عبداللہ بن عون

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبداللہ بن عون
معلومات شخصیت
P islam.svg باب اسلام

عبداللہ بن عونؒ تابعین میں سے ہیں۔

نام ونسب[ترمیم]

عبداللہ نام، ابوعون کنیت ،عبداللہ بن درہ مزنی کے غلام تھے۔

پیدائش[ترمیم]

سیل جارف کے تین سال قبل پیدا ہوئے۔ [1]

فضل وکمال[ترمیم]

علمی اعتبار سے کوفہ کے اکابر علماء میں تھے، امام ثوری کہتے تھے کہ میں نے ایوب، یونس ،تیمی اورابن عون جیسے فضلا کسی ایک شہر میں اکھٹا نہیں دیکھے ۔ [2]

حدیث[ترمیم]

اگرچہ عبداللہ جملہ مذہبی علوم میں دستگاہ رکھتے تھے،لیکن حدیث نبوی سے ان کو خاص ذوق تھا اوراس میں امتیازی پایہ رکھتے تھے،علامہ ابن سعد لکھتے ہیں۔کان ثقۃ کثیر الحدیث [3] انہوں نے اس عہد کے تمام اکابر محدثین کا علم اپنے دامن میں سمیٹ لیا تھا،ابن مداینی کا بیان ہے کہ ابن عون نے ایسی مستند احادیث محفوظ کی تھیں،جوان کے کسی ساتھی کے حصہ میں نہ آئی ہوں گی،مدینہ کے ممتاز محدثین میں انہوں نے سالم اورقاسم،بصرہ کے محدثین میں حسن بصری اورابن سیرین اورکوفہ کے محدثین میں امام شعبی اورامام نخعی، مکہ کے محدثین میں عطاء اورمجاہداور شام کے محدثین میں مکحول اورجاء بن حیوہ سے سماع حدیث کیا تھا [4] اس طرح اس عہد کے تمام مراکز حدیث کے اکابر محدثین کی حدیثیں انہوں نے حاصل کرلی تھیں۔ ان کے علاوہ اوربہت سے علماء سے بھی وہ مستفید ہوئے تھے، ان میں بعضوں کے نام یہ ہیں،ثمامہ بن عبداللہ بن انس،انس بن سیرین،زیاد بن جیر بن حبہ، عبدالرحمن ابن ابی بکرہ ،موسیٰ بن انس بن مالک،ہشام بن زید بن انس،سعید بن جبیر اور نافع وغیرہ۔ [5] ان بزرگوں کے فیض نے ابن عون کا دامن علم نہایت وسیع کردیا تھا،ابن مہدی کا بیان ہے کہ عراق میں ابن عون سے بڑا سنت کا عالم کوئی نہ تھا۔ [6] ابن مبارک کہتے تھے کہ میں نے ملاقات سے پہلے جن جن لوگوں کا تذکرہ سنا تھا ان میں ابن عون حیوۃ اورسفیان کے علاوہ باقی سب کو ملنے کے بعد کم پایا،مگر ابن عون سے ملنے کے بعد دل چاہتا تھا کہ ہمیشہ کے لیے ان کے دامن سے وابستہ ہوجاؤں اورمرتے دم تک جدا نہ ہوں۔ [7] ایک مرتبہ ہشام بن حسان نے ایک حدیث بیان کی ،کسی نے پوچھا یہ حدیث کس سے سنی،جواب دیا، اُس شخص سے جس کا مثل میری آنکھوں نے نہیں دیکھا،انہوں نے حسن بصری اورابن سیرین کو بھی مستثنیٰ نہیں کیا۔ [8]

روایت حدیث میں خوف واحتیاط[ترمیم]

اس وسعت علم کے باوجود حدیث بیان کرنے میں بڑے محتاط تھے انہوں نے روایت حدیث کے خوف سے راستہ میں نکلنا چھوڑدیا تھا ،بکار بن محمد کا بیان ہے کہ ابن عون نے مجھ سے کہا کہ بھتیجے لوگوں نے میرا راستہ بند کردیا،میں اپنی ضرورت کے لیے بھی گھر سے باہر نہیں نکل سکتا، بکار کہتے کہ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ لوگ ان سے حدیثیں پوچھتے تھے۔ [9] تاہم انہوں نے روایتِ حدیث کا دروازہ بالکل بند نہیں کردیا تھاا ور علماء کی مصدقہ حدیثیں بیان کرتے تھے،بکار روایت کرتے ہیں کہ ابن عون نے کوفہ میں بڑا علم حاصل کیا اور اس کو محمد کے سامنے پیش کیا،محمد نے سن کر جس حدیث پر پسندیدگی ظاہر کی اس کو ابن عون نے بیان کیا،باقی احادیث چھوڑ دیں۔ [10]

