ابن قتیبہ دینوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابن قتیبہ دینوری
(عربی میں: أبو محمد بن قتيبة الدينوري ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 828[1][2][3][4][5][6][7]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کوفہ  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 13 نومبر 889 (60–61 سال)[1][2][3][4][5][7]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بغداد  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ اسحاق بن راہویہ  ویکی ڈیٹا پر استاد (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ الٰہیات دان، مؤرخ، مفسر قرآن، محدث، فقیہ، قاضی  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی[8]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل تاریخ، تفسیر قرآن، علم حدیث، فقہ  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت بغداد  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

ابن قتیبہ دینوری (پیدائش: 213ھ/ 828ء– وفات: 15 رجب 276ھ/ 13 نومبر 889ء) نویں صدی عیسوی کے مؤرخ تھے اور ان کی تاریخ کی کتاب معروف ہے۔

پیدائش و تعلیم[ترمیم]

سن 889۔ 828 ابو محمد عبد اللہ بن مسلم بن قتیبہ الکوفی دینور کے قاضی تھے۔ ان کو اکثر اوقات قتیبیا اور قتبی بھی کہتے ہیں۔ کوفہ میں پیدا ہوئے اور بغداد میں نشو و نما ہوئی۔ اور تعلیم پائی اور پیدائش کی نسبت سے کوفی اور والد کی پیدائش کے لحاظ سے انھیں مروزی بھی کہا جاتا ہے۔ بغداد کے نجومی دبستان کے نمائندہ سمجھے جاتے تھے۔ انھیں جاحظ کی طرح مختلف علوم و فنون میں دستگاہ تھی۔ لیکن اس کے برخلاف درایت کی بجائے روایت کے حامی تھے۔ قرآن اور حدیث کی روشنی میں مذہبی عقائدکو دیکھتے تھے۔ ان کی کئی کتابیں معیاری ہیں۔ وہ شعوبی یعنی محدود قومیت کے مخالف تھے۔

وضاحت[ترمیم]

الامامہ و السیاسۃ کے مصنف: اس کتاب کی نسبت ایک بڑے عالم ابن قتیبہ دینوری (213-276/828-889) کی جانب کی جاتی ہے تاہم یہ نسبت درست نہیں ہے۔ کتاب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے مصنف غالی شیعہ ہیں جبکہ ابن قتیبہ کے بارے میں یہ بات معلوم و معروف ہے کہ وہ اہل تشیع کے سخت مخالف تھے۔ ان کی "الامامۃ و السیاسۃ " نامی کسی کتاب کا سراغ کسی اور ماخذ جیسے فہرست ابن الندیم میں نہیں ملتا ہے اور نہ ہی اس کتاب کا اسلوب بیان ان کی دیگر کتب سے ملتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ الامامۃ و السیاسۃ کسی شیعہ عالم کی کتاب ہے۔

کتابیں[ترمیم]

  • تأویل غریب القرآن۔
  • غریب الحدیث۔
  • عیون الأخبار۔
  • مشکل القرآن۔
  • مشکل الحدیث۔
  • تأویل مختلف الحدیث۔
  • عبارۃ الرؤیا۔
  • کتاب المعارف۔
  • الأشربۃ۔
  • إصلاح الغلط۔
  • کتاب التقفیۃ۔
  • کتاب الخیل۔
  • کتاب إعراب القراءات۔
  • کتاب الأنواء۔ (شاید یہ کتاب ابو حنیفہ دینوری کی ہو)
  • کتاب المسائل والأجوبۃ۔
  • کتاب المیسر والقداح وغیر ذلک۔
  • الشعر والشعراء۔
  • کتاب المعانی الکبیر۔
  • أدب الکاتب

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/119526409 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12551842q — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ^ ا ب دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Ibn-Qutaybah — بنام: Ibn Qutaybah — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  4. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6s50vx4 — بنام: Ibn Qutaybah — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  5. ^ ا ب دائرۃ المعارف یونیورسل آن لائن آئی ڈی: https://www.universalis.fr/encyclopedie/ibn-qutayba/ — بنام: IBN QUTAYBA — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — ناشر: Encyclopædia Britannica Inc.
  6. بنام: عبد الله بن مسلم ابن قتيبة — ایس ای ایل آئی بی آر: https://libris.kb.se/auth/191053 — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  7. ^ ا ب ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: http://id.worldcat.org/fast/110726 — بنام: ʻAbd Allāh ibn Muslim Ibn Qutaybah — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  8. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12551842q — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