ملا علی قاری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

شیخ امام علی بن سلطان محمد ہروی معروف بہ ملا علی قاری حنفی(وفات: 1014​ھ بمطابق 1606ء) جن کا پورا نام أبو الحسن علی بن سلطان محمد نور الدين الملا الهروی القاری تھا مشہور و معروف محدث و فقیہ، جامع معقول ومنقول تھے،سنہ ہزار کے سرے پر پہنچ کر درجہ مجددیت پر فائز ہوئے۔ ہرات میں پیدا ہوئے اور مکہ معظمہ میں رہے اور وہیں وفات پائی امام احمد بن حجر ہیثمی مکی ،علامہ ابو الحسن بکری ،شیخ عبد اللہ سندی ، شیخ قطب الدین مکی وغیرہ اعلام سے علوم کی تحصیل وتکمیل کی۔

تصنیفات[ترمیم]

ملا علی قاری کی مشہور تصانیف درج ذیل ہیں:

  • تفسير القرآن
  • الأثمار الجنيۃ في أسماء الحنفيۃ
  • الفصول المهمة
  • فتح باب العنایۃ بشرح كتاب النقایۃ
  • فيض الفائض بشرح روض الرائض فی مسائل الفرائض
  • شرح مشكاة المصابيح
  • جمع الوسائل في شرح الشمائل

سانچہ:قطع کال

  • شرح نخبة الفكر للقاری
  • الأسرار المرفوعۃ فی الأخبار الموضوعۃ
  • المصنوع فی معرفۃ الحديث الموضوع
  • أدلۃ معتقد أبی حنيفۃ فی أبوی الرسول عليہ الصلاة والسلام
  • الرد على القائلين بوحدة الوجود
  • مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح
  • شرح مسند أبي حنيفۃ
  • شرح الشفا
  • تسليۃ الأعمى عن بليۃ العمى
  • موعظۃ الحبيب وتحفۃ الخطيب
  • الأحاديث القدسيۃ الأربعينيۃ
  • فيض المعين
  • شم العوارض في ذم الروافض
  • الأحاديث القدسيۃ الأربعينيۃ

انہوں نے امام مالک کے مسئلہ ارسال کے خلاف اور امام شافعی و اصحاب امام شافعی کے بھی بہت سے مسائل کے خلاف حدیثی فقہی دلائل جمع کرکے نہایت انصاف ودیانت سے کلام کیا ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. الزركلي، خير الدين "المُلاَّ علي القاري"۔ موسوعۃ الأعلام۔ مكتبۃالعرب