حسین احمد مدنی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
حسین احمد مدنی

}}

سید حسین احمد مدنی

تحریک دیوبند
Jameah Darul Uloom Deoband.jpg

اہم شخصیات

محمد قاسم نانوتوی · رشید احمد گنگوہی
حسین احمد مدنی ·
محمود حسن
شبیر احمد عثمانی ·
اشرف علی تھانوی
انور شاہ کشمیری ·
محمد الیاس کاندھلوی
عبید اللہ سندھی ·
محمد تقی عثمانی

اہم ادارے

دارالعلوم دیوبند، بھارت
مظاہر علوم سہارنپور، بھارت
دار العلوم معین الاسلام، بنگلہ دیش
دار العلوم ندوۃ العلماء، بھارت
دار العلوم کراچی، پاکستان
جامعہ علوم اسلامیہ، پاکستان
جامعہ دار العلوم زاہدان، ایران
دار العلوم لندن, انگلینڈ
دار العلوم نیویارک، ریاستہائے متحدہ
دار العلوم کیناڈا،
مدرسہ انعامیہ، شمالی افریقہ

تحریکیں

تبلیغی جماعت
جمعیت علمائے ہند
جمعیت علمائے اسلام
تحریک ختم نبوت
سپاہ صحابہ
لشکر جھنگوی
طالبان



تعارف
[ترمیم]

پورا نام شیخ الاسلام مولانا سیّد حسین احمد مدنیؒ ، آپ مولانا محمود الحسن ؒ کے جانشین تھے۔

ولادت[ترمیم]

19 شوال 1296ھ بمطابق 1879ء بمقام بانگڑ میو ضلع اناؤں، اتر پردیش، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔

شجرہ نسب[ترمیم]

حسین احمد مدنی سید ہیں۔ آپکا شجرہ حسین بن علی سے جا ملتا ہے۔آپکا شجرہ کچھ یوں ہے:

حسین احمد بن سید حبیب اللہ بن سید پیر علی بن سید جہانگیر بخش بن شاہ انور اشرف بن شاہ مدن الیٰ شاہ نور الحق۔

شاہ نور الحق، سید احمد توختہ تمثال رسول کی اولاد میں سے تھے اور وہ سید محمد مدنی المعروف بہ سید ناصر ترمذی کی اولاد سے تھے اور وہ سید حسین اصغر بن حضرت امام زین العابدین ابن شہید کربلا حضرت حسین بن علی کی اولاد سے تھے۔[1]

خاندان[ترمیم]

سید حسین احمد مدنی کے 4 بھائی تھے۔سیدمحمد صدیق،سید احمد،سید جمیل احمد،سیدمحمود، بھائیوں میں آپ درمیانے تھے۔

آپکی تین بہنیں تھیں۔

  • سیدہ زینب  (4 برس کی عمر میں فوت ہوئی)
  • سیدہ نسیم زہرہ  (ڈیڑھ سال کی عمر میں فوت ہوئی)
  • سیدہ ریاض فاطمہ (24 سال کی عمر میں مدینہ میں فوت ہوئیں)

القابات[ترمیم]

  • شیخ العرب و العجم
  • اسیر مالٹا
  • مجاہد تحریک ریشمی رومال

ابتدائی تعلیم[ترمیم]

آپکے والد سکول ہیڈ ماسٹر تھے۔ جب آپ کی عمر 3 سال کو پہنچی تو والد کی تبدیلی قصبہ ٹانڈہ میں ہوگئی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم یہاں حاصل کی۔قاعدہ بغدادی اور پانچویں سیپارے تک والدہ سے پھر پانچ سے اخیر تک والد سے ناظرہ قرآن پڑھا۔

عصری بنیادی نصابی کتب[ترمیم]

آمد نامہ، دستور الصبیاں، گلستان کا کچھ حصہ مکان پر اور اسکول میں دوئم درجہ تک پڑھنا ہوا۔ حساب، جبرو مقابلہ تک مساحت اور اقلیدس مقالہ اولیٰ، تمام جغراقفیہ عمومی و خصوصی، تاریخ عمومی و خصوصی، مساحت علمی (تختہ جریب وغیرہ سے زمین ناپ کر باقاعدہ نقشہ بنانا) اور ہر چیز آٹح سال کی عمر تک بخوبی یاد ہوگئی تھی۔تیرہ سال کی عمر میں والد صاحب نے 1309ھ میں دارالعلوم دیوبند بھیج دیا۔ دو بھائی پہلے سے وہیں مقیم تھے چنانچہ انہی کے زیر سایہ بھائیوں کمرہ میں رہنے لگے۔ یہ کمرہ مولانا محمود الحسن کے مکان کے بالکل قریب واقع تھا۔

