مستحب
| مضامین بسلسلہ |
| اصول فقہ |
|---|
| فقہ |
| احکام |
| مذہبی القاب |
|
مستحب (جسے مندوب یا نفل بھی کہا جاتا ہے) اصول فقہ اور اسلامی قانون میں وہ شرعی حکم ہے جس کا کرنا ثواب کا کام ہو لیکن اسے چھوڑنے پر کوئی ملامت یا سزا نہ ہو۔[1]
لغوی اور اصطلاحی معنی
[ترمیم]لفظ "مستحب" عربی کے بابِ استفعال سے ہے، جس کا مطلب ہے کسی چیز کو پسندیدہ یا محبوب سمجھنا۔ یہ لفظ "ح-ب" کے مادے سے بنا ہے جس کے معنی "پسندیدہ" یا "محبوب" چیز کے ہیں۔[1] اسی طرح اس کے ہم معنی لفظ "مندوب" کا مطلب "کسی اہم کام کی طرف بلانا یا ترغیب دینا" ہے۔[2]
اصولِ فقہ کی اصطلاح میں مستحب (یا مندوب) کی تعریف یوں کی جاتی ہے: یہ وہ فعل ہے جس کا شریعت نے مطالبہ تو کیا ہو، لیکن وہ مطالبہ لازمی نہ ہو۔[1] فقہا کے نزدیک مندوب سے مراد وہ کام ہے جس پر انسان کو ابھارا گیا ہو، بغیر اسے لازم کیے۔[2] شریعت کی اصطلاح میں مستحب اس فعل کو کہا جاتا ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یا صحابہ کرام نے کیا ہو یا اسے اچھا سمجھا ہو یا تابعین نے اسے اچھا خیال کیا ہو، لیکن اسے ہمیشہ یا اکثر نہ کیا ہو بلکہ کبھی کیا اور کبھی چھوڑ دیا ہو۔[3] اسی کو "سنتِ زائدہ"، "سنتِ عادیہ" یا "سنتِ غیر مؤکدہ" بھی کہا جاتا ہے اور فقہا کے نزدیک اسے "نفل" بھی کہتے ہیں، اگرچہ بعض علما نے سنتِ غیر مؤکدہ اور مستحب کو الگ الگ مان کر ان میں تھوڑا فرق بھی کیا ہے۔[3] فقہ میں مستحب کی اصطلاح خلافِ اولیٰ کے مقابل ہے۔
احکامِ تکلیفیہ میں مستحب کا درجہ
[ترمیم]جمہور اصولیین (شافعیہ، مالکیہ اور حنابلہ) کے نزدیک شرعی احکام کی پانچ بنیادی قسمیں ہیں: واجب، مندوب (مستحب)، مباح، مکروہ اور حرام۔ جمہور کے نزدیک مستحب اور مندوب ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔
مترادفات اور فقہی مذاہب کی تفصیل
[ترمیم]اصولیین اور فقہا نے مستحب کے مفہوم کو واضح کرنے کے لیے کئی ہم معنی الفاظ استعمال کیے ہیں، جن میں "مندوب"، "مستحب"، "نفل"، "تطوع" اور "سنت" شامل ہیں۔[1] اگرچہ یہ الفاظ ایک دوسرے کے قریب ہیں، لیکن مختلف فقہی مذاہب کے ہاں ان کی تعریف میں تھوڑا فرق پایا جاتا ہے:
- فقہ مالکی کا انداز: مالکیہ کے نزدیک "سنت" اس مستحب عمل کو کہتے ہیں جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہو، اس پر ہمیشگی فرمائی ہو اور اسے کھلے عام ظاہر کیا ہو، لیکن اسے واجب نہ کیا ہو۔[4]
- فقہ شافعی کا انداز: شوافع کے نزدیک سنت سے مراد وہ نفل ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہو۔[4]
- فقہ حنفی کا انداز: احناف طلبِ غیر لازم کے درجات کو الگ الگ بیان کرتے ہیں:
- سنتِ مؤکدہ: وہ فعل جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام نے ہمیشگی فرمائی ہو اور بغیر عذر اسے کبھی نہ چھوڑا ہو۔ اس کا چھوڑنے والا ملامت کا مستحق ہوتا ہے۔
- سنتِ غیر مؤکدہ (مستحب/نفل): وہ فعل جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کیا اور کبھی بغیر عذر چھوڑ دیا یا جس کی ترغیب تو دی گئی لیکن ہمیشگی ثابت نہیں۔ اس کے کرنے پر ثواب ہے اور چھوڑنے پر کوئی ملامت یا عذاب نہیں۔