تلامذہ[ترمیم]

ان کے تلامذہ میں بڑے بڑے آئمہ تھے،اعمش،سفیان ثوری،شعبہ اورابن مبارک وغیرہ عام تلامذہ کا دائرہ نہایت وسیع تھا،ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں ،داؤد بن ابی ہند،یحییٰ القطان ،عباد بن العوام،ہشیم،یزید بن زریع،ابن علیہ،بشر بن مفضل ،معاذ بن معاذ، یزید بن ہارون، ابو عاصم اورمحمد بن عبداللہ انصاری وغیرہ۔ [11]

فضائل اخلاق[ترمیم]

علم سے زیادہ ان کا طغرائے کمال ان کا زہد وورع اوران کے اخلاقی وروحانی فضائل تھے،ابن حبان کا بیان ہے کہ ابن عون عبادت وریاضت زہد وورع فضل وکمال پابندی سنت اوراہل بدعت پر تشدد میں اپنے زمانہ کے سرداروں میں تھے۔ [12]

عقیدہ میں تشدد[ترمیم]

عقائد میں صحابۂ کرام کے پاک اورصاف عقیدہ کے پابند تھے اور اس میں مبتدعانہ خیالات کی آمیزش کو سخت ناپسند کرتے تھے اور ایسے لوگوں کو سلام تک نہ کرتے تھے (ابن سعد،ج ۷،ق ۲،ص ۲۵) ایک مرتبہ ان کے سامنے قدر کا ذکر آیا، انہوں نے کہا میری عمر اس عقیدہ کی عمر سے زیادہ ہے، میں نے سعید جہنی اور سنہویہ کے علاوہ اسلاف میں کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا یہ خیال شرہے۔ [13]

عبادت[ترمیم]

ان کے زہد وورع اورعبادت وریاضت نے ابن سیرین کو بھلادیا تھا قرہ کا بیان ہے کہ ہم لوگوں کو ابن سیرین ہی کے ورع پر حیرت ہوتی تھی، ابن عون نے انہیں بھی بھلادیا [14] ان کا سب سے بڑا شغل عبادت تھا،نماز فجر کے بعد قبلہ رو بیٹھ کر ذکر کرتے تھے،طلوع آفتاب کے بعد اشراق کی نماز پڑھ کر لوگوں سے مخاطب ہوتے [15] ہر رات کو کئی سو رکعتیں پڑھتے تھے،اگر کسی شب کو ناغہ ہوجاتا تو دن کو پورا کرتے [16] گھر کے احاطہ میں ایک خاص مسجد تھی، مغرب اورعشاء کے علاوہ باقی تین نمازیں اپنے لڑکوں،بھائیوں اور دوسرے حاضرین کے ساتھ اسی مسجد میں پڑھتے تھے،جمعہ اور عیدین میں بڑا اہتمام کرتے تھے،غسل کرکے بہترین لباس زیب تن کرتے،خوشبو لگاتے کبھی سواری پر اورکبھی پاپیادہ مسجد جاتے،جمعہ کی نماز پڑھ کر گھر لوٹ جاتے اور سنتیں وغیرہ گھر ہی پر پڑھتے،رمضان کے زمانہ میں عبادت کرتے تنہائی میں الحمد للہ ربناکے ورد میں مشغول رہتے تھے [17]ایک دن درمیان دے کر ہمیشہ روزہ رکھتے تھے،اس معمول میں مرتے دم تک فرق نہ آیا۔ جہاد فی سبیل اللہ کے لیے خاص طور سے ایک اونٹنی پال رکھی تھی جس کو بہت محبوب رکھتے تھے،بعض مہمات میں ان کی شرکت کی تصریح ملتی ہے؛چنانچہ روم کی کسی جنگ میں شریک ہوئے تھے اورایک رومی سے مبارز طلبی کرکے اس کو قتل کیا تھا۔ [18]

اصلاح نفس[ترمیم]

اپنے نفس کی اصلاح کے علاوہ دنیا کے اور مشغلوں سے کوئی دلچسپی نہ تھی بکار بن محمد روایت کرتے ہیں کہ ابن عون نہ کسی سے مذاق کرتے تھے،نہ کسی سے بحث ومناظرہ کرتے تھے،نہ شعر خوانی کرتے تھے،بس انہیں اپنے نفس کی اصلاح سے کام تھا۔ [19]