دیوبند میں تعلیم کا آغاز[ترمیم]

یہان پہنچنے کے بعد گلستان اور میزان شروع کی۔ بڑے بھائی صاحب نے محمود الحسن سے ابتدا کی درخواست کی چنانچہ مجمع میں انہوں نے مولانا خلیل احمد سے فرمایا آپ شروع کرادیں انہوں نے ابتداء کروادی۔ پھر بھائی سے میزان، منشعب پڑھی۔

حسین احمد مدنی کی زبانی:

دیوبند پہنچنے کے بعد وہ ضعیف سی کھیل کود کی آزادی جوکہ مکان پر تھی۔ وہ بھی جاتی رہی۔دونوں بھائی صاحبان بالخصوص بڑے بھائی صاحب سب سے ذیادہ سخت تھے۔ خوب مارا کرتے تھے۔ اس تقید اور نگرانی نے مجھ میں علمی شغف ذیادہ سے ذیادہ اور لہو لعب کا شغف کم سے کم کردیا۔[2]

اساتذہ سے حصول علم[ترمیم]

نمبرشمار نام استاذ کیفیت استاذ کتب کا حاصل کردہ علم
1 مولانا محمود الحسن دارلعلوم دیوبند کے پہلے شاگرد اور مولانا قاسم نانوتوی

سے علم حدیث حاصل کیا، حاجی امداداللہ مہاجر مکی سے خلافت حاصل کی اور دارالعلوم دیوبند کے صدر مدرس

دستور المبتدی، زرادی، زنجہانی، مراح الارواح، قال

اقوال، مروات، تہذیب قطبی تصدیقات، قطبی تصورات، میر قطبی، مفید الطالبین، نفحۃ الیمن، مطول، ہدایہ اخیرن، ترمذی شریف، بجاری شریف، ابوداؤد، تفسیر بیضاوی، نخبۃ الفکر، شرح عقائد نسفی، حاشیہ خیالی، موطا امام مالک، مؤطا امام محمد

2 مولانا ذولفقار علی مولانا محمود الحسن کے والد اور دارالعلوم دیوبند کے بانیوں میں سے تھے فصول اکبری
3 مولانا عبدالعالی مولانا قاسم نانوتوی کے شاگردوں میں سے تھے، دارلعلوم دیوبند سے فراغت حاصل کرکے دورالعلوم میں مدرس مقرر ہوئے مسلم شریف، نسائی شریف، ابن ماجہ، سبعہ معلقہ، صدرا، شمس بازغہ،توضیع تلویح
4 مولانا خلیل احمد سہارنپوری دارالعلوم دیوبند کے اولین فضلا میں سے تھے۔ ابو داؤد شریف کی شرح بذل المجہود پانچ جلدوں میں لکھی تخلیص المفتاح
5 مولانا حکیم محمد حسن مولانا محمود الحسن کے چھوٹے بائی تھے۔ آُکے دور مین دارالعلوم دیوبند نے بہت ترقی کی۔43 سال تک دیوبند میں تدریس کی پنج گنج، صرف میر، نحو میر، مختصر المعانی، سلم العلوم، ملا حسن، جلالین شریف، ہدایہ اوّلین
6 مفتی عزیز الّحمٰن دارالعلوم دیوبند میں معین المدرس تھے، 40 سال تک دیوبند کے مفتی رہے، آپکے فتاویٰ کی تعداد1،018،000ایک لاکھ اٹھارہ ہزار ہے شرح جامی، کافیہ، ہدایۃ النحو، منیۃ المصلّیٰ، کنز الدقائق، سرح وقایہ، شرح مائۃ عامل، اصول الشاشی
7 ،مولانا غلام رسول بفوی علوم عقلیہ و نقلیہ کے حافظ،1208ھ میں دارالعلوم دیوبند میں مدرس مقرر ہوئے، نور الانوار، حسامی، قاضی مبارک، شمائل ترمذی
8 مولانا حافظ محمد احمد مولانا قاسم نانوتوی کے فرزند، دارلعلوم دیوبند کے مدرس

