سید محمد انور شاہ کشمیری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(انور شاہ کشمیری سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
سید محمد انور شاہ کشمیری
سید محمد انور شاہ کشمیری

معلومات شخصیت
پیدائش 26 نومبر 1875  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کشمیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 28 مئی 1934 (59 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
دیوبند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی دار العلوم دیوبند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ الٰہیات دان،  وفقیہ،  وشاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان کشمیری زبان،  وعربی،  وفارسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل فقہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

ولادت[ترمیم]

27 شوال المکرم 1292ھ بمطابق سن 25 نومبر 1875ء بروز شنبہ بوقت صبح اپنے ننھیال کے ہاں بمقام دودھواں و علاقہ لولاب کشمیر میں پیدا ہوئے۔

ابتدائی تعلیم[ترمیم]

چار یا پانچ سال کی عمر میں اپنے والد سید محمد معظم شاہ سے قرآن پاک پڑھنا شروع کیا اور چھ برس کی عمر تک قرآن کے علاوہ فارسی کے متعدد رسائل بھی ختم کر لیے۔ غلام محمد صاحب سے فارسی و عربی کی تعلیم حاصل کی۔ تین سال تک آپ نے ہزارہ (خیبر پختونخوا) کے متعدد علما و صلحاء کی خدمت میں علوم عربیہ کی تکمیل کی۔

اعلیٰ تعلیم[ترمیم]

1307ھ بمطابق 1890ء میں ہزارہ سے دارالعلوم دیوبند گئے اور چار سال رہ کر وہاں کے مشاہیر وقت علما سے فیوض علمیہ و باطنیہ کا بدرجہ اتم استفادہ کیا اور بیس اکیس سال کی عمر میں نمایاں شہرت کے ساتھ 1312ھ بمطابق 1894ء میں سند فراغت حاصل کی۔

مشہور اساتذہ[ترمیم]

  • مولانا محمود حسن عثمانی دیوبندی
  • مولانا خلیل احمد سہارنپوری
  • مولانا محمداسحاق امرتسری
  • مولانا غلام رسول ہزاروی

تدریس[ترمیم]

فراغت کے بعد دہلی میں مدرسہ امینیہ میں چار سال تک ،درس اول رہے۔ پھر خواجگان قصہ بارہ مولا میں مدرسہ فیض عام کی بنیاد رکھی۔

دیوبند واپسی[ترمیم]

تقریباً تین سال تک علوم الاسامیہ پڑھاتے رہے، پھر دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے اور وہاں مدرس مقرر ہوئے۔ 1345ھ بمطابق سن 1927ء تک آپ دار العلوم دیوبند میں صدر مدرس کی حیثیت سے درس حدیث دیتے رہے۔

ڈابھیل میں[ترمیم]

دیوبند سے ڈابھیل جامعہ اسلامیہ تشریف لے گئے اور 1351ھ بمطابق 1932ء تک جامعہ میں درس حدیث دیتے رہے۔

مشہور تلامذہ[ترمیم]

چند مشہور تلامذہ کے اسماء یہ ہیں :

  • مولانا شاہ عبدالقادر رائپوری
  • مفتی محمدشفیع عثمانی
  • مولانا سید مناظر احسن گیلانی
  • مولانا محمدادریس کاندھلوی
  • مولانا سید بدر عالم میرٹھی
  • مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی
  • مولانا سید محمدیوسف بنوری
  • مفتی محمد امرتسری
  • مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی
  • مولانا قاری محمدطیب دیوبندی
  • مولانا محمدمنظور نعمانی

تصانیف[ترمیم]

  1. خاتم النبیین
  2. عقیدہ فی حیات عیسیٰ علیہ السلام
  3. التصریح بما تواترفی نزول المسیح
  4. فصل الخطاب فی مسئلہ ام الکتاب

تقاریر[ترمیم]

علامہ کی تقریریں جو درس کے وقت املا کراتے تھے ان میں مشہور ترین تقریر “فیض الباری شرح بخاری“ کے نام سے چار جلدوں میں چھپ چکی ہے۔ اردو میں شرح بخاری بنام انوار الباری شاہ صاحب کے افادات 32 حصوں میں ساڑھے چھ ہزار صفحات پر شائع ہوئے ہیں۔

اہم کارنامے[ترمیم]

شاہ صاحب کا سب برا کمال یہ ہے کہ ان کی تربیت سے ایسے عالم اور عظیم محدث، مفسر، فقیہہ، ادیب، خطیب، مؤرخ، شاعر، مصنف اور عارف پیدا ہوئے کہ جن کی نظیر کم از کم پورے برصغیر میں ملنا مشکل ہے۔ دار العلوم کے اٹھارہ سالہ قیام میں کم از کم دو ہزار طلبہ شاہ صاحب سے بلا واسطہ مستفید ہوئے ہیں۔

ختم نبوت[ترمیم]

دوسری دینی خدامت کے علاوہ آپ کی تحریک ختم نبوت میں خدمات بھی بہت زیادہ اور نمایاں ہیں۔

وفات[ترمیم]

2، صفر، 1352ھ بمطابق سن 7 فروری، 1933ء کو شب کے آخری حصہ میں تقریباً 60 سال کی عمر میں دیوبند میں داعئ اجل کو لبیک کہا۔

حوالہ جات[ترمیم]