یحییٰ بن یعمر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یحییٰ بن یعمر
 

معلومات شخصیت
تاریخ وفات سنہ 746ء  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ ماہرِ لسانیات  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

یحییٰ بن یعمر ابو سلیمان لیثی بصری عدوانى قرآن پر سب سے پہلے نقطہ لگانے والی شخصیت کا اعزاز رکھتے ہیں۔(المتوفی 129ھ/ 746ء)[1]
یحییٰ بن یعمر تابعی علما میں سے ایک ہیں حدیث فقہ اور لغات عرب کا گہرا علم رکھنے والے تھے نحو کا علم انھوں نے ابو الاسود الدولی سے حاصل کیا
عثمام، علی عمار ابو ذر اور ابو ہریرہ سے روایت کرتے تھے اور ان سے یحییٰ بن عقیل، عطا خراسانی قتادہ اور عکرمہ نے روایت کی۔
حجاج نے انھیں مرو کا قاضی بنایا عموما ایک گواہ اور قسم سے فیصلہ کر دیا کرتے تھے۔[2]

نام ونسب[ترمیم]

یحییٰ نام،ابوسلیمان کنیت،نسبی تعلق قبیلہ لیث سے تھا۔

فضل وکمال[ترمیم]

قرآن، حدیث، فقہ زبان اورادب جملہ علوم کے جامع تھی۔

قرآن[ترمیم]

قرآن کے ممتاز عالم تھے،علامہ ابن سعد انھیں علمائے قرآن میں لکھتے ہیں۔ [3]

حدیث[ترمیم]

حافظ حدیث بھی تھے،حافظ ذہبی نے حفاظ تابعین کے دوسرے طبقہ میں ان کے حالات لکھے ہیں،صحابہ میں انھوں نے حضرت عثمانؓ،علیؓ،عمار بن یاسرؓ، ابوذر غفاریؓ ،ابوہریرہؓ،ابو موسیٰ اشعریؓ،ابو سعید خدریؓ،ابن عباسؓ،ابن عمرؓ،سلیمان بن ضردؓ اورعائشہ صدیقہؓ جیسے اکابر سے روایتیں کی ہیں۔ [4] یحییٰ بن عقیل سلیمان تیمی،عبد اللہ بن بریدہ ،قتادہ،عکرمہ،عطاء خراسانی رکین بن ربیع،عبد اللہ بن کلب سدوسی ازرق بن قیس اوراسحٰق بن نوید وغیرہ ان کے زمرۂ تلامذہ میں تھے۔ [5]

فقہ[ترمیم]

فقہ میں بھی انھیں پورا درک تھا،حافظ ذہبی انھیں فقیہ علما میں لکھتے ہیں [6]ان کے تفقہ کی ایک سند یہ ہے کہ وہ مرو کے قاضی تھے۔ [7]

زبان و ادب[ترمیم]

ان مذہبی علوم کے علاوہ زبان و ادب میں بھی انھیں مہارت تھی،نحو اورعربی زبان کے فاضل تھے[8] نحوانہوں نے اس کے موجد اول ابوالاسود دؤلی سے حاصل کی تھی۔ [9]

فصاحت وبلاغت[ترمیم]

زبان پر عبور کے ساتھ وہ بڑے فصیح وبلیغ تھے،ان کا شمار ممتاز فصحاء میں تھا۔ [10]

قضاء ت میں سہولت[ترمیم]

یحییٰ خراسان کے پایہ تخت مرو کے قاضی تھے،مرو میں باقاعدہ دارالقضاء تھا،لیکن حاجت مندوں کی آسانی کے لیے وہ چلتے پھرتے ،راستے گلی میں تنازعوں کا فیصلہ کردیتے تھے،یحییٰ بن موسیٰ بن یسار کا بیان ہے کہ میں نے یحییٰ بن یعمر کو بازاروں اورگلیوں میں فیصلہ کرتے ہوئے دیکھا،بسا اوقات وہ سواری پر چلتے ہوتے، اس حالت میں اگر دو فریق آجاتے تو سواری روک کر کھڑے کھڑے فیصلہ دے دیتے۔

ایک اہم کا رنامہ[ترمیم]

ان کی زندگی کا سب سے اہم کارنامہ جو ابدالآباد تک قائم رہے گا،قرآن کو منقوط کرنا ہے،ابتدا میں قرآن پاک نقطوں سے خالی تھا،سب سے اول یحییٰ نے پڑھنے والوں کی آسانی کے لیے نقطے لگائے۔ [11]

اہل بیت نبوی سے عقیدت[ترمیم]

اہل بیت نبوی کے ساتھ ان کو نہایت گہری عقیدت تھی اور وہ ان کو بلا تفریق سب پر فضیلت دیتے تھے،لیکن کسی کی تنقیص نہ کرتے،ایک مرتبہ حجاج نے ان سے کہا تمھارا خیال ہے کہ حسن وحسین رسول اللہ ﷺ کی ذریت میں تھے؟یا تو تم اس خیال سے باز آؤ یا اس کا ثبوت پیش کرو،انھوں نے قرآن کی یہ آیت پیش کرکے ومن ذریۃ داؤد وسلیمان وزکریا ویحییٰ وعیسیٰ ، کہا کہ عیسی ؑ اور ابراھیمؑ کے درمیان اس سے کہیں کم تعلق ہے،جتنا حسنؓ وحسینؓ اورمحمد ﷺ کے درمیان ہے،اس جواب میں یہ نکتہ ہے کہ جب عیسیٰ بعد زمانی کے باوجود صرف مادری تعلق سے ابراہیم کی ذریت میں ہو سکتے ہیں تو حسنؓ وحسینؓ کے جو خاص نواسے ہیں رسول اللہ ﷺ کی ذریت میں کیا شبہ، یہ جواب سن کر حجاج مطمئن ہو گیا۔ [12]

وفات[ترمیم]

باختلاف روایت 119ھ یا 120ھ میں انتقال کیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. غایۃ النہايۃ 2/381
  2. موسوعہ فقہیہ ،جلد6 صفحہ 499، وزارت اوقاف کویت، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا
  3. (ابن سعد،ج7،ق2،ص101)
  4. (تہذیب التہذیب:11/1625)
  5. (ایضاً)
  6. (تذکرۃ الحفاظ:1/65)
  7. (ابن سعد،ج5،ق2،ص101)
  8. (ابن سعد،ج5،ق2،ص101)
  9. (تہذیب:11/305)
  10. (شذرات الذہب،ج اول،ص176)
  11. (ابن سعد،ج اول،ق2،ص101)
  12. (شذرات الذہب:1/176)