اور آپ کی تاریخ میں دیوبند کی ترقیوں کا زریں دور آپکا زمانہ سمجھا جاتا ہے

ملا جامی بحث اسم
9 مولانا حبیب الرّحمٰن دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم مقامات حرہری، دیوان متنبنی
10 مولانا سید محمد صدیق سید حسین احمد مدنی کے برے بھائی۔ 1331ھ میں مدینہ منورہ میں فوت ہوئے اور جنت البقیع میں دفن ہوئے گلساتن، میزان منشعب

حجاز مقدس میں درس و تدریس[ترمیم]

علوم کی تکمیل کے بعد آپ نے مدینہ منورہ میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کردیا۔

شوال 1318ھ تک آپکا درس امتیازی مگر ابتدائی پیمانے پر رہا۔ 1318ھ میں ہندوستان آئے۔ ماہ محرم 1320ھ واپس دوبارہ مدینہ حاضری ہوگئے۔ اسکے بعد آپکا حلقہ درس بہت وسیع ہوگیا۔ آپکے گرد طلبا کا جم غفیر جمع ہوگیا۔اسوقت آپکی عمر 24 سال تھی آپکے حلقہ درس میں اس قدر توسیع ہوئی کہ مشرق وسطیٰ ، افریقہ، چین، الجزائر، مشرق الہند تک کے تشنگان علم آپکی طرف کھینچے کھینچے چلے آنے لگے اور آپکے زیر درس و درسیات ہند کے علاوہ مدینہ منورہ، مصر، استنبول کی کتابیں رہیں۔

عرب کے چند ممتاز شاگرد[ترمیم]

آپکے شاگردوں میں بہت سے تعلیم و تدریس قضا اور انتظامی محکموں کے بڑے بڑے مناصب پر فائز ہوئے۔ چند ممتاز تلامذہ کے نام یہ ہیں:

  • عبدالحفیظ کردی جو مدینہ منورہ میں محکمہ کبریٰ (ہائی کمانڈ) کے رکن تھے۔
  • احمد بساطی جو مدینہ طیبہ میں نائب قاضی رہے۔
  • محمود عبدالجواد مدینہ میونسپلٹی کے چیئر مین۔
  • مشہورالجزائری عالم شیخ بشیر ابراہیمی۔

درس حدیث کیلئے تکالیف کا تحمل[ترمیم]

شدید گرمیں دوپہر 12 بجے کا زمانہ ہو چھتری پیش کی جائے تو لینے سے انکار کر دیتے۔ بارش کے زمانہ میں راستہ کیچڑ آلود ہوتا لیکن حضرت دارالحدیث کی جانب محو سفر ہوتے۔ ایک ہاتھ میں چھڑی اور دوسرے ہاتھ میں چھتری ہوتی۔ کپڑے کیچڑ آلود ہوتے تو سواری پیش کی جاتی تو انکار کردیتے۔ شاگرد تانگے والے کو لے آتے بار بار اصرار کرنے پر ایک دفعہ کہنے لگے کہ کیچڑ سے ہم پیدا ہوئے، اگر اسمیں جا ملیں تو کیا ڈر ہے۔ ایک مرتبہ طلبا کے اصرار پر تیار ہوگئے۔ دوسرے دن کہیں دور جانا تھا تو تانگہ والا حاضر ہوا تو اسکے تانگہ پر اسوقت سوار ہوگئے جبکہ یہ شرط تسلیم کرالی کہ وہ درس گاہ تک لے جانے کیلئے آئندہ کبھی نہ آئے گا۔ [3]

اہلیہ کی تدفین سے فراغت کے بعد درس بخاری[ترمیم]

حکیم ضیاء الدین نبیان کرتے ہین کہ حضرت کی اہلیہ کا انتقال ہوا فراغت تدفین کے کچھ دیر بعد حضرت نے دارالحدیث کا رخ کیا۔ مجمع میں ہل چل مچ گئی تمام عمائدین نے سمجھایا کہ صدمہ بالکل تازہ ہے اور اس سے دل و دماغ کا متاثر ہونا قدرتی امر ہے۔ مگر حضرت نے دارالحدیث میں پہنچ کر بخاری شریف کا درس شروع کردیا۔ علامہ شبیر احمد عثمانی نے دوبارہ جاکر سمجھانے کی کوشش کی تو جواب دیا کہ:

اللہ کے ذکر سے بڑھ کر اطمینان قلب اور کس چیز سے حاصل ہوسکتا ہے؟۔[4]

کثرت درودشریف اوردیوبندی[ترمیم]

درس بخاری شریف میں ارشاد فرمایا کہ:

اہل بدعت دیوبندیوں کو کافر اور دشمن رسول سمجھتے ہیں، حالانکہ جتنا درود دیوبندی پڑھتے ہیں کوئی دوسرا نہیں پڑھتا۔ مثلا اس دارالحدیث میں تقریبا دو ڈھائی سو طلبہ شریک درس ہیں اور صبح سے شام تک یہاں درس حدیث ہوتا ہے اور ہر حدیث میں دو تین جگہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی آت ہے، جس پر حاضرین درود شریف پڑھتے ہیں اگر تمام اوقات کے درود شریف کو شمار کر لیا جائے تو تعداد حیرت انگیز حد تک پہنچ جائے گی اور یہی سلسلہ تقریبا بارہ مہینے جاری رہتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہندو ستان کے تمام خطوں سے ذایدہ یہاں درود شریف پڑھا جاتا ہے۔

مالٹا میں قید[ترمیم]

محمود الحسن کو شریف مکہ حسین بن علی نے گرفتار کر کے انگریز کے حوالہ کیا تو انکے ہمراہ چار شاگرد بھی تھے جن میں حسین احمد مدنی بھی تھے۔ محمود الحسن نے کہا انگریزی گرنمنٹ نے مجھ کو تو مجرم سمجھا ہے، تم تو بے قصور ہو اپنی رہائی کی کوششیں کرو تو چاروں نے جواب دیا حضرت جان تو چلی جائے گی مگر آپکی خدمت سے جدا نہیں ہونگے۔

ایام اسیری میں صدمات[ترمیم]

حسین احمد مدنی جب مدینہ طیبہ سے روانہ ہوئے تو پورا خاندان اور بسا بسایا گھر چھوڑ کر گئے نکلے تھے۔ سفر صرف دو چار دنوں کا تھا مگر تقدیر میں طویل لکھا تھا۔ گرفتار ہوئے مصر کیجانب روانگی ہوئی، سزا ہوئی۔ پھانسی کی خبریں گرم ہوئیں۔ مالٹا کی قید پیش آئی۔ استاد کی قربت اور انکی پدرانہ شفقت نے ہر مشکل آسان اور قابل برداشت بنادی تھی۔ قیدو بند کی سختیاں صبرو شکر کیساتھ جھیل رہے تھے۔

ایک دن کئی ہفتوں کی رکی ہوئی ڈاک پہنچی تو ہر خط مین کسی نہ کسی فرد خاندان کی موت کی خبر ملتی۔ اس طرح ایک ہی وقت میں باپ، جواں سال بچی، ہونہار بیٹے، جانثار بیوی، بیمار والدہ اور دو بھائیوں سمیت سات افراد خاندان کی جانکاہ خبر ملی۔ موت بر حق ہے مگر جن حالات میں حسین احمد مدنی کو یہ اطلاعات موصول ہوئیں انہیں برداشت کرنا پہاڑ کے برابر کلیجہ چاہیے تھا۔[5]

جیل میں قرآن حفظ کرنا[ترمیم]

سیّد حسین احمد مدنی نے مالٹا کی قید کے دوران 10 ماہ میں قرآن مجید یاد کرکے محمود الحسن کو تراویح کے بعد نوافل میں سنایا کرتے تھے۔ اس طرح نصف جمادی اولا سے یاد کرنا شروع کیا اور ربیع الاول میں پورا یاد کر کے محمود الحسن کو اگلے رمضان میں سنادیا۔ اس دوران والد کی وفات اور دیگر کنبہ کی موت کی خبر نے بہت گہرا صدمہ و دکھ پہنچایا۔[3]

جیل سے رہائی[ترمیم]

جنگ عظیم ختم ہونے کے بعد ٹوٹل ساڑھے تین سال جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد حضرت شیخ الہند اور انکے تمام ساتھیوں کو جن میں حسین احمد مدنی بھی شامل تھے آخر کار رہائی مل گئی۔ جب گھر سے چلے تو سب کچھ ٹھیک ٹھاک چھوڑ کر گئے تھے مگر رہائی کے بعد جب اپنے علاقہ پہنچے تو سب کچھ بدلا ہوا تھا۔ خاندان کے افراد کی اموات اور 40 یا 42 برس کی عمر تھی۔ صدمے پہ صدمہ خاندان تھا نہ گھر۔[6]

سیرت و اخلاق[ترمیم]

ڈاکٹر عبدالرّحمان شاجہان پوری فرماتے ہیں کہ:

علم عمل کی دنیا میں عظیم الشان شخصیات کے ناموں کے ساتھ مختلف خصائل و کمالات کی تصویریں ذہن کے پردے پر نمایاں ہوتی ہیں، لیکن مولانا محمود الحسن سیّد حسین احمد مدنی کا نام زبان پر آتا ہے تو ایک کامل درجے کی اسلامی زندگی اپنے ذہن و فکر ، علم اور اخلاق و سیرت کے تمام خصائل و کمالات اور محاسن و مھامد کے ساتھ تصویر میں ابھرتی اور ذہن کے پردوں پر نقش ہوجاتی ہے۔اگر مجھ سے کوئی پوچھے کہ اسلامی زندگی کیا ہوتی ہے؟ تو میں پورے یقین اور قلب کے کامل اطمینان کے ساتھ کہ سکتا ہوں کہ حسین احمد مدنی کی زندگی کو دیکھ لیجئے، اگر چہ یہ ایک قطعی اور آخری جواب ہے ، لیکن میں جانتا ہون کہ اس جواب کو عملی جواب تسلیم نہیں کیا جائے گا اور ان حضرات کا قلب اس جواب سے مطمئن نہیں ہوسکتا جنہوں نے اپنی دور افتادگی و عدم مطالعہ کی وجہ سے یا قریب ہوکر بھی اپنی غفلت کی وجہ سے ،یا اس وجہ سے کہ کسی خاص ذوق و مسلک کے شغف و انہماک ، یا بعض تعصبات نے انکی نظروں کے آگے پردے ڈال دیئے تھے اور وہ حسین احمد مدنی کے فکر کی رفعتوں ، سیرت کی دل ربائیوں اور علم و عمل کی جامعیت کبریٰ کو محسوس نہ کرسکے تھے اور انکے مقام کی بلندیوں کا اندازہ نہ لگا سکے تھے۔[7]

یتیموں کی سرپرستی اور صلہ رحمی[ترمیم]

مولانا فرید الوحیدی ؒ خود راوی ہیں کہ حضرت مدنیؒ یتیموں اور بیواؤن کی عموما امداد فرماتے تھے۔ ایسے افراد میری نظر میں ہیں جنہیں بے روزگاری کے دور میں مستقل امداد دیتے رہے۔ ان میں مسلم اور غیر مسلم کی قید نہ تھی۔ جو لوگ مفلوک الحال ہوتے انکی امداد باضابطہ طور پر فرماتے۔ عید کے مواقع پر اگر آبائی وطن ہوتے تو خود رشتہ داروں کے ہاں عید سے پہلے جاتے اور عیدی تقسیم فرماتے۔

مولانا مدنیؒ اپنے یتیم بھتیجے کی شادی کیلئے 25،000 پچیس ہزار روپے جیب کی مالیت سے عالی شن گھر تعمیر کروایا۔بھتیجے کی وفات کے بعد انکی اولاد کا کہنا ہے کہ گرفتاری و قید تک ہمیں احساس بھی نہ ہونے دیا کہ ہم یتیم ہیں۔ غرض یہ کہ اس دور نفسا نفسی میں حقیقی پوتوں کے ساتھ پرخلوص مہرو محبت عنقا ہے۔ بھتیجے اور اسکی اولاد کے ساتھ غیر معمولی مہرو محبت کے برتاؤ کی مثال بھی شاید مشکل سے نظر آئے۔[3]

