قاضی عیاض
| قاضی عیاض | |
|---|---|
| (عربی میں: القاضي عياض) | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سنہ 1083ء [1][2][3][4] سبته |
| وفات | سنہ 1149ء (65–66 سال)[5][1][2][6][4] مراکش شہر |
| شہریت | اندلس دولت مرابطین [7] |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | مورخ ، قاضی [8][9]، منصف ، سوانح نگار ، شاعر [10]، الٰہیات دان [8]، سائنس دان [9] |
| مادری زبان | عربی |
| پیشہ ورانہ زبان | عربی |
| شعبۂ عمل | فقہ مالکی [11]، فقہ ، حدیث [12] |
| کارہائے نمایاں | اکمال المعلم بفوائد صحیح مسلم ، الشفاء بتعریف حقوق المصطفی ، الالماع الی معرفہ اصول الروایہ وتقیید السماع ، الاعلام بحدود قواعد الاسلام (کتاب) ، ترتیب المدارک وتقریب المسالک لمعرفۃ اعلام مذہب مالک |
| درستی - ترمیم | |
قاضی عياض (476ھ -544ھ / 1083ء -1149ء) ابو فضل عیاض بن موسی بن عیاض بن عمرو بن موسی بن عیاض سبتی یحصبی ہیں۔ [13][14][15] وہ مالکی فقہ کے قاضی، بڑے عالم دین ، فقیہ ، مؤرخ اور اپنے دور کے علوم کے ماہر تھے۔
حالاتِ زندگی
[ترمیم]قاضی عياض کے اسلاف اندلس کے شہر «بسطة» (غرناطہ کے اطراف) میں آباد تھے، پھر ان کا خاندان مراکش کے شہر فاس منتقل ہوا۔ بعد میں ان کے دادا «عمرون» فاس سے سبتہ چلے گئے، جہاں یہ خاندان تقریباً 373ھ / 893ء کے قریب جا کر آباد ہوا۔ اس خاندان کو سبتہ میں تقویٰ اور نیکی کے باعث خاص شہرت حاصل ہوئی۔ قاضی عیاض کی ولادت 15 شعبان 476ھ مطابق 28 دسمبر 1083ء کو سبتہ میں ہوئی۔ وہیں انھوں نے پرورش پائی اور ابتدائی تعلیم حاصل کی اور اپنے علاقے کے علما سے استفادہ کیا۔
تقریباً اٹھائیس سال کی عمر میں وہ مناظروں میں بیٹھنے لگے۔ پینتیس سال کی عمر میں انھیں قضا (عدالتی منصب) پر فائز کیا گیا اور وہ سبتہ اور بعد میں غرناطہ کے قاضی بنے۔ ان کی علمی اور اخلاقی شہرت دور دور تک پھیل گئی اور لوگ ان کی دیانت و سیرت کی تعریف کرنے لگے۔
طلبِ علم کے لیے سفر
[ترمیم]قاضی عياض نے 507ھ / 1113ء میں علمِ حدیث کے سماع اور روایات کی تحقیق کے لیے اندلس کا سفر کیا۔ اس دوران انھوں نے اندلس کے مختلف علمی مراکز کا دورہ کیا، جو اس وقت فقہ اور حدیث کے بڑے بڑے علما کا مرکز تھے۔ سب سے پہلے وہ قرطبہ پہنچے اور وہاں کے مشہور علما جیسے «ابن عتاب»، «ابن الحاج»، «ابن رشد» اور «ابو الحسین بن سراج» وغیرہ سے استفادہ کیا۔ اس کے بعد وہ 508ھ / 1114ء میں مرسیہ گئے، جہاں ان کی ملاقات ابو علی حسین بن محمد صدفی سے ہوئی، جو اپنے دور کے بڑے حافظِ حدیث اور معتبر محدث تھے۔ انھوں نے ان سے صحیح بخاری اور صحیح مسلم سنی اور اپنی تمام روایات کی اجازت (اجازہ) حاصل کی۔
قاضی عیاض نے اپنے اندلس کے سفر پر ہی اکتفا کیا اور عام طلبہ کی طرح مشرق کی طرف مزید سفر نہیں کیا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ اندلس میں اس دور میں علمی سرگرمیاں بہت ترقی یافتہ تھیں اور وہاں کے علما مشرق کے بڑے علما کے ہم پلہ شمار ہوتے تھے۔ بعد میں وہ اپنے وطن سبتہ واپس آئے تو ان کے پاس وسیع علمی ذخیرہ تھا، جس کی وجہ سے لوگ ان کی طرف متوجہ ہوئے اور طلبہ و مفتیانِ کرام ان کے گرد جمع ہونے لگے۔ وہ 7 جمادی الآخر 508ھ / 9 اکتوبر 1114ء کو سبتہ واپس آئے اور 32 سال کی عمر میں تدریس شروع کی۔ پھر وہ 515ھ / 1121ء میں سبتہ کے قاضی مقرر ہوئے اور تقریباً سولہ سال اس منصب پر فائز رہے۔ بعد ازاں 531ھ / 1136ء میں غرناطہ کے قاضی بنے اور وہاں کچھ مدت قیام کے بعد دوبارہ 539ھ / 1144ء میں سبتہ واپس آ کر قضا سنبھالی۔[16]
