ابن الجزری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
الامام الاعظم، الحافظ، شیخ القراء، المقرئ المماليک‎‎، شمس الدین ، قاضی دمشق، شیخ الاقراء فی زمانہ
شمس الدین ابن الجزری
Jazariya manuscript.jpg
ابن الجزری کے ہاتھ کا لکھا مسودہ
معروفیت شیخ القراء، المقرئ المماليک‎‎، الامام الاعظم، الحافظ، شمس الدین
پیدائش جمعہ 25 رمضان 751ھ/ 26 نومبر 1350ء

دمشق، سلطنت مملوک، موجودہ شام
وفات جمعہ 5 ربیع الاول 833ھ/ 2 دسمبر 1429ء
(عمر: 79 سال 6 دن شمسی)

شیراز، تیموری سلطنت، موجودہ صوبہ فارس، ایران
نسل کرد
شعبۂ زندگی سنی اسلام (عقیدہ اشعری)
مذہب اسلام
فقہ فقہ شافعی
شعبۂ عمل حدیث، قرأت، علم تجوید، تاریخ اسلام، فقہ

امام شمس الدین ابن الجزری (عربی زبان: أبو الخير شمس الدين محمد بن محمد بن محمد بن علي بن يوسف الجزري‎ ) (پیدائش: 26 نومبر 1350ء– وفات: 2 دسمبر 1429ء) قرأت اور علم تجوید کے امام تھے۔ ابن الجزری آٹھویں، نویں صدی ہجری میں علم قرأت پر سند تسلیم کیے جاتے تھے۔ قرأت سبع یعنی ساتوں قرأت پر اُنہیں مہارت حاصل تھی۔ دعاؤں کی مشہور کتاب حصن حصین اُن کی وجہ شہرت بھی ہے۔

نام و نسب[ترمیم]

ابن الجزری کا نام محمد بن محمد بن محمد ہے۔ کنیت ابوالخیر ہے۔ لقب ابن الجزری ہے جو جزیرہ ابن عمر کی جانب سے منسوب ہے (موجودہ دور میں جزیرہ ابن عمر ترکی کے صوبہ شرناق میں واقع ہے)۔ نسب یوں ہے : ابو الخیر محمد بن محمد بن محمد بن محمد بن علی بن یوسف الجَزَرِی العُمْرِی الشافعی الدَمَشْقِی الشِّیْرَازِی [1][2] ابن الجزری کے والد محمد بن محمد تاجر تھے۔ اُن کے یہاں چالیس سال سے کوئی اولاد نہ تھی، جب اُنہوں نے حج اداء کیا تو زمزم نوش کرتے ہوئے اولاد کی دعا کی تو وہ مستجاب ہوئی اور ابن الجزری پیدا ہوئے۔[3]

پیدائش[ترمیم]

ابن الجزری کی پیدائش بروز جمعہ 25 رمضان 751ھ/ 26 نومبر 1350ء کو نماز تراویح کے بعد دمشق میں ہوئی۔[1][4] دمشق اُس وقت سلطنت مملوک (مصر) کے زیرنگیں تھا۔

ابتدائی حالات اور تحصیل علم[ترمیم]

ابن الجزری کی ابتدائی زندگی دمشق میں ہی گزری۔ 763ھ/1363ء میں اُنہوں نے قرآن کریم حفظ کیا اور بعد ازاں نماز میں قرآن کریم کی تلاوت کی ابتدا کی۔ 764ھ/1364ء سے 767ھ/1365ء تک وہ علم حدیث کی تحصیل میں مصروف رہے۔ بعد ازاں وہ قرآن کریم کی مختلف قرأتوں کی جانب مائل ہو گئے اور 768ھ/1366ء تک وہ قرأت سبع یعنی ساتوں قرأتوں پر عبور حاصل کرچکے تھے۔ قرأت سبع پر عبور کے بعد وہ مکہ مکرمہ چلے گئے اور وہاں ذوالحجہ 768ھ/ اگست 1367ء میں حج اداء کیا۔ مکہ مکرمہ میں مختصر قیام کے ابن الجزری قاہرہ، مصر پہنچے جہاں اُنہوں نے مزید تیرہ اِقسام کی قرأتوں کی تعلم حاصل کی۔ 769ھ/1368ء تک وہ قرآن کریم کی تمام قرأتوں پر عبور حاصل کرچکے تھے۔

دمشق واپسی[ترمیم]

769ھ/1368ء کے اواخر تک ابن الجزری مصر سے بلاد الشام کو واپس لوٹ آئے اور دمشق میں قیام کیا جو اُن کا آبائی شہر بھی تھا۔ بلاد الشام واپسی کے بعد اُن کی توجہ علم حدیث اور فقہ کی جانب مبذول ہو گئی اور اِس دوران میں وہ ہمہ وقت بھرپور توجہ کے ہمراہ اِن دونوں علوم کی تحصیل میں مصروف رہے۔ دمشق میں حدیث کے لیے ابن الجزری نے امام دمیاطی کے دو شاگردوں امام ابرقوہی اور امام الاسنوی سے استفادہ کرتے رہے۔ ابن الجزری کو دمشق میں قیام کے دوران ہی قرأت کی تعلیم کے بعد ہی 793ھ/1391ء میں قاضی دمشق مقرر کر دیا گیا۔ دمشق میں دارالقرآن کی بنیاد رکھی جہاں وہ علم قرأت کی تعلیم دیتے رہے۔

علم البلاغت کی تحصیل[ترمیم]

