سچندر ناتھ سانیال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
سچندر ناتھ سانیال
(ہندی میں: शचींद्रनाथ सान्याल ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Sachindra Nath Sanyal.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 3 اپریل 1893  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بنارس،  برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 7 فروری 1942 (49 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
گورکھپور  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ انقلابی  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں کاکوری ڈکیتی  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحریک ہندوستان کی آزادی کے لئے انقلابی تحریک  ویکی ڈیٹا پر (P135) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

سچندر ناتھ سانیال اس آڈیو کے متعلق تلفظ (انگریزی: Sachindra Nath Sanyal، ہندی= शचींद्रनाथ सान्याल)، پیدائش: 1893ء - وفات: 7 فروری، 1942ء) ہندوستان کے مشہور انقلابی اور انہوں نے رام پرساد بسمل اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر ایک انقلابی تنظیم ہندوستان ریپبلکن ایسوسی ایشن بنائی جس کے پلیٹ فارم سے کاکوری ڈکیتی، لاہور اور بنارس سازش سمیت آزادی ہند کے لیے بہت سے انقلابی منصوبے بنائے گئے۔ سانیال کے انقلابی فکر نے چندر شیکھر آزاد اور بھگت سنگھ کو بہت متاثر کیا۔

حالات زندگی[ترمیم]

سچندر ناتھ سانیال 1893ء کو وارانسی، اترپردیش، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ 1907ء میں کلکتہ میں انقلابی پارٹی میں شامل ہوئے۔ انہوں نے انقلابی تحریک میں سرگرم حصہ لیا۔ عدم تعاون كي تحريك کے بعد رام پرساد بسمل، چندر شیکھر آزاد اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر اکتوبر 1924ء کو ایک انقلابی تنظیم ہندوستان ریبلکن ایسوسی ایشن بنائی، جس کا نام 1928ء میں ہندوستان سوشلسٹ ریپبلکن ایسوسی ایشن رکھ دیا گیا۔ لاہور اور بنارس سازشوں شرکت کے الزام میں گرفتار کر لیے گئے اور انہیں 5 سال قید اور کالا پانی کی سزا دے کر جزائر انڈمان و نکوبار میں سیلولر جیل بھیج دیا گیا۔ حکومت نے ان کا بنارس میں واقع مکان بھی ضبط کر لیا۔ انڈمان سے واپسی پر انہیں باغیانہ سرگرمیوں کے الزام میں دوبارہ گرفتار کر لیا گیا اور حراست میں رکھا گیا۔ جب وہ جیل میں تھے تو ان پر کاکوری ٹرین ڈکیتی میں شرکت کا الزام میں مقدمہ چلایا گیا اور ایک بار پھر انہیں سزا دے کر انڈمان بھیج دیا گیا۔ 1931ء میں رہا ہو کر ہندوستان واپس آئے۔ 1941ء میں برطانوی حکومت کے خلاف حکومتِ جاپان کے ساتھ مل کر سازش کرنے کے الزام میں پھر گرفتار ہوئے اور حراست میں رکھے گئے۔ حراست سے رہا کر کے انہیں نظر بند کر دیا گیا۔ دورانِ نظر بندی 7 فروری 1942ء کو ان کی وفات ہو گئی۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. شہیدانِ آزادی (جلد اول)، چیف ایڈیٹر: ڈاکٹر پی این چوپڑہ، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی، 1998ء، ص 286