قاضی عیاض بحیثیت محدث
[ترمیم]قاضی عياض کی زندگی میں قضا، تدریس اور تصنیف تینوں پہلو شامل تھے، لیکن ان کی اصل شہرت ان کی علمی تصانیف کے ذریعے قائم ہوئی، جنھوں نے انھیں اسلامی تاریخ کے بڑے ائمہ میں نمایاں مقام عطا کیا۔ ان کی کتب ان کے وسیع علم، مضبوط حافظے، گہری فکری صلاحیت اور مختلف علمی فنون میں مہارت کی واضح دلیل ہیں۔ حدیث کے علم میں قاضی عیاض کو غیر معمولی مقام حاصل تھا۔ وہ مضبوط حافظے، روایت و درایت میں مہارت اور راویوں کے حالات سے مکمل واقفیت رکھتے تھے۔ انھوں نے محدثین سے حدیث سننے اور اس کی طلب میں مسلسل سفر کیا، جس کے نتیجے میں انھیں بلند اسناد، مضبوط ضبط اور اعلیٰ درجہ کی تحقیق حاصل ہوئی، جو صرف بڑے محدثین کو نصیب ہوتی ہے۔
ان کا منہجِ روایت تحقیق اور دقتِ نظر پر مبنی تھا۔ وہ حدیث کے متن کی توثیق اور تنقید پر خاص توجہ دیتے تھے اور روایت کے الفاظ کے درست فہم کو ضروری سمجھتے تھے۔ وہ اس بات کے قائل تھے کہ محدث کو حدیث اسی طرح نقل کرنی چاہیے جیسے وہ سنی گئی ہو اور اگر اس میں کوئی اشکال یا غلطی نظر آئے تو اس کی وضاحت بھی ساتھ کرنی چاہیے، لیکن اپنی رائے کو حدیث پر غالب نہیں کرنا چاہیے تاکہ تحریف یا بے جا تاویل کا دروازہ نہ کھلے۔ قاضی عياض نے علمِ حدیث میں تین اہم کتابیں تصنیف کیں:
- مشارق الانوار على صحاح الآثار: یہ کتاب ان کی حدیثی مہارت اور دقتِ نظر کا اہم مظہر ہے۔ اس میں انھوں نے صحیح بخاری، صحیح مسلم اور موطا امام مالک کے مشکل الفاظ کی وضاحت کی، روایات میں موجود غلطیوں، وہم اور تصحیف کی نشان دہی کی اور اختلافات کو حروفِ تہجی کی ترتیب سے مرتب کیا۔
- اكمال المعلم: اس میں انھوں نے صحیح مسلم کی شرح کی۔
- بغية الرائد لما فی حديث ام زرع من الفوائد: یہ کتاب حدیثِ ام زرع کے فوائد اور اس کی تشریح پر مشتمل ہے۔
اس کے علاوہ ان کی ایک اہم اور جامع کتاب الالماع الی معرفہ اصول الروایہ وتقیید السماع بھی ہے، جو حدیث کی روایت کے اصول، ضبط اور سماع کی پابندیوں کے بارے میں ایک بنیادی علمی ماخذ شمار ہوتی ہے۔[17]
قاضی عیاض بحیثیت مؤرخ
[ترمیم]قاضی عیاض نے تاریخ کے میدان میں داخلہ دراصل فقہ اور حدیث کے دروازے سے کیا۔ اسی علمی پس منظر میں انھوں نے اپنی مشہور کتاب ترتیب المدارک وتقریب المسالک لمعرفۃ اعلام مذہب مالک تصنیف کی، جو مالکی مذہب کے بڑے علما، موطا کے راویوں اور اس مذہب کے ائمہ و فقہا کے تراجم پر مشتمل ایک عظیم انسائیکلوپیڈیا شمار ہوتی ہے۔ انھوں نے اس کتاب کا آغاز اہلِ مدینہ کے علم کی فضیلت کے بیان سے کیا اور مالکیہ کے اس اصول کا دفاع کیا کہ “عملِ اہلِ مدینہ” تشریع کے بنیادی مصادر میں سے ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے اپنے مذہب کی ترجیح دیگر فقہی مذاہب کے مقابلے میں علمی دلائل کے ساتھ پیش کرنے کی کوشش کی۔
