مندرجات کا رخ کریں

عبد الغنی ازہری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
مفتی[1]
علامہ عبد الغنی ازہری
فائل:بین الاقوامی وبین المذاہب ہندوستانی انقلابی عالم دین
{دین اسلام کی مضبوط تعلیم اوراس پرمضبوط عمل}
لقبعلامہ شاشی شافعی ازہری
ذاتی زندگی
پیدائش1914ء
پونچھ،{ریاست جموں وکشمیر}برطانوی ہند
وفاتdeath date and given{a}(df)=y۔ (عمر110).(2023۔19)جنوری۔جمعرات
سہارنپور،اتر پردیش،(بھارت)
مذہباسلام
فرقہاہل سنت والجماعت سنی دیوبندی
فقہی مسلکفقہ المقارن اورعلم حدیث میں پی ایچ ڈی

مسلک امام الشافعی ائمۂ اربعہ میں وسیع الفکر علمی خیال

مفتی اعظم جموں وکشمیر
تحریکمشرب ومنہج دیوبندی

فکر سرہندی وفکر ولی الھی وفکر شیخ الہندکے امین

سب سے پہلے امیرشریعت جموں وکشمیر
بانئدار العلوم نظامیہ((بغداد کی یاد تازہ)) اس کے ساتھ ساتھ بکثرت مدارس اسلامیہ وخانقاہوں ومراکز اسلامیہ کے بانی ومہتمم وعظیم استاذاورصدر

'"مفتی عبد الغنی ازہری'" جو عبد الغنی شاہ الشاشی‌شافعی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں [2](۔1914ء – 2023ء) ایک بھارتی قوم ہندوستانی مسلمان عالم ومؤرخ تھے، جنھوں نےسرینگر اسلامک یونیورسٹی کشمیرکے عربی شعبہ کے صدر پروفیسر (HOD) اور ووئیس چانسلر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ وہدار العلوم دیوبند مظاہر علوم سہارنپور اور جامعہ الازہر،مصر کے فاضل تھے۔ انھوں نے نقشبندی سلسلے میں ایک بڑی کتاب نور عرفان اورعظیم اور ضخیم کتاب"قدیم تاریخ گجر" کے نام سے ایک کتاب لکھی، جو گجروں کی عظیم تاریخ بیان کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی ایک کتاب لکھی ہیں جن کی اشاعت کرناابھی باقی ہیں

سوانح

[ترمیم]

حضرت مولانا مفتی عبد الغنی ازہری 1914ء میں پونچھ ریاست جموں و کشمیر میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے دار العلوم دیوبند، مظاہر علوم سہارنپور اور جامعۃ الازہرمصر سے تعلیم حاصل کی۔ انھوں نےامامِ مسلم پر۔الامام المسلم و منھجہ فی الحدیث روایۃً و درایۃً کے نام سے اپنا ڈاکٹریٹ کا مقالہ لکھا۔ اور اس پر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی/ ان کے اساتذۂ دار العلوم دیوبند میں حسین احمد مدنیمحمد ابراہیم بلیاویاعزاز علی امروہیمحمد طیب قاسمیسید فخر الدین احمدظہورالحسن عثمانی/ اور اساتذۂ مظاہر علوم سہارنپور میں [محمد زکریا کاندھلوی] عبد الرحمان کاملپوری]وغیرہ شامل ہیں۔[3] جامعہ الازہر میں، انھوں نے عبد الحلیم محمود سمیت دیگر علما سے اکتسابِ فیض کیا۔[3]

الحمدلله علامہ مفتی عبد الغنی ازہری رح کی سندحدیث اورسندتفسیر بھی بہت عالی تھی جو عرب عجم میں آپ کے ہزاروں لاکھوں شاگردان آپ سے اسناد حدیث اور اسناد تفسیر کی روایت کرتے ہیں فی الوقت آپ کے تقریبا بالواسطہ یا بلاواسطہ پورے عالم میں کثیر تعداد میں شاگردان موجود ہیں ازہری رح کو کثیر تعداد میں مشائخ طریقت سے اجازت اور خلافت حاصل تھیں جن میں نمایا نام مولانا شاہ عبد القادر رائے پوری وعلامہ ابراہیم بلیاوی کا بھی آتا ہے