احسان میں اخفاء[ترمیم]

کسی کے ساتھ احسان کرکے اس کا اظہار بُرا سمجھتے تھے،بکار بن محمد کا بیان ہے کہ ابن عون جب کسی کے ساتھ کوئی سلوک کرتے تھے تو اس مخفی طریقہ سے کہ کسی کو خبر نہ ہونے پائے، دوسروں پر اس کا اظہار نہایت بُرا جانتے تھے۔ [20]

قسم سے احتراز[ترمیم]

قسم کھانا اچھا نہ سمجھتے تھے؛چنانچہ کبھی سچی قسم بھی نہ کھاتے تھے، بکار بن محمد بیان کرتے ہیں کہ میں ایک زمانہ میں دراز؛بلکہ ان کی موت تک ان کے ساتھ رہا، اس طویل مدت میں میں نے کبھی ان کو جھوٹی سچی کسی قِسم کی قسم کھاتے نہیں دیکھا۔

اخلاق[ترمیم]

نہایت خوش اخلاق،حلیم الطبع اورنرم خو تھے، کسی موقع پر بھی ان کی زبان سےناروا کلمہ نہیں نکلتا تھا،بکار کا بیان ہے کہ میں نے ابن عون سے زیادہ زبان پر قابو رکھنے والا آدمی نہیں دیکھا،وہ اپنے لونڈی غلاموں ؛بلکہ بکر ی اورمرغی تک کو کبھی گالی نہ دیتے تھے [21]جہاد کی جس اونٹنی کو بہت محبوب رکھتے تھے، ایک مرتبہ ایک غلام کو اس پر پانی لاد کر لانے کا حکم دیا،اس نے اس کو ایسی بے دردی کے ساتھ مارا کہ اس کی آ نکھ بہہ گئی،لوگوں کو خیال ہوا کہ اگر انہیں کسی بات پر غصہ آسکتا ہے تو غلام کی اس حرکت پر ضرور آئے گا،لیکن جب ان کی نظر اونٹنی پر پڑی تو غلام سے صرف اس قدر کہا سبحان اللہ خدا تم کو برکت دے کیا تم کو مارنے کے لیے چہرہ کے علاوہ اورکوئی عضو نہ ملتا تھا اور اس کو گھر سے نکال کر آزاد کردیا [22] ان کی انتہائی خفگی تھی،اپنے دشمنوں کو بھی جن کے ہاتھوں ایذا پہنچتی تھی برا نہ کہتے تھے، ایک مرتبہ انہوں نے ایک عربی عورت سے شادی کی،بلال بن ابی بروہ نے اس عصبیت میں کہ ایک غلام نے ایک عربی عورت سے شادی کی انہیں کوڑوں سے پٹوایا،بکار کا بیان ہے کہ میں نے اس واقعہ کے بعد بھی ابن عون کی زبان سے بلال کے متعلق ایک لفظ نہیں سنا، ایک مرتبہ بعض لوگوں نے کہا کہ بلال نے آپ کے ساتھ نہایت بُرا سلوک کیا، فرمایا ایک آدمی مظلوم ہوتا ہے،لیکن پھر وہی ظلم کی شکایت کرکے ظالم بن جاتا ہے،تم میں سے کوئی بھی بلال کے لیے مجھ سے زیادہ سخت نہیں ہے،لیکن میں اس کی شکایت کرکے ظالم نہ بنوں گا۔ [23]

حب رسول[ترمیم]

ذاتِ نبویﷺ کےساتھ والہانہ شیفتگی رکھتے تھے؛چنانچہ ان کی سب سے بڑی تمنا یہ تھی کہ ایک مرتبہ خواب ہی میں رُخِ انور کی زیارت ہوجاتی،خدانے ان کی یہ تمنا پوری کی،وفات سے کچھ دنوں پہلے خواب میں دیدار جمال نبوی سے مشرف ہوئے، اس شرف پر ایسے وارفتہ ہوئے کہ بالاخانہ سے اتر کر فوراً مسجد میں آئے اورانتہائی مسرت میں گرپڑے پیروں میں چوٹ آئی، لیکن ایک بابرکت یادگار کی حیثیت سے اس چوٹ کا علاج نہ کیا کہ۔ [24] زخمِ دل مظہر مبادابہ شود ہشیار باش کیں جراحت یادگارِ نادکِ مژگااوست

وفات[ترمیم]