اس کے بعد انھوں نے امام مالک اور ان کے اصحاب و تلامذہ کے تراجم شروع کیے۔ ان کا اندازِ تصنیف “طبقات” کے نظام پر مبنی تھا، نہ کہ حروفِ تہجی کی ترتیب پر۔ وہ امام مالک کے بعد ان کے اصحاب، پھر تابعین اور بعد کی طبقات کو ترتیب وار بیان کرتے ہوئے اپنے دور تک پہنچتے ہیں۔ قاضی عیاض نے اپنے اساتذہ اور شیوخ کے لیے الگ سے کتاب الغنيہ تصنیف کی، جس میں انھوں نے اپنے اساتذہ کی سوانح، علمی خدمات، تصانیف اور علمی مقام و مرتبہ بیان کیا۔ اسی طرح انھوں نے اپنے استاد ابو علی حسين صدفی کے لیے بھی الگ کتاب المعجم لکھی، جس میں ان کی زندگی، ان کے شیوخ اور ان کی علمی روایات کو بیان کیا گیا۔ صدفی اپنے زمانے کے عظیم محدث تھے، جن کی مرویات بہت وسیع تھیں اور وہ مشرق و مغرب کے علمی اسناد میں ایک اہم واسطہ سمجھے جاتے تھے، کیونکہ انھوں نے بڑی تعداد میں علما سے ملاقات کی، ان سے روایت کی اور ان سے اجازتِ حدیث حاصل کی۔
تصانیف
[ترمیم]
قاضی عیاض کی متعدد تصانیف ہیں۔ ابن خلكان نے وفیات الاعیان میں ان کے بارے میں کہا ہے: “ان کی تمام تصانیف نہایت عمدہ اور منفرد ہیں”۔ ان کی اہم کتب درج ذیل ہیں:
- اكمال المعلم بفوائد صحيح مسلم
- الشفا بتعريف حقوق المصطفى
- مشارق الأنوار على صحاح الآثار — یہ کتاب غریب الحدیث کی شرح پر مشتمل ہے اور موطا، صحیح بخاری اور صحیح مسلم جیسے مصادر کے مشکل الفاظ کی وضاحت کرتی ہے۔
- الإعلام بحدود قواعد الإسلام
- الغنيہ
- ترتیب المدارک وتقریب المسالک لمعرفۃ اعلام مذہب مالک — مالکی مذہب کے ائمہ و علما کے تراجم پر مشتمل عظیم تصنیف
- التنبيہات المستنبطہ على المدونہ
- مذاہب الحكام في نوازل الأحكام
- الالماع الی معرفہ اصول الروایہ وتقیید السماع [18]

ان پر لکھی گئی کتب
[ترمیم]قاضی عیاض پر متعدد علمی تحقیقات اور کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان میں سب سے معروف کتاب یہ ہے: القاضی عياض وجهوده فی علمی الحديث دراية ورواية — مؤلف: پروفیسر ڈاکٹر البشیر علی حمد الترابی
وفات
[ترمیم]قاضی عیاض کی مراكش میں وفات ہوئی اور انھیں وہیں “حی حیلانہ” میں 544ھ میں دفن کیا گیا۔ ،[19] بعض روایات کے مطابق ان کی قبر مولای علی شریف کے ساتھ اسی مقام پر ہے۔ ان کے قتل کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ انھوں نے ابن تومرت کو، جو خود کو مہدیِ منتظر ہونے کا مدعی تھا، تسلیم کرنے سے انکار کیا۔ ان سے یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ ایک ایسی کتاب لکھیں جس میں ابن تومرت کو مہدیِ منتظر تسلیم کیا جائے، لیکن انھوں نے اس سے انکار کر دیا۔ بعض مصادر جن میں ان کے بیٹے محمد کی لکھی ہوئی روایت بھی شامل ہے بیان کرتے ہیں کہ وہ مراكش میں موحدین سے قریب ہو گئے اور آخرکار ایک فوجی مہم کے دوران بیماری سے وفات پا گئے۔[20]
دیگر مصادر کے مطابق وہ تدلہ کے قریب دیہی علاقے میں قاضی کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے طبعی موت سے وفات پا گئے، جبکہ بعد کے بعض مؤرخین یہ رائے رکھتے ہیں کہ ان کی موت موحدین کے ہاتھوں پر تشدد کے نتیجے میں ہوئی۔
کہا جاتا ہے کہ ان کے قتل کے وقت ان کے جسم میں نیزے پیوست کیے گئے اور انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا۔ پھر انھیں بغیر جنازہ اور غسل کے دفن کر دیا گیا، گویا وہ غیر مسلم ہوں۔ بعد میں اس علاقے کو مسیحیوں کے حوالے کیا گیا جنھوں نے ان کی قبر کے قریب ایک گرجا اور کچھ گھر تعمیر کیے۔ یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ 712ھ میں مرینی سلطنت کے دور میں ان کی قبر دریافت ہوئی، جب موحدین کی حکومت ختم ہو چکی تھی۔ اس پر لوگوں اور علما کو بہت خوشی ہوئی۔ قاضی ابو اسحاق بن صباغ نے قبر کے اردگرد صفائی اور اس کے اظہار کا حکم دیا۔ لوگ وہاں جمع ہوئے اور بار بار ان کے لیے نماز پڑھی۔[حوالہ درکار]
