ریشمی رومال تحریک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ریشمی رومال تحریک (انگریزی: Silk Letter Movement) علمائے اہلسنت و جماعت کی 1913 سے 1920 کے درمیان شروع کی گئی تحریک ہے۔ اس کا مقصد جرمنی، ترکی اور افغان کی مدد سے ہندوستان کو آزاد کرانا تھا۔

اس تحریک کے بانی محمود حسن دیوبندی ہیں۔ وابستہ لوگوں میں عبید اللہ سندھی، عزیر گل پیشاوری اور دیوبندی کے دیگر تلامذہ ہیں۔

1914ء میں عالمی جنگ چھڑ جانے کے بعد شیخ الہند حضرت مولانا محمودحسن  نے محسوس کیا کہ وقت قریب آگیاہے کہ ہندوستان کی آزادی کے لیے جنگ شروع کی جاسکتی ہے ۔ حضرت شیخ الہند  نے محسوس کرلیاتھا کہ ہندوستانی عوام اور مشرقِ وسطی کے ممالک خصوصاًافغانستان،ایران اور خلافت عثمانیہ کو متحد کیے بغیر برطانوی حکومت سے ایشیاء کو آزاد نہیں کرایا جاسکتا ہے۔ اس وقت خلافت عثمانیہ مشرقی وسطی کے وقار کی محافظ سمجھی جاتی تھی، اور ترکی ہی برطانیہ،اٹلی ‘ فرانس،یونان اور روس کے مقابلہ میں ڈٹا ہوا تھا؛ اس لیے آپ نے حضرت مولا نا عبید اللہ سندھی کو افغانستان جانے کا حکم دیا اورخود حجاز وخلافت عثمانیہ کا سفر کیا۔ 1915ء میں حضرت شیخ الہند  نے مولانا سندھی کو کابل جانے کا حکم دیا؛ مگر انھیں کوئی مفصل پروگرام نہیں دیا ۔ سی آئی ڈی کو غفلت میں ڈال کر شیخ عبدالرحیم سندھی کے ساتھ کوئٹہ ہوتے ہوئے افغانستان کے لیے روانہ ہوگئے ۔ شیخ عبدالرحیم سندھی جنہوں نے اسلام کی حقانیت سے متاثر ہوکر اسلام قبول کرلیا یہ بھی حضرت شیخ الہند کی تحریک کے معتمد تھے۔ مولانا عبید اللہ سندھی کو افغانستان جانے کے لیے ان کی بیوی اور بیٹیوں نے اپنے زیورات فروخت کرکے زاد راہ کی فراہمی کی تھی۔ روانگی کے وقت شیخ عبدالرحیم کو ئٹہ تک گئے اور وہاں جاکر روپئے سپر د کرکے واپس لوٹ آئے۔ گرفتاری سے بچنے کے لیے مولانا سندھی بلوچستان کے ریگستان اور سنسان پہاڑی راستوں اور دروں سے ہوتے ہوئے 15اگست 1915ء کو افغانستان کی سرحد میں داخل ہوئے ۔ اس وقت سورج غروب ہورہا تھا ۔ افغانستان کی آزاد سرزمین پر انھوں نے پہلی مغرب کی نماز ادا کی۔ اور حسنِ اتفاق یہی 15 اگست ہندوستان کی آزادی کی تاریخ ہوئی۔ مولانا عبید اللہ سندھی تحریر کرتے ہیں: ”1915ء میں شیخ الہند کے حکم سے کابل گیا، مجھے کوئی مفصل پروگرام نہیں بتایاگیا تھا؛ اس لیے میری طبیعت اس ہجرت کو پسندنہیں کرتی تھی؛لیکن تعمیلِ حکم کے لیے جانا ضروری تھا۔خدانے اپنے فضل سے نکلنے کا راستہ صاف کردیا اور میں افغانستان پہونچ گیا۔روانگی کے وقت دہلی کی سیاسی جماعت کو میں نے بتلایا کہ میرا کابل جانا طے ہوچکا ہے، انھوں نے بھی مجھے اپنا نمائندہ بنایا؛ مگر کوئی معقول پروگرام وہ بھی نہ بتاسکے۔کابل جاکر مجھے معلوم ہوا کہ حضرت شیخ الہند قدس سرہ جس جماعت کے نمائندہ تھے، اس کی پچاس سال کی محنتوں کا حاصل میرے سامنے غیر منظم شکل میں تعمیلِ حکم کے لیے تیار ہے۔ان کو میرے جیسے ایک خادمِ شیخ الہند کی اشد ضرورت تھی۔