ابن شہاب زہری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محمد بن مسلم ابن شہاب زہری
{{#if:
محمد بن مسلم ابن شہاب زہری
پیدائش 58ھ
مدینہ منورہ
وفات 17 رمضان 124ھ
شغب
نسل عرب
دور اسلامی عہدِ زریں
شعبۂ زندگی دمشق
مذہب اسلام
شعبۂ عمل حدیث، سیرت نبوی

نام و نسب[ترمیم]

آپ کا نام محمد بن مسلم ، کنیت ابو بکر اور لقب اعلم الحفاظ ہے ۔ پورا نسب یوں ہے : ابو بکر محمد بن مسلم بن عبید اللہ بن عبداللہ بن شہاب بن عبداللہ بن حارث بن زھرہ بن کلاب الزھری [1] آپ کے والد کا نام مسلم تھا مگر آپ اپنے دادا شہاب بن حارث کی نسبت سے ابن شہاب مشہور ہوئے ۔ آپ قریش کے مشہور قبیلہ بنو زہرہ کی طرف منسوب ہوئے ہیں ۔ مدینہ کے رہنے والے ہیں ۔ 50ھ میں پیدا ہوئے ۔ [2]

حصول علم کی استعداد[ترمیم]

علمی کمالات کے اعتبار سے آپ کوئی معاصر ہم پایہ نہ تھا ۔ حصول علم کی استعداد فطری تھی ۔ ذہانت ، ذکاوت اور قوت حافظہ بے نظیر پائی تھی ۔ ذہین ایسے تھے کہ کسی مسئلہ کو دوبارہ سمجھنے کی ضرورت پیش نہ آتی ۔ حافظہ اتنا قوی تھا کہ ایک مرتبہ جو بات سن لی وہ ہمیشہ کے لئے لوحِ دل پر نقش ہو گئی ۔ ان کے قوت حافظہ کی ایک ادنیٰ مثال یہ ہے کہ اسی دن میں پورا کلام اللہ حفظ کر لیا تھا ۔ [3]

ذوق و طلب[ترمیم]

اس ذہن اور حافظہ کے ساتھ ان کے ذوق اور طلب کی جستجو کا بھی یہی حال تھا۔ آٹھ سال تک امام مدینہ سعید بن مسیب کی خدمت میں رہے ۔ ابو الزناد بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ زہری کے ساتھ علماء کے گھروں کا چکر لگاتے ۔ زہری کے ساتھ تختیاں اور بیاضیں ہوتی تھیں وہ جو کچھ سنتے جاتے اس کو قلمبند کرتے جاتے ۔ [4]

مرویات کا پایہ[ترمیم]

حفظِ حدیث میں روایات کی کثرت سے زیادہ ان کی کیفیت اور نوعیت معیار کمال ہے ۔ عمر و بن دینار جو خود بہت بڑے محدث تھے ، فرماتے تھے کہ میں نے زہری سے زیادہ حدیث میں کسی کو ۔۔۔نہیں دیکھا ۔ [5]

مروی روایات[ترمیم]

امام ابو داؤد فرماتے ہیں ، زہری سے دو ہزار دو سو حدیثیں مری ہیں ۔ ان میں سے نصف مسند ہیں ۔ [6]

شیوخ[ترمیم]

آپ کو چونکہ علم حاصل کرنے کی ایک تڑپ تھی اس لئے آپ کے شیوخ کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔ ان کے عہد کے صحابہ اور اکابر تابعین میں کوئی بھی ایسا شخص نہ تھا جس سے انہوں نے استفادہ نہ کیا ہو ۔ صحابہ میں عبداللہ بن عمر ، عبداللہ بن جعفر، ربیعہ بن عباد، مسور بن مخرمہ ، انس بن مالک ، سہل بن سعد، سائب بن یزید ، شبیب، محمود بن ربیع، عبداللہ بن ثعلبہ ، عبداللہ بن عامر بن ربیع وغیرہ اور اکابر تابعین میں سعید بن مسیب ، مدینہ کے ساتوں مشہور فقہاء شامل ہیں ۔ [7]

تلامذہ[ترمیم]

آپ کے شاگردوں کی تعداد بھی بے شمار ہے ۔ ان میں سے بعض کے نام یہ ہیں ۔ عطاء بن ابی رباح ، عمر بن عبدالعزیز، عمر و بن دینار ، صالح بن کیسان ، یحییٰ بن سعید انصاری ، عبداللہ بن مسلم ، امام اوزاعی وغیرہ ۔

علماء میں مقام[ترمیم]

آپ کا علمی مرتبہ اس عہد کے تمام علماء اور ارباب کمال میں مسلم تھا ۔ ایوب سختیانی کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے بڑا عالم نہیں دیکھا۔ کسی نے پوچھا حسن بصری کو بھی نہیں ۔ انہوں نے پھر وہی جواب دیا کہ میں نے زہری سے بڑا کسی کو بھی نہیں پایا ۔ امیر المومنین حضرت عمر بن عبدالعزیز فرماتے ہیں زہری سے بڑھ کر صحیح حدیث کو جاننے والا کوئی شخص باقی نہیں رہا۔ [8]

وفات[ترمیم]

ابن حجر فرماتے ہیں کہ انکا طبقہ چوتھا طبقہ کہلاتا ہے ۔ بعض کے نزدیک یہ رمضان میں 123ھ میں فوت ہوئے اور بعض کے نزدیک 124ھ میں ۔ [9]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تہذیب التہذیب ۔ ابن حجر عسقلانی جلد صفحہ
  2. تذکرۃ الحفاظ ج 1صفحہ103مترجم
  3. تذکرۃ الحفاظ جلد 1صفحہ105
  4. تذکرۃ الحفاظ جلد 1صفحہ106
  5. تہذیب التہذیب ابن حجر جلد 2صفحہ204
  6. تذکرۃ الحفاظ جلد1صفحہ107
  7. تذکرۃ الحفاظ جلد 1صفحہ108
  8. =تذکرۃ الحفاظ جلد 1صفحہ109=
  9. =تہذیب التہذیب ابن حجر جلد 2صفحہ205=