بالآخر یہی چوٹ مرض الموت کا سبب بن گئی، لیکن ابن عون نے نہایت صبر واستقلال کے ساتھ اس مرض کی تکلیفوں کا مقابلہ کیا،بکار بن محمد کا بیان ہے کہ بیماری کی حالت میں وہ شبرسے زیادہ ضابط وصابر تھے،دور ان علالت میں مطلق حرفِ شکایت زبان پر نہ لائے،ہوش وحواس ،آخر دم تک قائم رہے،اپنی پھوپھی ام محمد بنت عبداللہ کے کہنے پر میں نے ابن عون کی حالت نزع میں سورہ یسین پڑھی تھی میں نے موت کے وقت ان سے زیادہ عاقل کسی کو نہیں دیکھا، جب تک آخری سانس آتی رہی اس وقت تک وہ قبلہ رو خدا کا ذکر کرتے رہے،بالآخر خدا نے ان کی مشکل آسان کی اور رجب ۱۵۱ھ میں وہ واصل بحق ہوگئے اور محراب میں جنازہ رکھ کر نماز پڑھائی گئی،جمیل بن محفوظ ازدی نے نماز جنازہ پڑھائی۔ [25]

ترکہ[ترمیم]

ابن عون کے پاس نقد روپیہ نہ تھا،ترکہ میں دومکانات چھوڑے،مرض الموت میں پانچویں حصہ کی وصیت اپنے اعزہ واقرباء کے لیے کرگئے تھے،دس ہزار سے کچھ اوپر قرض تھا، اس کو ادا کرنے کے بعد وصیت پوری کی گئی۔ [26]

حلیہ[ترمیم]

نہایت خوش جمال آدمی تھے،نصف کانوں تک پٹے تھے،مونچھیں زیادہ گہری نہیں کترواتے تھے۔ [27]

نفاست[ترمیم]

خوش جمالی کے ساتھ بڑے نفاست پسند،لطیف مزاج اورخوش لباس تھے، کپڑے نہایت نرم وباریک پہنتے تھے،خوشبوزیادہ لگاتے تھے،پورا لباس پہن کر گھر سے باہر نکلتے تھے، وضو اورکھانے وقت خادم رومال پیش کرتا تھا اس سے ہاتھ منہ صاف کرتے تھے،لہسن وغیرہ بدبودار چیزوں سے سخت نفرت تھی جس کھانے میں لہسن ہوتا تھا، اس کو ہاتھ نہ لگاتے تھے، ایک مرتبہ لونڈی نے کھانا پکا کر سامنے لگایا ،اس میں لہسن کی بو معلوم ہوئی لونڈی سے پوچھا ،اس نے اقرار کیا لیکن طبیعت میں ضبط و تحمل بہت تھا، اس لیے صرف اس قدر کہا،خدا تجھ کو برکت دے، اس کو میرے سامنے سے لے جاؤ۔ [28]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. (ابن سعد،ج ۷ ،ق۲،ص ۲۵)
  2. (تہذیب التہذیب:۵/۳۴۷)
  3. (ابن سعد،ج ۷،ق۲،ص۴۲)
  4. (تہذیب التہذیب:۵/۳۴۷)
  5. (تہذیب التہذیب:۵/۳۴۷)
  6. (ایضاً:۳۴۸)
  7. (ایضاً)
  8. (ابن سعد،ج۷،ق۲،ص۲۷)
  9. (ابن سعد ایضاً:۲۵)
  10. (ابن سعد،ج۷،ق۲،ص۲۷)
  11. (تہذیب التہذیب :۵/۳۴۷)
  12. (تہذیب التہذیب ایضاً:۳۴۸)
  13. (تہذیب التہذیب ایضاً:۲۷)
  14. (شذرات الذہب :۱/۲۳۰)
  15. (ابن سعد،ج۷،ق ۲،ص ۲۵)
  16. (ایضاً:۲۵)
  17. (ایضاً:۲۶)
  18. (ابن سعد،ج ۵،ق۲،ص۲۸)
  19. (ایضاً:۲۵)
  20. (ایضاً:۲۸)
  21. (ایضاً:۲۵)
  22. (ایضاً:۲۵)
  23. (ایضاً:۲۵)
  24. (ابن سعد:۲/۲،ص۲۹)
  25. (ابن سعد ایضاً:۲۹،۳۰)
  26. (ابن سعد ایضاً:۳۰)
  27. (ابن سعد،ج۷،ق۲،ص۲۷)
  28. (ایضاً:۲۶)