اسی طرح مستحب کے مختلف درجات بھی بیان کیے گئے ہیں جن میں سے کچھ کو سنتِ مؤکدہ اور مستحب کے درمیان تقسیم کیا جاتا ہے۔[5]
مستحب اور واجب میں فرق
[ترمیم]اصولِ فقہ میں مستحب اور واجب کا فرق اس طرح سمجھا جاتا ہے:
- سزا اور ملامت: واجب کام چھوڑنے سے انسان ملامت اور سزا کا مستحق بنتا ہے، جبکہ مستحب کام چھوڑنے والا کسی ملامت یا عذاب کا مستحق نہیں ہوتا۔[2]
- ہمیشہ چھوڑنے کا حکم: کسی ایک شخص کا مستحب عمل کبھی کبھار چھوڑ دینا بلاشبہ جائز ہے، لیکن اگر پورا معاشرہ یا کوئی شخص کسی مستحب یا سنت کو ہمیشہ کے لیے مکمل طور پر چھوڑنے کا فیصلہ کر لے، تو اس پر فقہا کے نزدیک تادیبی احکام لاگو ہوتے ہیں۔[1]
مستحب ہونے کے ثبوت کے طریقے
[ترمیم]کسی کام کے مستحب ہونے کا پتا ان طریقوں سے چلتا ہے:
- حکم کا صیغہ جس کے ساتھ قرینہ ہو: عربی زبان اور شرعی نصوص میں حکم کا اصل تقاضا وجوب ہوتا ہے، لیکن اگر کوئی قرینہ (اشارہ) وجوب کو نفل کی طرف پھیر دے تو وہ حکم مستحب ہونے پر دلالت کرتا ہے۔
- فضیلت اور ترغیب کی احادیث: وہ تمام احادیث جن میں کسی عمل کی خاص فضیلت، ثواب یا اجر کا ذکر ہو لیکن اس کے چھوڑنے پر کسی وعید کا ذکر نہ ہو۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل یا خاموشی: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا کوئی کام جو آپ نے بطور عبادت انجام دیا ہو یا کسی صحابی کے کسی عمل پر خاموشی اختیار فرمائی ہو۔
مستحب افعال کی مثالیں اور احادیث سے شواہد
[ترمیم]جیسے وضو میں دائیں ہاتھ سے شروع کرنا، وضو سے پہلے بسم اللہ پڑھنا، مسجد میں جاتے وقت پہلے دایاں پیر رکھنا اور نکلتے وقت پہلے بایاں پیر نکالنا، چاشت اور اشراق کے نوافل، ہر وضو کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا اور تحیۃ المسجد پڑھنا۔ ان سب کاموں کا کرنا ثواب ہے اور ان کا چھوڑنا نہ گناہ ہے نہ ملامت کا باعث، خواہ ہمیشہ چھوڑا جائے یا کبھی کبھار۔[6]
حدیث میں ہے کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے تو دائیں اعضاء سے شروع کرنا پسند فرماتے، جب کنگھی کرتے تو دائیں جانب سے شروع کرتے اور جب جوتی پہنتے تو دائیں پیر سے شروع کرتے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام کاموں میں دائیں جانب سے شروع کرنا پسند فرماتے تھے۔[7]
مستحب کو لازم سمجھنے کی ممانعت
[ترمیم]یہ بات یاد رہے کہ مستحب کام کو لازم نہیں سمجھنا چاہیے اور جو شخص مستحب کام نہ کرے اسے ملامت بھی نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ مستحب کو لازم بنا دینا اور اس کے چھوڑنے پر ملامت کرنا اسے واجب بنا دینے کے برابر ہے، جو شریعت میں نئی بات پیدا کرنا ہے۔
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں شیطان کا حصہ نہ بنے اور یہ نہ سمجھے کہ نماز مکمل کرنے کے بعد دائیں طرف ہی مڑ کر بیٹھنا اس پر واجب ہے، کیونکہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کئی بار بائیں طرف بھی مڑ کر بیٹھتے دیکھا ہے۔[8] نماز کے بعد دائیں طرف مڑ کر بیٹھنا مستحب ہے، لیکن اگر کوئی اسے لازم سمجھ لے تو حضرت عبد اللہ بن مسعود نے اس کی مذمت کی ہے۔ اسی طرح عمامہ کے ساتھ نماز پڑھنا مستحب ہے، لیکن اسے لازم سمجھنا بری بدعت ہے۔