اب مجھے اس ہجرت اور شیخ الہند کے اس انتخاب پر فخر محسوس ہونے لگا۔میں سات سال تک حکومتِ کابل کی شرکت میں اپنا ہندوستانی کام کرتارہا۔ 1919ء میں امیرحبیب اللہ خاں نے ہندوؤں سے مل کر کام کرنے کا حکم دیا، اس کی تعمیل میرے لیے فقط ایک ہی صورت میں ممکن تھی کہ میں انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہوجاؤں اس وقت سے میں کانگریس کا داعی بن گیا۔ 1922ء میں امیر امان اللہ خاں کے دور میں میں نے کانگریس کمیٹی کابل بنائی، جس کا الحاق ڈاکٹر انصاری کی کوششوں سے کانگریس کے گیا سیشن نے منظورکر لیا۔برٹش ایمپائر سے باہر یہ پہلی کانگریس کمیٹی ہے اور میں اس پر فخر محسوس کرسکتا ہوں کہ میں اس کا پہلا پریسیڈنٹ ہوں۔ افغانستان کے جس علاقہ میں مولانا سندھی داخل ہوئے اس علاقہ کو ”سوریایک“ کہا جاتا ہے۔ حضرت مولانا وہاں سے قندھار پہنچے۔ وہاں سے کابل پہنچے۔ ان کے سفر کا مقصد تھا افغانستان کو ہندوستان کی تحریکِ آزادی میں اخلاقی اور فوجی امداد دینے کے لیے تیار کرانا۔ مولانا اپنے مقصد کی تکمیل کے لیے کوشش کرتے رہے ۔ اس سلسلہ میں حکومت کے ذمہ داروں سے رابطہ قائم کیا اوران کی مدد سے امیر حبیب اللہ تک رسائی حاصل کی۔ اور اپنے مقصد سفر کے سلسلہ میں ایک عرض داشت پیش کی، جس میں افغانستان کو ہندوستان کی آزادی کے لیے امداد دینے کی درخواست تھی۔ ”مولانا سندھی کے کابل پہنچنے سے پہلے پنجاب اورسرحد کے انگریز ی کالج کے طلبہ کا ایک وفد بھی کابل پہنچ چکا تھا ۔ جہاں ان کو نظر بند کردیا گیا تھا۔ طلبہ کے اس وفد کا مقصد تھا خلافت عثمانیہ کی فوج میں شامل ہوکر انگریزوں سے لڑنا ۔ ان طلبہ کو مولانا سندھی نے کابل پہنچنے کے بعد رہا کرایا تھا۔ مولانا سندھی نے ان مہاجر طلبہ کو اپنے حلقہ میں شامل کرلیا۔ ان کو مشورہ دیا کہ وہ ترکی فوج میں شامل ہونے کا ارادہ ترک کردیں۔ اورافغانستان ہی میں رہ کر ہندوستان کی آزادی کے لیے کام کریں؛ چنانچہ وہ طلبہ تیار ہوگئے۔ اوران کے ساتھ مل کر مولانا سندھی نے ایک عارضی حکومت قائم کی ۔ اس عارضی حکومت کے تین رکن تھے۔ راجہ مہندر سنگھ،مولانا برکت اللہ بھوپالی اور مولانا عبیداللہ سندھی۔ اس عارضی حکومت نے مختلف ممالک میں اپنے وفود روانہ کرکے رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کوشش کی ۔ اسی سلسلہ میں مارچ 1916ء کو ایک وفد روس بھیجا گیا ،اس کے بعد دووفد کو ترکی اور جاپان کے لیے روانہ کیا گیا۔ ترکی جانے والے وفد میں عبدالباری اور شجاع اللہ اور جاپان جانے والے وفد میں شیخ عبد القادر اور ڈاکٹر متھرا سنگھ شامل تھے ۔ جاپان جانے والے وفد کوگرفتار کرکے روسی حکام نے برطانیہ کے حوالے کردیا۔ اور بد قسمتی سے ترکی جانے والا وفد بھی برطانوی حکام کے قبضہ میں آگیا۔ ان کے بیانات سے سارے واقعات انگریزوں کے علم میں آگئے۔ حکومتِ برطانیہ نے حکومتِ افغانستان سے احتجاج کیا، جس کے دباؤ میں آکر حکومتِ افعانستان نے مولوی محمد علی اور شیخ ابراہیم کو ہندوستان جانے کا حکم دے دیا۔ یہ دونوں حبیبیہ کالج کے پرنسپل اور پروفیسر تھے۔“ مولانا عبیداللہ سندھی نے ان حالات سے حضرت شیخ الہند کو مطلع کرنا ضروری سمجھا اور ریشمی کپڑے کے تین ٹکڑوں پر خط لکھ کر 9 جولائی 1916ء کو عبد الحق کو دیا اور اس کو ہدایت کردی کہ یہ خطوط شیخ عبدالرحیم سندھی کو پہچا دیں ”ریشمی رومال“ کے اس خط کو ”ریشمی رومال تحریک “ یا”ریشمی خطوط تحریک“ کہتے ہیں۔یہ خطوط کیسے ہاتھ لگے؛ اس سلسلہ میں ریشمی خطوط سازش کیس میں آفیسران کی تحریر ملاحظہ ہو:

14 اگست کو ملتان کے خان بہادر رب نواز خاں نے ملتان ڈویزن کے کمشنر کو زرد ریشمی کپڑے کے تین ٹکڑے دکھا ئے جن پر خوش خط اردو لکھی تھی۔انھوں نے بیان کیا کہ یہ 4 اگست سے ان کے پاس تھے؛ لیکن کمشنر کی عدم موجود گی کے باعث پیش نہیں کیے جاسکے۔ خان بہادر نے بتاکہ انھیں یہ خطوط عبدالحق سے ملے ہیں، جو پہلے ان کے لڑکوں کا اتالیق تھا اور 1915ء میں ان کے ہمراہ کابل گیا تھا۔ عبدالحق نے رب نواز خاں کو یہ خطوط پیش کرتے ہوئے بتایا تھا کہ ان خطوط کو پہنچا نے کے لیے ہی اس کوکابل سے بھیجا گیا ہے۔جو حیدرآباد سندھ میں عبدالرحیم کو دیے جانے تھے؛ تاکہ وہ ان خطوط کو مدینہ روانہ کردے ۔عبدالحق کو عبدلرحیم سے ان خطوط کی رسیدلینی تھی اور اس رسید کو واپس کابل لے جانا تھا۔ کمشنر ملتان نے اس خط کے بعض حصے پڑھواکر سنے اور انھیں بچوں کی سی حماقت قرار دیا؛ تاہم ان خطوط کو پنجاب سی آئی ڈی کے حوالہ کردیا گیا، پنجاب سی آئی ڈی کے مسٹر ٹومکنس نے ان خطوط کا ترجمہ کرایا اور عبدالحق قاصد پر جر ح کرائی۔“ انگریز آفیسران خطوط کی تحریر کے سلسلہ میں لکھتے ہیں: ”ان خطوط کی تحریر بہت اچھی نہایت صاف اور پختہ ہے۔نہ تو کوئی لفظ کھرچ کر صاف کیا گیا ہے، نہ کہیں کچھ مٹا یا گیا ہے، نہ کسی لفظ کی اصلاح کی گئی ہے۔صرف ونحوکی صرف ایک نہایت معمولی غلطی پوری تحریر میں نظر آتی ہے۔خط کی زبان اگرچہ بعض مقامات پر مبہم ہے۔جیسا کہ بالعموم سازشی تحریروں میں ہوتی ہیں؛لیکن اچھے تعلیم یافتہ؛ بلکہ عالم شخص کی زبان ہے۔“ مولانا عبیداللہ سندھی نے جوریشمی رومال پر خطوط لکھے تھے ’تاریخی اور سیاسی اعتبار سے وہ خطوط نہایت ہی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان میں سے پہلا خط شیخ عبد الرحیم سندھی کے نام تھا۔ یہ خط 6 انچ لمبے اور 5 انچ چوڑے ٹکڑوں پرلکھا گیا تھا۔ دوسرا خط حضرت شیخ الہند  کے نام تھا۔ یہ خط دس انچ لمبے اور آٹھ انچ چوڑے کپڑے کے ٹکڑے پر لکھا گیا تھا ۔ تیسرا خط 15انچ لمبے اور دس انچ چوڑے ٹکڑے پر لکھا گیا تھا یہ خط شیخ الہند  کے نام تھا۔ ریشمی خطوط سازش کیس میں ان خطوط کے سلسلہ میں تفصیل درج ہے، وہ یہ ہے: ”یہ خطوط زرد رنگ کے ریشمی کپڑے کے تین ٹکڑوں پر ہیں، ان میں پہلا خط شیخ عبدالرحیم صاحب کے نام ہے۔یہ ٹکڑا چھ انچ لمبا اور پانچ انچ چوڑا ہے۔