن اس کو ہمیشہ یا اکثر نہ کیا ہو بلکہ کبھی کیا اور کبھی ترک کیا ہو۔ اس کا کرنا ثواب ہے اور نہ کرنا گناہ نہیں۔ اس کو سنت زائدہ یا عادیہ یا سنت غیر مؤکدہ بھی کہتے ہیں اور فقہاء کے نزدیک نفل بھی کہتے ہیں۔ بعض نے سنت غیر مؤکدہ اور مستحب کو الگ الگ بیان کیا ہے اور تھوڑا فرق کیا ہے[1] اسلامی فقہ میں مستحب کی اصطلاح خلافِ اولی کے بالعکس ہے۔
جیسے وضو میں دائیں عضو کو پہلے دھونا، وضو سے پہلے بسم اللہ پڑھنا، مسجد میں جاتے وقت پہلے دایاں پیر داخل کرنا اور آتے وقت بایاں پیر پہلے باہر نکالنا، چاشت اور اشرق کے نوافل، ہر وضو کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا اور تحیتہ المسجد پڑھنا وغیرہ اس کا فعل موجب ثواب ہے اور اس کے ترک پر عذاب ہے نہ ملامت خواہ دائما ترک ہو یا احیاناً [2]
حدیث میں ہے :
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وضو کرتے تو دائیں اعضاء سے ابتداء کو پسند فرماتے تھے اور جب کنگھی کرتے تو دائیں جانب سے کنگھی کی ابتداء پسند فرماتے اور جب جوتی پہنتے تو دائیں پیر سے ابتداء کو پسند فرماتے، دوسری روایت میں ہے کہ آپ تمام کاموں میں دائیں جانب سے ابتداء کو پسند فرماتے تھے۔ [3]
یہ بھی ملحوظ رہے کہ مستحب کام کو لازم نہیں کرلینا چاہیے اور جو مستحب کام کو نہ کرے اس کو ملامت نہیں کرنی چاہیے کیونکہ مستحب کام کو لازم کرلینا اور اس کے ترک پر ملامت کرنا اس مستحب کو واجب بنادینا ہے اور یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شریعت کو بدلنا ہے اور احداث فی الدین ہے۔
عبداللہ بن مسعود نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں شیطان کا حصہ نہ بنائے اور یہ نہ سمجھے کہ اس پر واجب ہے کہ وہ نماز پوری کرنے کے بعد دائیں طرف ہی مڑ کر بیٹھے گا کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کتنی بار بائیں طرف بھی مڑ کر بیٹھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [4]
نماز سے فارغ ہو کر دائیں طرف مڑ کر بیٹھنا مستحب ہے لیکن اگر کوئی شخص اس کو لازم سمجھ لیتا ہے تو حضرت عبداللہ بن مسعود نے اس کی مذمت فرمائی ہے۔ اسی طرح عمامہ کے ساتھ نماز پڑھنا مستحب ہے لیکن اس کو لازم سمجھنا بدعت سیئہ ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. زبدۃ الفقہ جلد اول صفحہ 73 سید زوار حسین زوار اکیڈمی پبلیکیشنز
  2. ردالمحتار ج 1 ص 186
  3. صحیح البخاری حدیث نمبر : 168
  4. صحیح البخاری حدیث نمبر، 852