داؤد بن دینار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
داؤد بن دینار
معلومات شخصیت

داؤدبن دینارؒ تابعین میں سے ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

داؤد نام ،ابوبکر کنیت،طہمان القسیری کے غلام تھے،اصل وطن سرخس تھا،لیکن بصرہ میں سکونت اختیار کرلی تھی۔

فضل وکمال[ترمیم]

داؤد کا پیشہ خیاطی تھا [1] لیکن یہ پیشہ انہیں تحصیل علم اورکسبِ کمال سے نہ روک سکا،انہوں نے خیاطی کے ساتھ ساتھ قرآن ،حدیث اورفقہ میں اتنا کمال حاصل کرلیا کہ حافظ ذہبی انہیں امام حافظ اورمفتی لکھتے ہیں۔ [2]

تعلیم قرآن[ترمیم]

قرآن کے ساتھ انہیں خاص شغف تھا،اس شغف کا باعث ایک خاص واقعہ ہوا جو خود انہی کی زبان میں یہ ہے کہ میں ایک مرتبہ طاعون میں مبتلا ہوا،بیہوشی کی حالت میں مجھے نظر آیا کہ میرے پاس دو آدمی آئے ہیں، ان میں سے ایک نے میری زبان کی جڑ کو اوردوسرے نے میرے تلوے کو دبا کر ایک نے دوسرے سے پوچھا کیا چیز معلوم ہوتی ہے دوسرے نے جواب دیا تسبیح تکبیر اورکچھ مسجد کی طرف چلنا اورتھوڑی سی قرآن کی قرأت ،میں نے اس وقت تک قرآن حاصل نہ کیا تھا بیماری سے اٹھنے کے بعد ہمہ تن تعلیم قرآن کی طرف متوجہ ہوگیا اوراس کو حاصل کرلیا۔ [3]

حدیث[ترمیم]

حدیث کے وہ ممتاز حفاظ میں تھے،علامہ ابن سعد لکھتے ہیں کان ثقۃ کثیر الحدیث [4] حافظ ذہبی امام حافظ اورثبت لکھتے ہیں [5] حدیث میں انہوں نے ابو العالیہ سعید بن مسیب،ابو عثمان نہدی شعبی،عکرمہ عززہ بن عبدالرحمن محمد بن سیرین،ابوالزبیر،مکحول شامی وغیرہ سے سماع کیا تھا اور شعبہ،ثوری،مسلمہ بن علقمہ،ابن جریح،حماد،وہیب بن خامہ عبدالوارث ابن سعید،عبدالاعلی ابن الاعلی ،یحییٰ قطان ،یزید بن زریع،اوریزید بن ہارون وغیرہ ان کے زمرہ تلامذہ میں تھے۔ [6]

ان کی مرویات کی تعداد دو سو تک پہنچتی ہے [7] کیفیت کے اعتبار سےان کی مرویات کے متعلق ائمہ فن کی یہ رائے تھی،امام احمد بن حنبل فرماتے تھے کہ وہ ثقہ ہیں ایک مرتبہ کسی نے داؤد کے بارے میں آپ سے پوچھا آپ نے فرمایا داؤد جیسے شخص کے متعلق بھی پوچھنے کی ضرورت ہے ؟[8] ابن حبان لکھتے ہیں کہ وہ متقنین فی الروایہ میں تھے [9] عجلی کہتے ہیں کہ وہ ثقہ،جید الاسناد اوررفیع تھے (ایضاً) ان کی روایات صحاح کی تمام کتابوں میں ہیں۔

فقہ[ترمیم]

ان کے تفقہ کے لیے یہ سند کافی ہے کہ بصرہ جیسے علمی مرکز کے مفتی تھے۔ [10]

قوت استدلال[ترمیم]

اس علم کے ساتھ اُن کا دماغ نہایت عقلی تھا قوتِ استدلال ایسی زبردست تھی کہ بڑے سے بڑے معترضین کو دو جملوں میں خاموش کردیتے تھے،ایک مرتبہ شام گئے، وہاں غیلان قدری سے ملاقات ہوئی،اس نے کہا میں آپ سے چند مسائل پوچھنا چاہتا ہوں،آپ نے جواب دیا تم پچاس مسائل پوچھ سکتے ہو،لیکن مجھے دوسوالوں کی اجازت دو، غیلان نے کہا،فرمائیے آپ نے سوال کیا ،خدا نے انسان کو سب سے افضل کون سی شے عطا کی ہے؟غیلان نے کہا عقل،فرمایا اچھا بتاؤ عقل اختیاری شے ہے کہ جس کا دل چاہے لے اورجس کا دل چاہے نہ لے، یا خدا کی جانب سے تقسیم ہوتی ہے غیلان ان چند جملوں کو سن کر خاموشی سے چلا گیا،اورکوئی جواب نہ دے سکا، اس وقت داؤد نے کہا عقل ہی کی طرح خدا نے ایمان ومذہب ہر شے تقسیم فرمائی ہے،خدا ہی کی قوت اصل ہے [11] اورجب تمام امور خدا کی طرف سے ہوئے تو پھر قدر کہا ں رہ گیا۔

عمل[ترمیم]

اس علم کے ساتھ داؤد نے عمل کی دولت سے بھی وافر حصہ پایا تھا،حافظ ذہبی لکھتے ہیں کہ وہ راس فی العلم والعمل تھے [12] حافظ ابن حجر لکھتے ہیں کہ وہ صالح آدمی تھے [13] راستہ چلتے بھی خدا کا ذکر جاری رہتا تھا [14] چالیس سال تک مسلسل روزے رکھے اور لوگوں کو خبر تک نہ ہونے پائی،صبح کو گھر سے کھانا لے کر دکان چلے جاتے تھے اورراستہ میں اس کو خیرات کردیتے تھے اورشام کو گھر واپس ہوکر افطار کرتے تھے ۔ [15]

وفات[ترمیم]

۱۳۹ھ میں حج سے واپسی میں راستہ میں وفات پائی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (تہذیب التہذیب:۳/۲۰۴)
  2. (تذکرہ الحفاظ:۱/۱۳۱)
  3. (ابن سعد،ج ۷،ق۲،ص۲۰)
  4. (ایضاً)
  5. (تذکرۃ الحفاظ :۱/۱۳۱)
  6. (تہذیب التذہیب:۳/۲۰۴)
  7. (تہذیب الکمال:۱۱۱)
  8. (تہذیب التہذیب:۳/۲۰۴)
  9. (ایضاً)
  10. (تذکرہ الحفاظ:۱/۱۳۱)
  11. (تذکرۃ الحفاظ:۱/۱۳۱)
  12. (ایضاً)
  13. (تہذیب التہذیب:۳/۲۰۴)
  14. (تذکرہ الحفاظ :۱/۱۳۲)
  15. (ایضا:۱۳۲)