دمشق میں قیام کے بعد علم البلاغت اور اُصولِ فقہ کا مطالعہ کرنے کی جانب مائل ہوئے تو دوبارہ قاہرہ کے سفر کو روانہ ہو گئے اور قاہرہ میں ابن عبد السلام کے تلامذہ کا درس سننے کے لیے اسکندریہ میں قیام کیا۔ 798ھ/1395ء تک ابن الجزری مصر میں ہی مقیم تھے۔

اجازت و سند[ترمیم]

744ھ/1343ء میں امام ابن کثیر الدَمَشقِی سے فتویٰ کی اجازت ملی۔ 778ھ/1376ء میں امام ضیاء الدین سعد اللہ القزوینی سے اور 785ھ/ 1383ء میں شیخ الاسلام امام جلال الدین البلقینی سے فتویٰ دینے کی اجازت ملی۔

اواخر سال[ترمیم]

798ھ/1395ء میں جب اُن کی جائداد مصر میں ضبط کرلی گئی تو وہ عثمانی سلطان بایزید اول (متوفی 8 مارچ 1403ء) کے دربار بورصہ چلے گئے۔ جنگ انقرہ (20 جولائی 1402ء) میں جب عثمانی سلطان بایزید اول کو تیموری حکمران امیر تیمور کے ہاتھوں شکست ہو گئی تو ابن الجزری کو امیر تیمور نے ما وراء النہر کے علاقہ کُش میں بھیج دیا گیا اور بعد ازاں سمرقند منتقل ہو گئے۔ سمرقند میں وہ درس دیتے رہے۔ ہرات میں اُن کی ملاقات سید شریف علی بن محمد بن علی الجرجانی الحسینی الحنفی (840ھ/1339ء816ھ/ 1413ء) سے ہوئی جو عالم فقہ حنفی تھے۔ سید علی شریف الجرجانی کا بیشتر قیام ہرات اور شیراز میں رہا۔[5] 18 فروری 1405ء کو تیموری حکمران امیر تیمور کی وفات کے بعد ابن الجزری خراسان چلے گئے، خراسان سے ہرات، یزد اور اصفہان کا سفر کیا اور آخرکار شیراز میں مقیم ہو گئے۔ شیراز میں وہ کچھ مدت تک درس دیتے رہے اور بالآخر تیموری شہزاد پیرمحمد ابن جہانگیر نے اُنہیں اُن کی مرضی کے خلاف اُنہیں قاضی مقرر کر دیا۔ شیراز میں قیام کے بعد وہ بصرہ اور 823ھ/1420ء میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پہنچے۔ اِن تمام شہروں میں قیام کے بعد وہ دوبارہ شیراز چلے آئے جہاں تا وفات مقیم رہے۔

وفات[ترمیم]

ابن الجزری نے بروز جمعہ 5 ربیع الاول 833ھ/ 2 دسمبر 1429ء کو بوقت چاشت شیراز میں انتقال کیا۔[6] اُس وقت عمر شمسی اعتبار سے 79 سال 6 دن تھی۔ شیراز میں اپنے تعمیر کردہ مدرسہ میں دفن کیے گئے۔

تصانیف[ترمیم]

ابن الجزری کی علم قرأت، علم حدیث، فقہ، تاریخ اسلام پر 90 سے زائد تصانیف ہیں۔

کتاب تقريب النشر في القراءات العشر [ترمیم]

تحبير التيسير في قرأت العشر [ترمیم]

  • ابن الجزری نے علم قرأت پر عمرو الدانی کی کتاب التیسیر پر تبصرہ لکھا ہے۔ اِس کا مخطوطہ برلن اور استنبول میں محفوظ ہے۔

طيبة النشر في قرأت العشر [ترمیم]

  • اِس کتاب میں قرآن کریم کی تلاوقت کے دس مختلف طروق پر 100 رجزیہ اشعار کی نظم ہے جو ماہِ شعبان 799ھ/ مئی 1396ء میں مکمل ہوئی۔ دراصل یہ کتاب کتاب النشر سے نظم کی گئی ہے۔ یہ کتاب قاہرہ، مصر سے 1282ھ سے 1307ھ تک شائع ہوتی رہی۔ اردو زبان میں اِس کا ترجمہ قاری عبد اللہ نے مراد آباد سے شائع کروایا۔

مزید پرھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب دائرۃ المعارف الاسلامیہ: جلد 1، صفحہ 462، مقالہ: ابن الجزری۔ مطبوعہ لاہور 1384ھ/1964ء
  2. علامہ شمس الدین السخاوی: الضوء اللامع لاھل القرن التاسع، جلد 9، صفحہ 255۔ تذکرہ ابن الجزری۔ مطبوعہ دارالجیل، بیروت، لبنان، 1412ھ/ 1992ء۔
  3. علامہ شمس الدین السخاوی: الضوء اللامع لاھل القرن التاسع، جلد 9، صفحہ 255/256۔ تذکرہ ابن الجزری۔ مطبوعہ دارالجیل، بیروت، لبنان، 1412ھ/ 1992ء۔
  4. علامہ شمس الدین السخاوی: الضوء اللامع لاھل القرن التاسع، جلد 9، صفحہ 256۔ تذکرہ ابن الجزری۔ مطبوعہ دارالجیل، بیروت، لبنان، 1412ھ/ 1992ء۔
  5. عمر رضا کحالہ: معجم المؤلفین، جلد 3، صفحہ 315، تذکرہ علی الجرجانی، الرقم الترجمہ: 10037۔ مطبوعہ مؤسسۃ الرسالہ، بیروت، لبنان، 1357ھ/1938ء۔
  6. دائرۃ المعارف الاسلامیہ: جلد 1، صفحہ 463، مقالہ: ابن الجزری۔ مطبوعہ لاہور 1384ھ/1964ء۔