دار العلوم دیوبند

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(دارالعلوم دیوبند سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
دار العلوم دیوبند
Darul Uloom Deoband logo.png
قسمجامعہ اسلامیہ
قیام30 مئی 1866 (155 سال قبل) (1866-05-30)
بانیانمحمد قاسم نانوتوی ، سید محمد عابد دیوبندی ، فضل الرحمن عثمانی و دیگر۔
چانسلرمجلس شوریٰ دار العلوم دیوبند
ریکٹرابو القاسم نعمانی
طلبہتقریبًا 5000
مقامدیوبند، ، بھارت
کیمپسشہری؛ 70 ایکڑ
ویب سائٹwww.darululoom-deoband.com
دار العلوم دیوبند

دار العلوم دیوبند بھارت کا ایک اسلامی مدرسہ ہے، جہاں سنی دیوبندی مکتب فکر کا آغاز ہوا۔ یہ ادارہ اترپردیش ضلع سہارنپور کے ایک قصبہ دیوبند میں واقع ہے۔ یہ مدرسہ 1866ء میں محمد قاسم نانوتوی ، فضل الرحمن عثمانی ، سید محمد عابد دیوبندی اور دیگر حضرات نے قائم کیا تھا۔ محمود دیوبندی اس ادارے کے پہلے استاد اور محمود حسن دیوبندی اس کے پہلے طالب علم تھے۔

مجلس شورٰی دار العلوم دیوبند نے 14 اکتوبر 2020ء میں سید ارشد مدنی کو صدر المدرسین اور ابو القاسم نعمانی کو شیخ الحدیث مقرر کیا۔[1]

تاریخ

دار العلوم دیوبند 30 مئی 1866 کو فضل الرحمن عثمانی، سید محمد عابد دیوبندی، محمد قاسم نانوتوی، مہتاب علی، نہال احمد اور ذوالفقار علی دیوبندی کے ذریعہ قائم کیا گیا تھا۔[2][3] محمود دیوبندی کو پہلے استاد کے طور پر مقرر کیا گیا تھا اور محمود حسن دیوبندی پہلے طالب علم تھے، جنھوں نے مدرسہ میں داخلہ لیا تھا۔[4]

1982ء میں محمد طیب قاسمی کے دورِ اہتمام میں مدرسہ میں انتظامی تنازعات پیدا ہوگئے، جس کے نتیجہ میں دار العلوم وقف دیوبند کا قیام عمل میں آیا۔[5][6]

جامعہ کی جامع رشید

فروری 2008ء میں مدرسہ کے زیر اہتمام "کل ہند دہشت گردی مخالف کانفرنس" میں ہر طرح کی دہشت گردی کی مذمت کی گئی تھی۔[7]

انتظامیہ

مدرسہ کے شریک بانی سید محمد عابد دیوبندی مدرسہ کے پہلے مہتمم تھے۔[8] ابو القاسم نعمانی 24 جولائی 2011ء کو غلام محمد وستانوی کے بعد مدرسہ کے تیرہویں مہتمم منتخب ہوئے۔[9][10]

فضلا

بعض فضلائے دار العلوم کے نام درج ذیل ہیں:

اشاعتیں

دارالعلوم دیوبند اور اس کے سابق فضلا شائع کرتے ہیں:

  • مجلہ الداعی ، عربی ماہنامہ۔[11]
  • ماہنامہ دار العلوم ، اردو ماہنامہ۔[12]
  • آئینۂ دار العلوم، پندرہ روزہ اردو ۔[13]

حوالہ جات

  1. "مہتمم دارالعلوم دیوبند مفتی ابو القاسم نعمانی شیخ الحدیث اور مولانا ارشد مدنی صدر المدرسین منتخب" [Abul Qasim Nomani, VC of Deoband appointed as Hadīth professor, and Arshad Madani as the Principal of Darul Uloom Deoband]. AsreHazir. 14 October 2020. اخذ شدہ بتاریخ 14 اکتوبر 2020. 
  2. محمد میاں دیوبندی. علمائے حق کے مجاہدانہ کارنامے. نئی دہلی: فیصل پبلیکیشنز. صفحات 44–47. 
  3. روشن دلال (2014). The Religions of India: A Concise Guide to Nine Major Faiths. Penguin UK. ISBN 9788184753967. اخذ شدہ بتاریخ 30 مئی 2021. 
  4. Metcalf، Barbara (1978). "The Madrasa at Deoband: A Model for Religious Education in Modern India". Modern Asian Studies. 12 (1): 111–134. JSTOR 311825. doi:10.1017/S0026749X00008179. 
  5. https://www.researchgate.net/publication/237541853_2_Change_and_Stagnation_in_Islamic_Education_The_Dar_al-'Ulum_of_Deoband_after_the_Split_in_1982
  6. Bowering، Gerhard؛ Crone، Patricia؛ Mirza، Mahan؛ Kadi، Wadad؛ Zaman، Muhammad Qasim؛ Stewart، Devin J. (2013). The Princeton Encyclopedia of Islamic Political Thought. ISBN 978-0691134840. 
  7. "Muslim clerics declare terror "un-Islamic"" Times of India 25 February 2008.
  8. رضوی، سید محبوب، تاریخ دار العلوم دیوبند، جلد دوم، صفحہ 225 
  9. ابنتیکا گھوش (25 July 2011). "Vastanvi axed as Darul V-C for praising Modi". دی ٹائمز آف انڈیا. اخذ شدہ بتاریخ 10 جون 2020. 
  10. "Maulana Mufti Abul Qasim Nomani, New Acting Mohtamim of Darul Uloom Deoband". DEOBAND ONLINE. اخذ شدہ بتاریخ 13 اپریل 2019. 
  11. نور عالم خلیل امینی. (سابق مدیر.) مجلہ الداعی.
  12. حبیب الرحمن قاسمی. (سابق مدیر.) ماہنامہ دار العلوم.
  13. 'کفیل احمد علوی. (سابق مدیر.) آئینۂ دار العلوم

مزید دیکھیں

بیرونی روابط