عامر بن شراحیل شعبی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عامر بن شراحیل شعبی
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 641  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کوفہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 723 (81–82 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کوفہ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
نمایاں شاگرد قتادہ بن دعامہ، ابو حنیفہ  ویکی ڈیٹا پر شاگرد (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ قاضی، محدث، فقیہ، مؤرخ  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل فقہ، علم حدیث  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

امام شعبی صحاح ستہ کے ثقہ راوی اور عظیم محدثین میں شمار کیے جاتے ہیں عامر بن شراحیل الشعبی کو ہی امام شعبی کہا جاتا ہے

نام ونسب[ترمیم]

امام شعبی کا پورانام عامر بن شراحیل بن عبد بن ذی بکار، کنیت ابوعمر، لقب شعبی۔ آپ قبیلہ ہمدان سے تعلق رکھتے ہیں۔

پیدائش[ترمیم]

ان کی ولادت عمر فاروق کے دور خلافت21ھ میں کوفہ میں ہوئی۔ اس لحاظ سے آپ تابعی تھے خود فرماتے کہ ’’میں نے پانچ سو صحابہ کو پایا یعنی ان سے ملاقات کی‘‘۔

تحصیل علم[ترمیم]

امام شعبی کی پیدائش اور پرورش صحابہ کرام کے دور میں ہوئی۔ شہر کوفہ کئی صحابہ ہم کا مسکن تھا۔ انہوں نے اکابر صحابہ کے علم سیکھا جس نے آپ کو امام العصر اور علامۃ التابعین بنا دیا۔ علمی اعتبار سے اپنے زمانے کے امام اور علامہ تھے۔ قرآن وحدیث ،فقہ ومغازی،ریاضی وادب اور شاعری میں انہیں یکساں دسترس حاصل تھی۔

مشائخ و اساتذہ[ترمیم]

امام شعبی احادیث نبوی کے جلیل القدر حافظ تھے۔ صحابہ کرام کی شاگردی سے بھی مالا مال فرما دیا۔ جن حضرات سے آپ نے روایت حدیث کی ،ان میں سے چند ایک کے اسماء گرامی یہ ہیں:

وسعت علم[ترمیم]

  • مَا سَمِعْتُ مُنْذُ عِشْرِيْنَ سَنَةً رَجُلاً يُحَدِّثُ بِحَدِيْثٍ إِلاَّ أَنَا أَعْلَمُ بِهِ مِنْهُ ،[2]
  • کہ میں نے بیس سال کے عرصہ میں کسی سے کوئی ایسی نئی حدیث نہیں سنی کہ اس سے بیان کرنے والے سے زیادہ واقف نہ رہا ہوں۔* امام ابن ابی لیلیٰ امام شعبی اور ابراہیم نخعی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
  • كَانَ إِبْرَاهِيْمُ صَاحِبَ قِيَاسٍ، وَالشَّعْبِيُّ صَاحِبَ آثَارٍ ،[2]
  • کہ امام شعبی محدث ہیں اور ابراہیم نخعی مجتہد ہیں۔
  • علم حدیث کے علاوہ دوسرے علوم پر بھی امام شعبی کو دسترس حاصل تھی۔ قرآن مجید کے اتنے زبردست قاری تھے کہ ”زعیم القراء“ کہلاتے تھے۔
  • امام شعبی قوت حافظہ باکمال تھا۔ چنانچہ آپ کا اپنا بیان ہے۔
  • مَا كَتَبْتُ سَوْدَاءَ فِي بَيْضَاءَ إِلَى يَوْمِي هَذَا، وَلاَ حَدَّثَنِي رَجُلٌ بِحَدِيْثٍ قَطُّ إِلاَّ حَفِظْتُهُ [3]* کہ میں نے آج تک کاغذ پر کچھ نہیں لکھا، جب کوئی شخص مجھے کوئی حدیث سناتا تو مجھے حفظ ہوجاتی تھی،مجھے کبھی ضرورت محسوس نہیں ہو ئی کہ وہ اسے میرے سامنے دوبارہ پڑھے۔

وفات[ترمیم]

امام شعبی کی وفات کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔
1: 109ھ، 2: 106ھ، 3: 103ھ[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تذکرۃ الحفاظ ج1ص81
  2. ^ ا ب سیر اعلام النبلاء ج4ص485
  3. تذکرۃ الحفاظ ج1ص85
  4. سیر اعلام النبلاء ج4ص492