اگرچہ وہ موحدین اور ابن حزم کے بعض افکار کے مخالف تھے، لیکن وہ اہلِ سنت کے ظاہریہ مکتبِ فکر کے خلاف ذاتی دشمنی نہیں رکھتے تھے، جس کی پیروی موحدین اور ابن حزم بھی کرتے تھے۔ انھوں نے ابن حزم کے استاد ابو خیار ظاہری کے بارے میں مثبت رائے دی، اسی طرح اپنے والد کے بارے میں بھی ان کا موقف اچھا تھا، جو خود ایک ظاہری عقیدہ کے عالم تھے۔[21]
حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 بنام: ʻIyāḍ ibn Mūsā Yaḥṣūbī — ایس ای ایل آئی بی آر: https://libris.kb.se/auth/104722 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
- 1 2 ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: https://id.worldcat.org/fast/108556 — بنام: ʻIyāḍ ibn Mūsá — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
- ↑ مدیر: ایمائنول کواکو اور ہینری لوئس گیٹس — عنوان : Dictionary of African Biography — ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://www.oxfordreference.com/view/10.1093/acref/9780195382075.001.0001/acref-9780195382075
- 1 2 عنوان : El portal de datos bibliográficos de la Biblioteca Nacional de España — بنام: ʻIyāḍ ibn Mūsā — بی این ای - آئی ڈی (datos.BNE.es): https://datos.bne.es/resource/XX933890 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — اجازت نامہ: CC0
- ↑ عنوان : Gemeinsame Normdatei — جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118969552 — اخذ شدہ بتاریخ: 17 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
- ↑ عنوان : Diccionario biográfico español — Spanish Biographical Dictionary ID: https://dbe.rah.es/biografias/59426 — بنام: Iyad. El Cadí Iyad — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
- ↑ تاریخ اشاعت: 17 ستمبر 2012 — https://libris.kb.se/katalogisering/64jlhl2q0djxqtq — اخذ شدہ بتاریخ: 24 اگست 2018
- 1 2 عنوان : Gemeinsame Normdatei — جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118969552 — اخذ شدہ بتاریخ: 20 اپریل 2026 — اجازت نامہ: CC0
- 1 2 مصنف: خیر الدین زرکلی — عنوان : الأعلام — ناشر: دار العلم للملایین — : اشاعت 15 — جلد: 5 — صفحہ: 99 — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://archive.org/details/ZIR2002ARAR
- ↑ مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://archive.org/details/ZIR2002ARAR
- ↑ مصنف: فرانس کا قومی کتب خانہ — عنوان : BnF catalogue général — ناشر: فرانس کا قومی کتب خانہ — ربط: بی این ایف - آئی ڈی
- ↑ کتب خانہ کانگریس اتھارٹی آئی ڈی: https://id.loc.gov/authorities/n83017679
- ↑ Adel Nuwayhed (1988)، مُعجم المُفسِّرين: من صدر الإسلام وحتَّى العصر الحاضر (بزبان عربی) (3 ایڈیشن)، بیروت: Q121003654، ص 406، OCLC:235971276، QID: Q122197128
