مالکی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(فقہ مالکی سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
مضامین بسلسلہ

فقہ

ائمہ فقہ

جعفر صادق
نعمان بن ثابت · مالک بن انس
محمد بن ادریس شافعی · احمد بن حنبل
داود ظاہری

فقہ ستہ

جعفری
حنفی · شافعی
مالکی · حنبلی
ظاہری

تقسیم بلحاظ تقلید

جعفری
احناف · شوافع
مالکی · حنابلہ
ظاہری
مجتہدین · غیر مقلد

اقسام جائز و ناجائز

فرض <=> حرام
واجب <=> مکروہ تحریمی
سنت مؤکدہ <=> اساءت
سنت غیرمؤکدہ <=> مکروہ تنزیہی
مستحب <=> خلاف اولیٰ
مباح



مالکی (عربی: مالكي) اہل سنت میں فقہ کے چار مذاہب میں سے ایک ہے۔[1] آٹھویں صدی عیسوی میں مالک بن انس نے اس کی بنیاد رکھی۔ قرآن اور احادیث مالکی مذہب کے بنیادی مآخذ ہیں۔ دوسرے اسلامی فقہوں کی طرح مالکی مذہب بھی مدینہ کے لوگوں کی رائے کو شریعت کا مستند ذریعہ خیال کرتا ہے۔[2]

مالکی مذہب اہل سنت کے بڑے گروہوں میں سے ایک ہیں، شافعی مذہب اور مالکی مذہب کے پیروکار برابر تعداد میں ہیں، لیکن حنفی مذہب سے تعداد میں کم ہیں۔[3][4] مالکی عقیدے پر مبنی شریعت پر عمل زیادہ تر شمالی امریکا، مغربی افریقا، چاڈ، سوڈان، کویت، بحرین،[5] امارت دبئی (یو اے ای) اور سعودی عرب کے شمال مشرقی حصوں میں کیا جاتا ہے۔[3]

قرون وسطی کے عہد میں مالکی مذہب اسلامی یورپ بالخصوص الاندلس اور امارت صقلیہ میں بھی موجود تھا۔[6] تونس میں مسجد عقبہ انیسویں صدی سے گیارہویں صدی عیسوی میں مالکی تعلیمات کی اہم تاریخی مرکز رہی۔[7][8]

پس منظر[ترمیم]

اہلسنت والجماعت کے چار ائمہ ہیں:

  1. امام ابو حنیفہ (م 150 ھ)
  2. امام مالک (م 189 ھ)
  3. امام شافعی (م 204 ھ)
  4. امام احمد بن حنبل (م 241 ھ)

ان ائمہ کرام نے اپنی خداد داد علمی و فکری صلاحیتوں اور مجتہدانہ بصیرت کی بنا پر اپنے اپنے دور میں حسب ضرورت قرآن و حدیث سے مسائل فقہ مرتب کیے، یوں ان ائمہ کے زیر اثر چار فقہی مکاتب فکر وجود میں آئے۔

  • امام اعظم کے مقلدین حنفی کہلاتے ہیں۔
  • امام مالک کے مقلدین مالکی کہلاتے ہیں۔
  • امام شافعی کے مقلدین شوافع کہلاتے ہیں۔
  • امام احمد بن حنبل کے مقلدین حنبلی کہلاتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Hisham M. Ramadan (2006), Understanding Islamic Law: From Classical to Contemporary, Rowman Altamira, ISBN 978-0759109919, pp. 26–27
  2. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ vjc نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  3. ^ ا ب Jurisprudence and Law – Islam Reorienting the Veil, University of North Carolina (2009)
  4. Abdullah Saeed (2008), The Qur'an: An Introduction, Routledge, ISBN 978-0415421256, pp. 16–18
  5. "International Religious Freedom (2000)"۔
  6. Bernard Lewis (2001), The Muslim Discovery of Europe, WW Norton, ISBN 978-0393321654, p. 67
  7. Wilfrid Scawen Blunt and Riad Nourallah, The future of Islam, Routledge, 2002, page 199
  8. Ira Marvin Lapidus, A history of Islamic societies, Cambridge University Press, 2002, page 308