دوسرا خط مولانا کے نام ہے یہ دس انچ لمبا اور آٹھ انچ چوڑا ہے۔تیسرا خط بظاہر پہلے خط ہی کے تسلسل میں ہے۔پندرہ انچ لمبا اور دس انچ چوڑا ہے۔ پہلے اور تیسرے خطوط پر ”عبیداللہ“دستخط ہیں۔عبدالحق نے ہمیں بتایاہے کہ مولوی عبیداللہ نے اس کو یہ تینوں ریشمی رومال دیے ہیں۔جن پر اس کی موجود گی میں مولوی عبیداللہ نے خطوط لکھے تھے۔ اس میں شبہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ عبیداللہ نے خود ہی یہ خط لکھے تھے۔ عبیداللہ نام کے دستخط عبیداللہ کے ان دستخطوں سے پوری مطابقت رکھتے ہیں۔ جو یہاں ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔ ریشمی خطوط کے مضمون کیا تھے۔اس کی تفصیل حسب ذیل ہے: ”پہلا خط جو شیخ عبد الرحیم سندھی کے نام تھا، اس کا مضمو ن یہ تھا : ”یہ خط حضرت مولانا شیخ الہند کو مدینہ بھیجنا ہے ۔حضرت شیخ الہندکو خط کے ذریعہ بھی اور زبانی بھی آگاہ کردیں کہ وہ کابل آنے کی کوشش نہ کریں ۔ حضرت مولانا شیخ الہند مطلع ہوجائیں کہ مولانا منصور انصاری اس بار حج کے لیے نہ جاسکیں گے۔ شیخ عبد الرحیم کسی نہ کسی طرح کابل میں مولانا سندھی سے ملاقات کریں“ ۔ دوسرا خط شیخ الہند  کے نام تھا جس کے سلسلہ میں ہدایت تھی کہ تحریک کے ممتاز کارکنوں کو بھی یہ خط دکھادیا جائے! اس خط میں رضاکار فوج ”جنود اللہ“ اور اس کے افسروں کی تنخواہوں کا تذکرہ ہے۔ ۱۰۴ افراد کے نام ہیں ۔ جنہیں فوجی تربیت اور ان کے کام کی ذمہ داری کے سلسلہ میں تحریر ہے۔ اس کے علاوہ راجہ مہندر پرتاب سنگھ کی سرگرم ”جرمن مشن کی آمد، عارضی حکومت“ کا قیام روس جاپان اورترکی وفود کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ تیسرا خط حضرت شیخ الہند کے نام تھا ۔ مشہور یہ ہے کہ یہ خطوط مولانا منصور انصاری نے لکھا تھا؛ لیکن عبدالحق ‘ جنہیں یہ خط پہنچانے کے لیے دیا گیا تھا ،کابیان ہے کہ یہ خط مولانا سندھی نے اس کے سامنے لکھا تھا ۔ اس خط کے خاص مضامین یہ ہیں کہ ہندوستان میں تحریک کے کون کون سے کارکن سرگرم ہیں۔ اور کون کون سے لوگ سست پڑگئے ہیں ۔ اس میں مولانا آزاد اور مولانا حسرت موہانی کی گرفتاری کی اطلاع بھی تھی۔ اس میں یہ بھی تحریر ہے کہ میرا حجاز آناممکن نہیں ہے۔ ”غالب نامہ“ تحریک کے کارکنوں کودکھا کر قبائلی علاقہ کے سرداروں کو دکھا دیا گیا ہے۔ حاجی ترنگ زئی اس وقت ”مہمند“ علاقہ میں ہیں ۔مہاجر ین نے مہمند اور ”سوات“ کے علاقہ میں آگ لگا رکھی ہے۔ جرمن ترک مشن کی آمد اور اس کے ناکام ہونے کے اسباب کا تذکر ہ بھی ہے۔مشن کی ناکامی کے اسباب کا تذکرہ کرتے ہوئے تحریر کیا گیا ہے کہ جرمنی اور ترکی کو چاہیے تھا کہ پہلی جنگِ عظیم میں شامل ہونے سے پہلے ایران اورافغانستان کی ضرورت معلوم کرے اور اس کو پورا کرنے کی صورت نکالے۔اس کے علاوہ افغانستان کو جنگ میں شریک ہونے کے لیے کن کن چیزوں کی ضرورت ہے اس کی تفصیل درج ہے۔ ساتھ ہی حضرت شیخ الہند کو یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ مدینہ منورہ میں ٹھہر کر ترکی، افغانستان اور ایران میں معاہدہ کرانے کی کوشش کریں۔ اس خط میں حضرت شیخ الہندسے یہ بھی گزارش کی گئی تھی کہ وہ ہندوستان نہ آئیں حکومت نے ان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ “ مولانا سندھی نے یہ خطوط ریشمی رومال پر لکھ کر عبد الحق کو دیے، او راس کو ہدایت کردی کہ یہ خط شیخ عبدالرحیم سندھی کو پہنچادیں ۔ عبدالحق ایک نو مسلم تھا ‘ وہ مہاجر طالب علموں کے ساتھ افغانستان گیا تھا۔ مہاجر طالب علموں میں دوطالب علم اللہ نوازاورشاہ نواز قابل ذکر ہیں۔ یہ دونوں رب نواز کے لڑکے تھے، جو ملتان میں انگریزی ایجنٹ تھا‘ عبد الحق بھی رب نواز کے یہاں رہتا تھا۔ جب یہ خطوط عبدالحق کو پہنچانے کے لیے دیے گئے تو وہ سرحد کے راستے سے پنجاب ہوتا ہوا بھاولپور پہنچا‘ وہاں بھاولپور کے مرشد کے پاس وہ کوٹ رکھ دیا جس کے استر میں وہ ریشمی ٹکڑے سلے ہوے تھے۔ اس کے بعد وہ بھاولپور سے اپنے آقا رب نواز سے ملاقات کرنے کے لیے ملتان چلاگیا۔ اس نے ان دونوں کی خیر یت کے علاوہ تحریک اوراس کی سرگرمی،قبائلی علاقہ اور جیل کے واقعات اور مولانا عبید اللہ سندھی کی سرگرمیوں کی تفصیل بھی بتادی ۔اور دھمکانے پر بھاولپور کے مرشد مولانا محمد کے پاس سے لاکر وہ کوٹ بھی دیا،جس کے استر میں وہ ریشمی خطوط سلے ہوئے تھے،جب رب نواز کو یہ خطو ط ہاتھ لگے تو اس نے غداری کی، اور اس نے فوراً ہی کمشنر سے ملاقات کی، اور ریشمی خطوط پیش کیے اور تمام تفصیلات سے اس کو باخبر کردیا۔ ساتھ ہی عبد الحق کو کمشنر کے پاس لے گیا، اس کے صلہ میں اس کو ”خان بہادر“ کے خطاب سے نوازا گیا۔ اس طرح وہ رب نواز سے خان بہادررب نواز بن گیا۔ 10 اگست 1916ء کو رب نواز کے ذریعہ کمشنر کو مفصل رپورٹ ملی ،اور پھرکیاتھا ، اس کی روشنی میں حکومت نے نہایت ہی تیزی سے کاروائی شروع کردی، چھاپے مارے گئے۔ اور گرفتاریاں شروع ہوگئیں۔ اور اس طرح 220 افراد کے خلاف انکوائری اور پوچھ تاچھ کی گئی۔ ۵۹اشخاص پر حکومت برطانیہ کا تختہ الٹنے کا اور غیر ممالک سے امداد حاصل کرنے کی سازش کا مقدمہ قائم کیاگیا۔ مولاناسندھی نے اپنی ڈائری میں لکھا ہے: ”ہندوستان میں گرفتار یاں شروع ہوئیں تو ہم حیران رہ گئے،چند روز بعد شیخ الہند او ران کے ساتھی مکہ معظمہ میں گرفتار کیے گئے۔ ایک عرصہ کے بعد ہمیں حقیقت معلوم ہوئی، اس کے ساتھ ہی کابل کی حالت بھی خراب ہونے لگی ‘ امیر حبیب اللہ کی رائے بھی بدل گئی،وہ نہیں چاہتا تھا کہ افغانستان اس تحریک میں کوئی دلچسپی لے یا ہندوستان کو کسی قسم کی مد د دے۔ اس کے علاوہ انگریزوں کا دباؤ مولانا سندھی اور ان کے ساتھیوں کے سلسلہ میں امیر حبیب اللہ پربڑھ رہا تھا۔آخر کار حبیب اللہ نے مولانا عبیداللہ سندھی او ران کے ساتھیوں کی گرفتاری اور نظر بندی کا حکم جاری کردیا۔ “

”یہ تینوں خط انڈیا آفس لائبریری لندن کے پولٹیکل اور سکریٹریٹ شعبہ میں من وعن محفوظ ہیں

حوالہ جات[ترمیم]