- ↑ "Ibn Mada'(Ahmad ibn Abdul Rahman-) Ibn Mada'(Ahmad ibn Abdul Rahman-)"۔ 18 فبراير 2018 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ Article ([{{fullurl:{{{1}}}|action=edit}} ترمیم] | [[Talk:{{{1}}}|تبادلۂ خیال]] | [{{fullurl:{{{1}}}|action=history}} تاریخچہ] | [{{fullurl:{{{1}}}|action=protect}} محفوظ شدگی] | [{{fullurl:{{{1}}}|action=delete}} حذف شدگی] | [{{fullurl:Special:Whatlinkshere/{{{1}}}|limit=999}} روابط] | [{{fullurl:{{{1}}}|action=watch}} زیرنظر] | نوشتہ جات | مشاہدات) "نسخة مؤرشفة"۔ اصل سے آرکائیو شدہ بتاریخ 6 سبتمبر 2018۔ اخذ شدہ بتاریخ 7 نوفمبر 2020
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ رسائی=و|آرکائیو تاریخ=(معاونت)اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: BOT: original URL status unknown (link) - ↑ کامل سلمان جبوری (2003)۔ معجم الأدباء من العصر الجاهلي حتى سنة 2002م (بزبان عربی)۔ بیروت: دار الکتب علمیہ۔ ج 5۔ ص 372-373۔ ISBN:978-2-7451-3694-7۔ LCCN:2003489875۔ OCLC:54614801۔ OL:21012293M۔ QID: Q111309344
- ↑ Camilo Gómez-Rivas, Islamic Legal Thought: A Compendium of Muslim Jurists, p 326. Koninklijke Brill NV ISBN 978-90-04-25452-7
- ↑ هاجل عبد المولى، القاضي عياض وحجية السنةمن خلال بعض كتبه الحديثية، ص 07- 15، https://archive.org/details/20250227_20250227_1800/page/15/mode/1up
- ↑ خیر الدین زرکلی (2002)، الأعلام: قاموس تراجم لأشهر الرجال والنساء من العرب والمستعربين والمستشرقين (بزبان عربی) (15 ایڈیشن)، بیروت: دار العلم للملایین، ج 5، ص 99، OCLC:1127653771، QID: Q113504685
- ↑ David Powers؛ Susan Spectorsky؛ Oussama Arabi (25 ستمبر 2013)۔ Islamic Legal Thought: A Compendium of Muslim Jurists۔ BRILL۔ ISBN:9789004255883
- ↑ Delfina Serrano, "Claim or complaint?" Taken from Ibn Hazm of Cordoba: The Life and Works of a Controversial Thinker, pg. 200. Eds. Camilla Adang, Maribel Fierro and Sabine Schmidtke. Volume 103 of Handbook of Oriental Studies. Section 1 The Near and Middle East. Leiden: Brill Publishers, 2012. ISBN 9789004234246
- 1083ء کی پیدائشیں
- سبتہ کی پیدائشیں
- 1149ء کی وفیات
- 1083ء کی ولادتیں
- 1149ء کی وفاتیں
- 476ھ کی ولادتیں
- 544ھ کی وفاتیں
- اشاعرہ
- بارہویں صدی کی عرب شخصیات
- بارہویں صدی کی المغربی شخصیات
- شخصیات بلحاظ عرب نسب
- عربی سیرت نگار
- عربی محدثین
- عربی مؤرخین
- فقہائے مالکیہ
- گیارہویں صدی کی عرب شخصیات
- گیارہویں صدی کی مراکشی شخصیات
- المغرب کے ائمہ کرام
- المغربی شخصیات
- المغرب کے مصنفین
- المغربی مورخین
- ہسپانوی سوانح نگار
- ہسپانوی سیرت نگار
- ہسپانوی فقہاء
- ہسپانوی فقہائے مالکیہ
- ہسپانوی محدثین
- ہسپانوی مصنفین
- ہسپانوی مؤرخین
- سبتہ کی شخصیات
- بارہویں صدی کے عرب مصنفین
- بارہویں صدی کے مؤرخین
- اندلس کے علماء
- مراکش کی وفیات
- ماہرین انساب
- محدثین
- مالکی علما
- دولت موحدین کے مورخین
- قرون وسطی کے عرب ماہر لسانیات
- اندلس کے سائنس دان
- ہسپانوی جج
- مراکشی جج
- عرب نژاد مغربی شخصیات
- بارہویں صدی کی اندلس کی شخصیات
- بارہویں صدی کے مسلم الٰہیات دان
- مفسرین
- مؤرخین
- اسلامی قانون
- دولت مرابطین