ازہری رح ایک کشمیری [گجر شاشی] تھے اور وہ اپنے گجر شاشی ہونے پر فخر کرتے تھے۔{{Sfn||2012|p=151} انھوں نے گجر بچوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے 1980 یا اس سے قبل میں پہلا مدرسہ[دار العلوم ازہریہ مرکز اہلسنت والجماعت وہاب نگر شار کھریو پانپور پلوامہ کشمیر] میں قائم کیا اس کے بعد بادشاہی باغ (نزدسہارنپور) میں دار العلوم نظامیہ مگن پورہ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا۔[4] انھوں نے جموں وکشمیر میں بھی بعض دینی مدارس قائم کیے، جن میں (مدرسہ انوارالعلوم،دندی پورہ(کوکر ناگ) اور دار العلوم کوثریہ،نزد(داچھی گام نیشنل پارک) اور(دار العلوم سوپور نزد پلوامہ) اور(مرکزالمعارف بھٹنڈی جموں) وغیرہ بڑے ادارے شامل ہیں۔[5](انھوں نے ضلع اننت ناگ سرینگر اور اس کے علاوہ صوبہ جموں وکشمیر وپنجاب ہریانہ ہماچل یوپی کے مختلف علاقوں میں بھی دیگر کئی ایک مدارس قائم فرمائے۔ اس کے ساتھ ساتھ سینکڑوں مدارس ومراکز اسلامیہ خانقاہوں دینی وتحریکی جماعتوں اور کئی ایک (یونیورسٹیزجامعات) کی سرپرستی بھی فرمائیں۔ محدث علامہ ازہری صاحب رح جموں وکشمیر کے تقریباتمام مدارس کے بانی رہیں ہیں اور بہترین منتظم وصدر مہتمم بھی رہیں ہیں [3] [شیخ محمد عبد اللہ سابق وزیراعلی جموں وکشمیر] کی دعوت پر، ازہری صاحب رح نے سرینگرکشمیر یونیورسٹی میں آنے سے پہلے مدینۃ العلوم، حضرت بل، سری نگر میں عربی کے پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیں۔[6]

ازہری کشمیر میں ایک سینئر عالم دین کی حیثیت سے معروف ہیں۔ انھوں نے کشمیر یونیورسٹی کے شعبہ عربی میں صدر پروفیسر/پی ایچ ڈی/ کے طور پر خدمات انجام دیں۔[7] وہ [تصوف] میں [سلسلہ قادریہ/چشتیہ/ نقشبندیہ/ سہروردیہ/ اویسیہ/کے ساتھ ساتھ تمام بڑے سلسلوں کے بزرگ تھے مگر انھوں نے [سلسلہ نقشبندیہ/ پرکتابیں بھی لکھی ہیں۔[8] ان کا انتقال 19 جنوری 2023ء کو سہارنپور میں ہوا۔[9] ان کی وفات پر جموں و کشمیر کے موجودہ ریاستی مفتی اعظم ناصر الاسلام نے تعزیت پیش کی ساتھ ساتھ پورے ملک ہندہستان کی مؤقرعلمی شخصیات۔[10] وائس چانسلر نیلوفر خان اور رجسٹرار نثار اے میر سمیت کشمیر یونیورسٹی کے ماہرین تعلیم نے ان کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا۔[11] یونیورسٹی نے اپنے شعبہ عربی میں ایک تعزیتی اجلاس منعقد کیا، جس میں شعبہ کے موجودہ صدر پروفیسر صلاح الدین ٹاک نے ازہری کو ’’ایک نامور استاد، ایک عظیم ماہر تعلیم اور مذہبی علوم میں اعلیٰ مہارت رکھنے والا‘‘ قرار دیا۔[11] ان کی وفات پر الطاف بخاری سمیت کئی سیاست دانوں نے رنج کا اظہار کیا۔[11] انشاءالله ازہری رح کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھااور سراہا جائے گا ان کے پانچ بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں، جن میں سبھی عالم دین اور مدارس میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں: نظام الدین رفاعی ندوی، عبد الحلیم ضیاء مظاہری، فرید محمود قاسمی، محمد طیب قاسمی اور علی صابر شاشی نظامی۔


علامہ محترم مرحوم کے انتقال کے وقت ایک مختصرمرثیہ قلم بند کیا گیا جو حضرت کے شایان شان رہا

ہندکی مسندارشادکاسلطان گیا جومکرم تھامعظم تھاوہ ذیشان گیا

ایک ولی ایک قلندر شہ شاہان گیا عارف‌و مرشدوقائد پیرپیران گیا

اور عام سے لوگ توہرروزہی جاتیں ہیں مگر آج اس دنیا سے ایک خاصۂ خاصان گیا

قلمی خدمات

[ترمیم]

ازہری کی تصانیف میں درج ذیل کتابیں شامل ہیں:[12][13][14]

  • نور عرفان
  • مالا بد منہ (فارسی سے اردو)
  • مکتوبات نقشبندیہ
  • قدیم تاریخِ گجر، گجروں کی تاریخ پر ایک تفصیلی کتاب۔[12][15]
  • گجر تاریخ تے صداقت، ازہری کے مضامین کا مجموعہ، مرتب: جاوید راہی۔[16]

حوالہ جات

[ترمیم]

مآخذ

[ترمیم]
  1. {cite news |عنوان=Anjuman Nusrat-ul-Islam condoles demise of Mufti Abdul Ghani Azhari, pays glowing tribute|اردو عنوان=جمعیۃ علماء ہند وانجمن نصرت الاسلام اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر تنظیموں اور اداروں کا علامہ مفتی عبد الغنی ازہری کے انتقال پر اظہار تعزیت، شاندار خراج عقیدت|یوآرایل=http://www.knskashmir.com/anjuman-nusrat-ul-islam-condoles-demise-of-mufti-abdul-ghani-azhari--pays-glowing-tribute-175055 |تاریخ رسائی=19 جنوری 2023ء |کاوش=کشمیر نیوز سروس |تاریخ=19 جنوری 2023ء}
  2. سنگھ 2012, p. 149
  3. ^ ا ب پ احمد 2022, p. 996
  4. سنگھ 2012, pp. 149-150
  5. احمد 2022, p. 997
  6. "ماہرین تعلیم و سیاسی رہنماؤں نے مفتی عبدالغنی الازہری کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا"۔ ای ٹی وی بھارت۔ 19 جنوری 2023ء۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-01-20
  7. "AAC expresses condolences with journalist Abid Bashir, Moulana Azhari" [اے اے سی کے صحافی عابد بشیر کی والدہ کی وفات پر مولانا ازہری کا اظہار تعزیت]۔ کشمیر ریڈر۔ 5 جولائی 2022ء۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-01-19
  8. سنگھ 2012, p. 151
  9. حسینہ ایوب (19 جنوری 2022ء)۔ "Renowned scholar from Jammu Abdul Ghani Azhari passes away" [جموں کے معروف عالم عبد الغنی ازہری انتقال کر گئے۔]۔ چناب ٹائمز۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-01-19
  10. "J&K Grand Mufti condoles Mufti Abdul Ghani Azhari's demise" [جموں و کشمیر مفتی اعظم نے مفتی عبدالغنی ازہری کے انتقال پر تعزیت کی۔]۔ پریشز کشمیر۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-01-19
  11. ^ ا ب پ "Academics, politicians condole demise of prominent scholar Abdul Ghani Al-Azhari" [ممتاز عالم عبد الغنی الازہری کے انتقال پر ماہرین تعلیم اور سیاستدانوں کی تعزیت]۔ گریٹر کشمیر۔ 19 جنوری 2022ء۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-01-19
  12. ^ ا ب احمد 2022, p. 999
  13. "معروف عالم دین مفتی عبدالغنی الازہری انتقال کر گئے"۔ etvbharat.com۔ ای ٹی وی بھارت۔ 19 جنوری 2023ء۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-01-19
  14. "معروف عالم دین مفتی عبدالغنی الازہری سہارنپور میں انتقال کرگئے" [Famous Islamic scholar Abdul Ghani Azhari passed a way in Saharanpur]۔ کشمیر عظمیٰ۔ 20 جنوری 2023ء۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-01-20
  15. "قديم تاريخ گجر / Qadīm tārīk̲h̲-i Gujar"۔ ورلڈ کیٹ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-01-20
  16. "Mian Altaf releases latest Gojri publications"۔ Scoop News۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-01-20

عام کتابیات

[ترمیم]
  • نائیک زادہ محمود احمد (Nov 2022ء). "The Untold legacy of Professor Mufti Abdul Ghani Al Azhari" [پروفیسر مفتی عبد الغنی الازہری کی ان کہی میراث]. Journal of Emerging Technologies and Innovative Research (بزبان انگریزی). 9 (11). ISSN:2349-5162.
  • ڈیوڈ امینیول سنگھ (2012). Islamization in Modern South Asia: Deobandi Reform and the Gujjar Response (بزبان انگریزی). ڈی گروئٹر. pp. 149–152.

مزید پڑھیے

[ترمیم]