کرتار سنگھ سرابھا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
کرتار سنگھ سرابھا
ਕਰਤਾਰ ਸਿੰਘ ਸਰਾਭਾ
کرتار سنگھ سرابھا کا پورٹریٹ۔
کرتار سنگھ سرابھا کا پورٹریٹ۔

معلومات شخصیت
پیدائش 24 مئی 1894(1894-05-24)ء
لدھیانہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 26 نومبر 1915(1915-11-26)ء
لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات پھانسی[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
طرز وفات سزائے موت[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرزِ موت (P1196) ویکی ڈیٹا پر
قومیت ہندوستانی
نسل پنجابی
مذہب سکھ
رکن غدر پارٹی[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کیلیفورنیا، برکلے  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ انقلابی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
تنظیم غدر پارٹی
تحریک تحریک آزادی ہند

کرتار سنگھ سرابھا (انگریزی: Kartar Singh Sarabha)، (گرمکھی: ਕਰਤਾਰ ਸਿੰਘ ਸਰਾਭਾ)، (پیدائش: 24 جنوری، 1896ء - وفات: 16 نومبر، 1915ء) ہندوستانی سکھ انقلابی اور غدر پارٹی کے لیڈر تھے جن پر مشہور زمانہ لاہور سازش کیس نامی مقدمہ چلایا گیا اور انہیں غدر سازش کے جرم میں لاہور سینٹرل جیل میں پھانسی دی گئی۔

ابتدائی حالات و تعلیم[ترمیم]

کرتار سنگھ کیلیفورنیا یونیورسٹی، برکلے میں دوران تعلیم

کرتار سنگھ 24 جنوری، 1896ء کو گاؤں سرابھا، لدھیانہ، صوبہ پنجاب (برطانوی ہند) میں ایک سکھ خاندان میں پیدا ہوئے[2][3]۔ ان کے والد کا نام سردار منگل سنگھ گریوال اور والدہ کا نام صاحب کور تھا۔ اپنے گاؤں میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ میٹرک کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے مالوا خالصہ ہائی اسکول لدھیانہ میں داخل ہوئے۔ میٹرک کی تعلیم کی تکمیل کے بعد وہ اڑیسہ کے کالج میں داخل ہو گئے۔[3]

پندرہ سال کی عمر میں کرتار سنگھ کو ان کے خاندان نے مزید تعلیم کے لیے بحری جہاز کے ذریعے ریاستہائے متحدہ امریکا بھیج دیا جہاں وہ کیلیفورنیا یونیورسٹی، برکلے میں داخل ہوئے۔[3]

غدر پارٹی اور اخبار[ترمیم]

21 اپریل، 1913ء کو کیلیفورنیا کے ہندوستانیوں نے غدر پارٹی کی بنیاد رکھی۔ غدر پارٹی کے قیام کا مقصد مسلح جدوجہد کے ذریعےبرطانوی سامراج کی غلامی سے آزادی حاصل کر کے قومی جمہوری حکومت کا قیام تھا۔ یکم نومبر، 1913ء کو غدر پارٹی نے غدر کے نام سے ایک ہفت روزہ اخبار جاری کیا جو پنجابی، ہندی، اردو، بنگالی، گجراتی اور پشتو زبان میں شائع ہوتا تھا۔ اس اخبار کا تمام کام کرتار سنگھ نے کیا۔ اس اخبار کی کاپیاں تمام ممالک میں جہاں ہندوستانی بستے تھے بھیجی جاتی تھیں اور اس اخبار کے ذریعے برطانوی سامراج کی ہندوستانی حکومت کا چہرہ بے نقاب کیا جاتا تھا[3]۔ امریکا میں آباد ہندوستانیوں کو اس تحریک میں شامل کرنے کے لیے جلسے منعقد کیے جانے لگے، جس میں لالہ ہردیال، مولانا برکت اللہ بھوپالی اور بھگوان داس وغیرہ تقریریں کرتے تھے۔ غدر پارٹی کے اراکین نے پنجاب کے مختلف شہروں میں تعینات دیسی فوج میں شامل اپنے دوستوں اور رشتے داروں کو خطوط لکھے اور اس بغاوت میں شریک ہونے کی اپیل کی، ان کے کئی خطوط پولیس نے پکڑ لیے۔[2]

پنجاب میں بغاوت[ترمیم]