مستحب افعال کی مثالیں اور آداب
[ترمیم]اسلامی فقہ کے آداب میں مستحب افعال کے کئی مثالیں ملتی ہیں:
- کتابتِ علم کے آداب: علمی کتابیں اور شرعی فتوے لکھنے کے لیے رنگین سیالی کی بجائے پائیدار سیاہی کا استعمال مستحب مانا گیا ہے، کیونکہ یہ زیادہ دیر تک قائم رہتی ہے اور اس کے مٹنے یا بدلنے کا خطرہ کم ہوتا ہے۔[9]
- مفتی اور معلم کے آداب: مفتی، قاضی اور معلم کے لیے مستحب ہے کہ وہ باوقار اور پرسکون طبیعت کا مالک ہو، تاکہ لوگ اس کی بات اور فتوے کی طرف مائل ہوں اور دین کے احکام کو دل سے قبول کر سکیں۔[10]
مستحب کی حکمتیں
[ترمیم]مستحب احکام کو شریعت میں شامل کرنے کی کئی گہری حکمتیں ہیں:
- فرائض کی حفاظت: مستحبات اور نوافل فرائض اور واجبات کے لیے ایک حفاظتی باڑ کا کام دیتے ہیں۔
- کمی کی تلافی: قیامت کے دن اگر فرائض میں کوئی کمی رہ گئی ہو تو مستحبات اور نوافل کے ذریعے اس کمی کو پورا کیا جائے گا۔
- اللہ سے قربت حاصل کرنا: بندہ نوافل اور مستحبات کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا خاص قرب حاصل کرتا ہے۔
حنفیہ اور جمہور کا تقابلی جائزہ
[ترمیم]| پہلو | حنفیہ کا موقف | جمہور (شافعیہ، مالکیہ، حنابلہ) کا موقف |
|---|---|---|
| اصطلاحی تعریف | وہ عمل جس کے کرنے پر ثواب ہو اور چھوڑنے پر ملامت یا عذاب نہ ہو | مندوب اور مستحب ایک ہی چیز کے دو نام ہیں |
| سنت سے فرق | سنتِ مؤکدہ سے کم درجے کا ہے؛ سنتِ مؤکدہ چھوڑنے والا ملامت کا مستحق ہوتا ہے جبکہ مستحب چھوڑنے والا نہیں | مستحب، سنت، نفل، تطوع اور مرغب فیہ کو عموماً ایک ہی معنی میں لیتے ہیں |
| حکم و اثر | کرنے پر اجر و ثواب، چھوڑنے پر کوئی مؤاخذہ نہیں | کرنے پر ثواب، چھوڑنے پر کوئی عذاب یا ملامت نہیں |
| فرائض سے تعلق | فرائض کی تکمیل کا ذریعہ ہے | فرائض کی حفاظت اور درجے کی بلندی کا ذریعہ ہے |
مزید دیکھیے
[ترمیم]
حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 3 4 5 محمد حسن عبد الغفار (2011)۔ تیسیر اصول الفقہ للمبتدئین۔ قطر: موقع الشبکۃ الاسلامیہ۔ ج 4۔ ص 1
- 1 2 3 ابو الحسین البصری (1983)۔ المعتمد فی اصول الفقہ۔ بیروت: دار الکتب العلمیہ۔ ج 1۔ ص 4
- 1 2 سید زوار حسین۔ زبدۃ الفقہ۔ زوار اکیڈمی پبلیکیشنز۔ ج 1۔ ص 73
- 1 2 عبد اللہ بن ابراہیم الشنقیطی (1988)۔ نشر البنود علی مراقی السعود۔ المغرب: مطبعۃ فضالہ۔ ج 2۔ ص 9
- ↑ ابن النجار الفتوحی (1997)۔ شرح الکوکب المنیر۔ بیروت: دار الکتب العلمیہ۔ ج 3۔ ص 18
- ↑ ابن عابدین۔ ردالمحتار۔ ج 1۔ ص 186
- ↑ محمد بن اسماعیل البخاری۔ صحیح البخاری۔ ج 1۔ ص 168
- ↑ محمد بن اسماعیل البخاری۔ صحیح البخاری۔ ج 1۔ ص 852
- ↑ یحیی بن شرف النووی (1988)۔ آداب الفتوی والمفتی والمستفتی۔ دمشق: دار الفکر۔ ج 1۔ ص 51
- ↑ ابن النجار الفتوحی (1997)۔ شرح الکوکب المنیر۔ بیروت: دار الکتب العلمیہ۔ ج 4۔ ص 551
| ویکی ذخائر پر مستحب سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |