عبد الحق اعظمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شیخ ثانی، شیخ الحدیث، مولانا

عبدالحق اعظمی
ذاتی
پیدائش1928
جگدیش پور اعظام گڑھ
وفات30 دسمبر 2016(2016-12-30) (عمر  87–88 سال)
مذہباسلام
فرقہسنی
فقہی مسلکحنفی
بنیادی دلچسپیحدیث
مادر علمیدارالعلوم دیوبند
پیشہمحدث
رشتہ داررعنا ایوب [1]
مرتبہ

شیخ ثانی عبد الحق اعظمی (ولادت: 1928ء - وفات: 30 دسمبر 2016ء) دار العلوم دیوبند کے سابق شیخ الحدیث تھے۔[2]

ابتدائی زندگی اور تعلیم[ترمیم]

رجب المرجب دوشنبہ کے دن 1928ء کو جگدیش پور ضلع اعظم گڑھ میں پیدا ہوئے۔ عبد الحق اعظمی صاحب کی ابتدائی تعلیم گاؤں کے مکتب اور بیساں مکتب میں ہوئی۔ عربی درجات مدرسہ عربیہ بیت العلوم سرائے میر اعظم گڑھ میں پڑھے، پھر دار العلوم مئو میں داخل ہوکر ہفتم عربی تک تعلیم مکمل کی، 1948ء میں دار العلوم دیوبند کے دورۂ حدیث شریف میں داخل ہوکر حسین احمد مدنی، محمد ابراہیم بلیاوی اور شیخ الادب اعزاز علی وغیرہم سے خصوصی استفادہ کیا۔[3][4][5]

علوم وفنون سے فراغت کے بعد مختلف مقامات پر تدریسی خدمات انجام دیتے رہے، خاص طور سے یوپی کے شہر بنارس میں سولہ سال کا طویل عرصہ گزارا۔ ضلع گریڈیہہ (جھارکھنڈ) اور دار العلوم مئو وغیرہ میں بھی چھوٹی بڑی کتابوں کا درس دینے کا موقع ملا۔

1982ء میں دار العلوم دیوبند کے ارباب شوری کی نظر انتخاب عبد الحق اعظمی پر پڑی اور وہ دار العلوم مئو سے دار العلوم دیوبند منتقل ہو گئے۔ ان کو حسین احمد مدنی کے انداز تدریس سے وافر حصہ ملا تھا۔ انہوں نے دار العلوم دیوبند میں٣٣ برس بخاری شریف کا درس دیا۔

نکاح اور اولاد[ترمیم]

آپ کا پہلا نکاح اعظم گڑھ کے”بسیا“ گاوٴں میں ہوا،جن سے دو بیٹیاں اور بیٹے ”عبدالحکیم“ ہیں۔ دوسرا نکاح ”ننداوٴں“ گاوٴں میں ہوا،جس سے ایک بیٹی ہیں۔ دونوں زوجہ کے انتقال کے بعد آپ کا نکاح بنارس میں ہوا،یہ ابھی ماشاء اللہ بہ قید حیات ہیں، اور ان سے چھ فرزندان گرامی ہیں:عبدالبر،عبدالتواب،عبدالمنعم،عبدالمتعال،عبدالمقتدراور احمد۔اول الذکر مولانا عبدالبر صاحب دارالعلوم کے فارغ التحصیل اور اعظم گڑھ کے ایک مدرسے میں مدرس ہیں، آپ کے کئی داماد بھی علم وتحقیق کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔اللہ پاک آپ کی تمام نسبی وروحانی اولاد کو عمل صالح اور عزت وعافیت والی زندگی عطا کریں،اور آپ کے لیے سب کو صدقہ جاریہ بنائیں۔[5]

وفات[ترمیم]

29 دسمبر 2016ء کو پیٹ میں انفکشن کی شکایت ہوئی اور دیوبند میں واقع ڈی کے جین ہاسپٹل میں داخل ہوئے، جہاں دوسرے روز یعنی 30 دسمبر 2016ء کو عشا سے ذرا قبل دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہوا۔ اس کے اگلے دن سنیچر 31 دسمبر 2016ء کو بعد نماز عصر نمازجنازہ ادا کی گئی اور قاسمی قبرستان میں مدفون ہوئے۔

حوالہ جات[ترمیم]


  1. Muhammad Ayyub Waqif. Yaad-e-Ayyam (بزبان Urdu) (ایڈیشن 2017). Tehreer-e-Nau Publications. صفحہ 41. 
  2. "Maulana Shaikh Abdul Haq Azami". دیوبند. 
  3. "Rich tributes paid to Maulana Azmi". Saudi Gazette. 
  4. "Ah! Sheikh-ul-Hadith of Darul Uloom Deoband, Maulana Abdul Haq Azmi is no more in this world". 
  5. ^ ا ب "شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالحق صاحب اعظمی". دارالعلوم دیوبند.