پہلی جنگ عظیم کی ابتدا میں غدر اخبار کے 5 اگست، 1914ء کے شمارے میں برطانوی سامراج کے خلاف اعلان جنگ کا فیصلہ شائع کیا اور اس شمارے کی ہزاروں کاپیاں ہندوستان بھر میں گاؤں، دیہات، شہروں اور بیرون ہندوستان میں موجود عوام اور خاص کر چھاؤنیوں میں موجود ہندوستانی فوجیوں میں تقسیم کی گئیں۔ 15 ستمبر، 1914ء کو کرتار سنگھ غدر پارٹی کے ارکان وشنو گنیش پنگل اور ستین سین کے ہمراہ کولمبو سے ہوتے ہوئے ہندوستان واپس آئے اور کلکتہ میں پڑاؤ ڈالا۔ وشنو گنیش پنگل کے ہمراہ انھوں نے بنارس (وارناسی) میں ان کی ملاقات راس بہاری بوس سے ہوئی اور انہیں بتایا کہ غدر پارٹی میں عنقریب 20 ہزار مزید ارکان شامل ہونے والے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ معلومات برطانوی سرکار کو پہنچ گئی اور ہزاروں کی تعداد میں غدر پارٹی کے ارکان اور قائدین ہندوستانی بندرگاہوں سے گرفتار ہو گئے۔ اس کے باوجود غدر پارٹی کے ارکان لدھیانہ کے قریب لدھوال میں مجتمع ہوئے اور فیصلہ کیا کہ مسلح جدوجہد کے اخراجات پورے کرنے کے لیے امرا کے گھروں میں چوریاں کی جائیں۔ اسی سلسلے میں دو غدر کارکنان وریام سنگھ اور بھائی رام رکھا بم دھماکے میں جاں بحق ہوئے۔[3]

25 جنوری، 1915ء کو راس بہاری بوس بغاوت کے انتظامات کی نگرانی کے سلسلے میں امرتسر پہنچے۔ 12 فروری، 1915ء کی میٹنگ میں مسلح بغاوت کی تاریخ 21 فروری، 1915ء مقرر ہوئی۔ منصوبے کے مطابق میاں میر اور فیروزپور چھاؤنیوں پر مسلح حملہ کرنا تھا اور اس کے لیے انبالہ میں مکمل تیار رہنا تھا۔[3]

سزا اور پھانسی[ترمیم]

بد قسمتی سے غدر پارٹی میں موجود کرپال سنگھ نامی پولیس مخبر نے بغاوت کا سارا منصوبہ برطانوی حکومت کو بتا دیا اور یوں 19 فروری، 1915ء کو بڑی تعداد میں حریت پسندوں کو گرفتار کر لیا گیا، ہندوستانی نژاد فوجیوں کو غیر مسلح کر دیا گیا۔[3]

بغاوت مین ناکامی کے بعد کرتار سنگھ، ہرنام سنگھ دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ چک نمبر 5 سرگودھا چلے گئے اور وہاں 22 کیولری کے ہندوستانی جوانوں میں بغاوت کی کوشش کی لیکن رسالدار گنڈا سنگھ نے کرتار سنگھ اور اس کے ساتھیوں کو گرفتار کر لیا اور ان پر مقدمہ چلایا گیا جسے لاہور سازش کیس کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ ستمبر، 1915ء کو مقدمہ کا فیصلہ ہوا جس میں کرتار سنگھ کو پھانسی کی سزا سنائی گئی[3]۔ کرتار سنگھ کو19 سال کی عمر میں 16 نومبر، 1915ء کو لاہور سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی[2][3]۔ مجموعی طور پر 145 ہندوستانیوں کو پھانسی دی گئی، جن میں 62 فوجی تھے۔ کالے پانی کی سزا پانے والوں میں 190 فوجی تھے۔ انہیں ماندلے (برما) اور جزائر انڈمان کی جیلوں میں نظربند کر دیا گیا، جہاں اکثر قیدی پولیس تشدد سے ہلاک کردیے جاتے تھے۔[2]

اعزازات و یادگار[ترمیم]

  • کرتار سنگھ (کرتار سنگھ کی زندگی پر مبنی پاکستانی پنجابی فلم ہے جو 18 اکتوبر، 1959ء میں نمائش کے لیے پیش کی گئی)
  • صحت اور تعلیم کے فروغ لیے شہید کرتار سنگھ سرابھا چیریٹیبل فاؤنڈیشن کا قیام۔* شہید کرتار سنگھ سرابھا ڈینٹل کالج اینڈ ہسپتال کا قیام سرابھا، لدھیانہ۔[4]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]