فضل اللہ بن روز بہان خنجی اصفہانی
ظاہری ہیئت
| فضل اللہ بن روز بہان خنجی اصفہانی | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | سنہ 1457ء اصفہان ، شیراز |
| وفات | 13 اپریل 1521ء (63–64 سال) بخارا |
| شہریت | |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | سائنس دان ، شاعر ، مورخ [1] |
| درستی - ترمیم | |
خواجہ افضل الدین فضل اللہ ابن جمال الدین روز بہان ابن فضل اللہ ابن محمد خنجی اصفہانی (1455ء -1521ء) ایک فارسی مذہبی عالم، مؤرخ اور سیاسی مصنف تھے۔ جو فضل اللہ خنجی اصفہانی کے نام سے مشہور ہیں۔[2]
ابتدائی زندگی
[ترمیم]فضل اللہ خنجی اصفہانی شیراز میں پیدا ہوئے تھے۔ 1487ء میں خنجی تیسری بار شیراز سے حج کے لیے روانہ ہوئے۔[3] خنجی اصفہانی جب سهند پہاڑ کے قریب سلطان یعقوب سے ملے تو آق قویونلو خاندان کی تاریخ پر ایک کتاب لکھنے پر اتفاق کیا۔ جدید علما خنجی اصفہانی کی غیر جانبداری پر ان کی تعریف کرتے ہیں۔
کام
[ترمیم]خنجی اصفہانی نے کی کتابیں لکھی ہیں جن میں عالم آرای امینی مشہور ہے۔
- عالم آرای امینی
- ماہنامہ بخارا
- سلوک الملک
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118685716 — اخذ شدہ بتاریخ: 7 اگست 2022
- ↑ Islamic desk reference۔ Donzel, E. J. van.۔ Leiden: E.J. Brill۔ 1994۔ ص pp. 210۔ ISBN:90-04-09738-4۔ OCLC:30914626
{{حوالہ کتاب}}:|صفحات=يحتوي على نص زائد (معاونت)اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: دیگر (link) - ↑ Blow, David. (2009)۔ Shah Abbas : the ruthless king who became an Iranian legend۔ London: I.B. Tauris۔ ISBN:978-1-4416-2907-4۔ OCLC:472180139