ابان بن عثمان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ابان بن عثمان
(عربی میں: أبان بن عثمان بن عفانخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
تاریخ وفات سنہ 723[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg خلافت راشدہ
Umayyad Flag.svg خلافت امویہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
والد عثمان بن عفان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ محدث،مسلم مؤرخ،مفسر،فقیہ،مذہبی خادم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مجال العمل علم حدیث  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
آجر مدینہ منورہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں جنگ جمل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر

ابان بن عثمان (عربی: أبان بن عثمان بن عفان الأموي القرشي) ابان بن عثمان بن عفان بن ابو العاص بن امیہ بن عبد شمس اموی قریشی، آپ کی والدہ عمرو بنت جندب بن عمرو دوسی ہیں،کنیت ابو سعید۔ آپ کی جائے پیدائش ووفات مدینہ منورہ ہے، سیرت و مغازی میں سب سے پہلےتالیف کرنے والوں میں ابان بن عثمان کا نام آتا ہے ان کی ولادت 20ھ اور وفات 100ھ ہے تابعین میں انہوں نے حدیث فقہ اور مغازی کے عالم کی حیثیت سے شہرت پائی ۔مغازی کی سب سے پہلی کتاب انہوں نے مرتب کی جسے مغیرہ بن عبد الرحمن نے روایت کیا تھا[2]مغیرہ بن عبد الرحمن نے کچھ مغازی ابان بن عثمان سے روایت کئے تھےتاریخ یعقوبی نے بھی اس کا ذکر کیا ہے[3]بعد کے سیرت نگاروں نے بطور سیرت نگار کی بجائے بطور راوی ان کا ذکر کیا انہیں صاحب المغازی سے زیادہ شہرت بطور محدث مسلمہ ہے کیونکہ ان کے بیٹوں عبد الرحمن، ابو الزناد اور الزہری نے ان سے روایت کی ہے۔ مغازی میں ان کی اصطلاحی معنوں میں کتاب نہ تھی بلکہ سیرت کے بارے میں اخبار کا مجموعہ تھا ۔اس مجموعے سے بھی آگے کچھ منتقل تو نہ ہوا لیکن اس مجموعے نے ابان بن عثمان کو مغازی یا سیرت کا پہلامؤلف بنا دیا ۔[4] کبار تابعین میں آپ کا شمار ہوتاہے،جنگ جمل میں عائشہ رضی اللہ عنہا کا ساتھ دیا، مدینہ کے دس فقہا میں سے ایک ہیں ،بہت کم احادیث آپ سے مروی ہیں،سیرت نبوی کے موضوع پر سب سے پہلے انہوں نے ہی لکھا،ان کی کتاب المغازی عہد اسلام کی قدیم کتب میں شمار ہوتی ہے۔ عبدالملک بن مروان کے زمانے میں83-76ھ تک مدینہ منورہ کے گورنر رہے۔83ھ میں معزول ہوے۔ بقیہ زندگی امارت وسیاست سے دور رہے،علم کے لیے اپنے آپ کو پوری طرح سے فارغ کرلیا تھا۔آخر عمر میں آپ کو فالج ہوگیا،اورتھوڑا سا بھراپن آگیاتھا۔سن 105ھ میں آپ کا انتقال ہوگیا۔[5][6][7][8]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. عنوان : Encyclopaedia of Islam
  2. الطبقات الکبریٰ،ابن سعد، جلد 5صفحہ156
  3. تاریخ یعقوبی جلد1 صفحہ3
  4. اردو نثر میں سیرت رسول، صفحہ 94،ڈاکٹر انور محمود خالد، اقبال اکیڈمی پاکستان لاہور 1989ء
  5. [تاريخ أمراء المدينة المنورة ص84 ـ التاريخ الشامل للمدينة المنورة ج1/388]
  6. الطبقات الكبرى
  7. الوافي بالوفيات
  8. روئے خط