مستحقین کی خبر گیری[ترمیم]

مولانا نجم الدین اصلاحیؒ تحریر کرتے ہیں:

حضرت مدنی جب تک زندہ رہے سخاوت کا دریا بہتا رہا اور فیاضی کا سمندر موجزن رہا۔ حضرت کا محبوب مشغلہ ہی یہی تھا کہ دولت کو اللہ کے راستہ مین لتایا جائے اور نادار لوگوں کی ضروریوت پوری کی جائیں۔
  • طلبا کی ایک جماعت ایسی بھی تھی جسکی آپ مدد کیا کرتے تھے۔ میرے ہی کمرے میں ایک صاحب رہتے ےتھے جنہیں اصولا مدرسہ سے کھانا نہیں ملتا تھا میں نے ایک دن پوچھ لیا تا کہا کہ حضرت مدنی انتظام فرما دیتے ہیں۔
  • ایک مرتبہ حضرت کی خدنت میں حاضر تھا دیگر حاضرین کی کافی تعداد تھی۔ عرضیاں پیش کی جارہی تھیں ایک طالب علم کی عرضی کو غور سے پڑھا پھر اسکے بعد دریافت کیا کہ تمہارے گھر تک سفر کا کرایہ کتنا ہے۔ اس نے کہا 15 روپے۔ پوچھا تمہارے پاس کتنے ہیں یا بالکل نہیں ہیں؟ اس نے جواب دیا 7 روپے، پھر حضرت نے جیب سے اسے 8 روپے عنایت کیئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ سال بھر میں ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں۔[8]

میرے گھر کی بات کسی سے نہ کہنا[ترمیم]

مولانا عبدالحق مدنی کا بیان ہے:

مدینہ منورہ والے سید حسین احمد مدنی کی اتنی عزت کرتے تھے کہ دوسرے کسی عالم کو یہ امتیاز حاصل نہ تھا لیکن حضرت مدنی رمضان شریف میں روزہ پر روزہ رکھتے اور کسی کو خبر نہ ہوتی۔ چنانچہ میں نے افطار کا پروگرام رکھا۔ کھانا لے آیا اصرار پر حضرت نے تھوڑا سا کھایا۔ میں سمجتا رہا کہ حضرت کے گھر سے بھی کھانا آئے گا مگر افطاری تو کجا سحر کو بھی نہ آیا۔ حضرت کے پاس چند کھجوریں تھیں جن سے روزہ افطار اور سحر کرلیا کرتے تھے۔ میں نے عرض کیا آنجناب کے گھر سے نہ افطار میں کھانا آیا اور نہ سحر کیلئے کوئی خبر آئی؟

حضرت مدنی نے بات ٹالنے کی بہت کوشش کی اور گفتگو کا رخ ادھر ادھر پھیرنا چاہا لیکن میرا صرار برھتا ہی گیا۔ فرمایا عبدالحق! جناب رسول اللہ ﷺ کی سنت تو کبھی پوری ہونی چاہیئے۔ اسکے بعد انتہائی بزرگانہ انداز میں فرمایا کہ میرے گھر کی بات کسی سے نہ کہنا: (بار بار آدھ پاؤ مسور کی دال پکا کر سب گھر والوں نے تھوڑی تھوڑی پی کر یا تربوز کے چھلکے سڑک پر سے اٹھا کر دھو کر شب میں پکا کر اس کا پانی پی کر گذرکیا)

وفات[ترمیم]

13 جمادی الاول بمطابق 5 دسمبر 1957ء بروز جمعرات کی بوقت دوپہر بمقام دیوبند، بھارت میں انتقال ہوا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ تاریخ آئینہ اودھ صفحہ 64
  2. ^ (تخلیص نقش حیات، صفحہ 54 تا 55)
  3. ^ 3.0 3.1 3.2 شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ ، از مولانا عبدالقیوم حقانی
  4. ^ شیخ الاسلام صفحہ نمبر 78
  5. ^ شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی ؒایک تاریخی و سوانحی مطالعہ، از فرید الوحید
  6. ^ چراغ محمد، از مولانا زید الحسینی
  7. ^ ایک سیاسی مطالعہ ، از ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہان پوری
  8. ^ شیخ الالسلام صفحہ نمبر 232