اسحاق بن راہویہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اسحاق بن راہویہ
(عربی میں: إسحاق بن راهويه ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 778[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ترکمانستان  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 29 جنوری 853 (74–75 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نیشاپور  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاذ محمد بن ادریس شافعی  ویکی ڈیٹا پر استاد (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تلمیذ خاص محمد بن اسماعیل بخاری، مسلم بن حجاج، ابو عیسیٰ محمد ترمذی، احمد بن شعیب النسائی، ابن قتیبہ دینوری  ویکی ڈیٹا پر شاگرد (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ محدث، حافظ قرآن  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل علم حدیث  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں مسند اسحاق بن راہویہ  ویکی ڈیٹا پر کارہائے نمایاں (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

اسحاق بن راہویہ (پیدائش: 161ھ/ 778ء– وفات: اتوار 15 شعبان 238ھ/ 29 جنوری 853ء) إسحاق بن إبراہيم بن مخلد حنظلی تميمی مروزی، ابو يعقوب ابن راہویہ: خراسان اور اپنے وقت کے بہت بڑے عالم تھے۔خاندان خنظلہ سے جو بنی تمیم کی شاخ ہے سے تعلق تھا امام احمد بن حنبل امام بخاری امام مسلم امام ترمذي اور نسائی وغيرہم۔ کے اساتذہ میں سے تھے۔ آپ كبار حفاظ حدیث میں سے ایک ہیں۔بہت زیادہ شہروں کے سفر کیے اور حدیث کو اکٹھا کیا ان میں عراق، حجاز، شام اور يمن کے سفر بھی ہیں۔ مرو کے رہنے والے تھے جو خراسان کے مضافات میں سے تھا ان کے راہویہ لقب کی وجہ یہ ہے کہ ان کے والدین مکہ جا رہے تھے کہ یہ راستے میں پیدا ہوئے جس سے راہویہ کہلاتے ہیں۔

علما کی رائے[ترمیم]

امام ذہبی انہیں امام الکبیر، شیخ المشرق، سید الحفاظ لکھتے ہیں [2] اسحاق بن راہویہ ثقہ محدثین میں شمار ہوتے ہیں امام دارمی کہتے ہیں "اسحاق بن راہویہ اہل مشرق و مغرب کے صداقت فی الحدیث میں سردار ہیں " جبکہ خطيب بغدادی کہتے ہیں : "ان کی ذات حديث، فقہ، حفظ، صداقت، ورع اورزهد سب کی جامع تھی" ان کی مشہور تصنيف، "مسنداسحاق بن راہویہ" ہے ان کا وطن نيشاپورتھا اوروفات بھی اسی جگہ پائی .[3][4]

تصانیف[ترمیم]

ابن راہویہ نے قرآن (تفسیر)، حدیث اور فقہ کے موضوع پر کئی کتابیں لکھیں :

  • المسند
  • الجامع الكبير
  • الجامع الصغير
  • المصنف
  • العلم
  • التفسير الكبير: گم شدہ یا تباہ شدہ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/102508062 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. سير اعلام النبلاء،شمس الدين ابو عبد الله محمد بن احمد الذَہبی
  3. موسوعۃ الفقہیہ جلد1، صفحہ449، اسلامی فقہ اکیڈمی، دہلی، انڈیا
  4. الاعلام، جلد 1، صفحہ 292، خير الدين زركلی الدمشقی