ابن الفرضی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابن الفرضی
معلومات شخصیت
پیدائش 23 دسمبر 962[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
قرطبہ،  واندلس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 20 اپریل 1013 (51 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
قرطبہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت اندلس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مؤرخ،  وسیرت نگار  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

ابن الفرضی (پیدائش: 23 دسمبر 962ء— وفات: 20 اپریل 1013ء) عرب مؤرخ اور سیرت نگار تھے۔

سوانح[ترمیم]

ابن الفرضی کا نام عبد اللہ بن محمد بن یوسف بن نصر الاَزدی بن الفرضی ہے۔ کنیت ابوالولید ہے۔ابن الفرضی کی پیدائش 23 ذیقعد 351ھ مطابق 23 دسمبر 962ء کی شب میں قرطبہ میں ہوئی۔[2] ابن الفرضی کے والد محمد بن محمد بن یوسف بن نصر الاَزدی بن الفرضی تھے۔ آباؤ اجداد میں الفرضی ایک شخص تھے جن کی نسبت سے یہ ابن الفرضی کہلائے۔

تحصیل علم[ترمیم]

ابن الفرضی نے تفسیر، حدیث، فقہ، عربی ادب اور تاریخ کی تعلیم قرطبہ میں ہی حاصل کی۔ابوعبداللہ محمد بن احمد بن یحییٰ بن مفرج القاضی،  ابومحمد عبد اللہ بن قاسم بن سلیمان الثغری،  ابومحمد بن اسد،  خلف بن قاسم،  ابو ایوب سلیمان بن یوسف بن حسن بن الطویل،  ابوبکر عباس بن اصبغ،  ابوعمر بن عبدالبصیر،  ابوزکریا یحییٰ بن مالک بن العائذ،  ابومحمد بن حرب،  محمد بن یحییٰ بن عبدالعزیز المعروف بہ الخراز اور محمد بن محمد بن ابی دلیم سے تحصیل علم کیا۔[3] مکہ مکرمہ میں ابویعقوب یوسف بن احمد بن یوسف بن الدخیل الصیدلانی المکی، ابوالحسن علی بن عبد اللہ جہضم اور ابوعبداللہ احمد بن عمر بن الزجاج القاضی سے علم حاصل کیا۔ مصر میں ابوبکر احمد بن محمد بن اسماعیل البناء المہندس، ابوبکر الخطیبی، ابوالفتح بن سیبخت اور ابومحمد الحسن بن اسماعیل الضراب سے علم حاصل کیا۔ قیروان میں ابومحمد بن ابی زید القیروانی، ابوجعفر احمد بن دحمون، احمد بن نصر الداودی سے تحصیل علم کیا۔[4]

مزید تحصیل علم اور درس[ترمیم]

مشرقی ممالک کی جانب تحصیل علم کی خاطر اُنہوں نے 382ھ مطابق 992ء میں سفر اختیار کیا۔[3] 32 سال کی عمر میں 382ھ مطابق 992ء میں ابن الفرضی نے حج اداء کیا۔ اثنائے سفر میں قیروان میں فقیہ ابن ابی زید القیروانی اور ابوالحسن علی بن مھمد بن خلف القابسی کے دروس میں شرکت کی۔ مزید تعلیم قاہرہ، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں بھی حاصل کی۔ واپس اندلس آگئے اور کچھ عرصہ قرطبہ میں درس دیتے رہے۔ بعد ازاں اندلس کے مروانی خاندان کے حکمران محمد المہدی کے عہد میں بلنسیہ کے قاضی مقرر کیے گئے۔

وفات[ترمیم]

ہشام المؤيد بالله کے عہد میں جب بربروں نے قرطبہ کا محاصرہ کیا تو خوب لوٹ مار مچائی۔ بربروں کے اِس حملے کے دوران ابن الفرضی قتل ہوئے۔ بروز دوشنبہ 6 شوال 403ھ مطابق 20 اپریل 1013ء کو ابن الفرضی قتل ہوئے اور اُن کی نعش کہیں چار دن بعد کوڑے کے ایک ڈھیر میں پڑی ہوئی ملی جو اِس اثناء میں اِس حد تک خراب اور متغیر ہوچکی تھی کہ بغیر غسل و کفن کے ہی دفن کرنا پرا۔ اِس ضمن میں کہا جاتا ہے کہ ابن الفرضی نے مکہ مکرمہ میں حج کے موقع پر کعبہ کا غلاف پکڑ کر دعا کی تھی کہ اُنہیں شہادت کی موت نصیب ہو لیکن بعد میں اُنہیں غیر طبعی موت کی ہولناکی کا خیال آیا تو وہ اپنی دعا پر پشیمان ہوئے، گو خدا سے اُنہوں نے جو پیمان کیا، بسبب اِس کے احترام کے اُنہیں اپنی درخواست واپس لینے پر تامل رہا۔

تصانیف[ترمیم]

ابن الفرضی کی فقہ، حدیث، عربی ابد اور تاریخ میں معلومات بہت حد تک وسیع تھیں۔ اُنہوں نے اپنی سیاحت کے دوران کتب کا ایک بیش قیمت ذخیرہ بھی جمع کر لیا تھا۔ امتدادِ زمانہ کے باعث ابن الفرضی کی ایک ہی تصنیف کتاب تاریخ علما الاندلس بای رہ گئی ہے جو اندلس کے عرب علما کی سوانحات پر مبنی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb10748202c — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. مقدمہ تاریخ علما الاندلس: جلد 1، صفحہ 7۔ مطبوعہ بیروت، 1989ء
  3. ^ ا ب مقدمہ تاریخ علما الاندلس: جلد 1، صفحہ 8۔ مطبوعہ بیروت، 1989ء
  4. مقدمہ تاریخ علما الاندلس: جلد 1، صفحہ 9۔ مطبوعہ بیروت، 1989ء