سہارنپور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
سہارنپور
 - شہر - 
Saharanpur.png 

انتظامی تقسیم
ملک Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ملک (P17) ویکی ڈیٹا پر[1]
منتظم سہارنپور ضلع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں انتظامی تقسیم میں مقام (P131) ویکی ڈیٹا پر
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 29°57′50″N 77°32′46″E / 29.964°N 77.546°E / 29.964; 77.546  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں متناسقاتی مقام (P625) ویکی ڈیٹا پر
بلندی 268 میٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سطح سمندر سے بلندی (P2044) ویکی ڈیٹا پر
آبادی
کل آبادی 705478   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آبادی (P1082) ویکی ڈیٹا پر
مزید معلومات
اوقات متناسق عالمی وقت+05:30  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منطقہ وقت (P421) ویکی ڈیٹا پر
رمزِ ڈاک
247001  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ڈاک رمز (P281) ویکی ڈیٹا پر
فون کوڈ 132  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی ڈائلنگ کوڈ (P473) ویکی ڈیٹا پر
باضابطہ ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
جیو رمز 1257806  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں جیونیمز شناخت (P1566) ویکی ڈیٹا پر

سہارنپور (ہندی: सहारनपुर، انگریزی: Saharanpur) علاقہٴ دوآبہ میں واقع شمال بھارتی صوبہ اتر پردیش کا مشہور شہر، لکڑکاری کی صنعت میں عالمی شہرت کا حامل ہے۔ مغلیہ دور میں یہ شہر صوبہ ہریانہ و اتراکھنڈ کی سرحدوں پر واقع تھا، اور اس کے اطراف میں کافی زرخیز زراعتی زمین موجود تھی۔ آج کثیر تعداد میں پارچہ بافی، شکر اور کاغذ سازی کے کارخانے پاےٴ جاتے ہیں۔

وجہ تسمیہ[ترمیم]

ماضی میں اس شہر کے اسماء بدلتے رہے۔ اس کے موجودہ نام کی وجہ تسمیہ پر مؤرخین کا اتفاق نہیں ہو سکا۔ عوامی روایت کے مطابق ١۳۴۰ء میں سلطان محمد تغلق کو پاؤں دھوئی ندی کے قریب شاہ ہارون چشتی نامی بزرگ کی آمد کی اطلاع ملی تو ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ بعد ازاں اس جگہ کا نام ہارون پور رکھے جانے کا فرمان جاری کر دیا۔

تاریخ[ترمیم]

سہارنپور شہر ایک جنگلی علاقہ تھا، جسے بعد میں مغلیہ سلطنت نے شہر کی شکل دی۔ اس شہر میں انسانی زندگی کے آثار ۲۰۰۰ ق م سے ملتے ہیں۔ اس شہر کے اصل باشندے دراوڑ تھے، لیکن بعد میں آریہ قابض ہوگئے۔ ان کے علاوہ دیگر قومیں بھی حملہ آور ہوئیں، ان سب کی تہذیبوں کے آثار آج بھی ملتے ہیں۔
مغلیہ دور میں شہنشاہ اکبر نے حکومت دہلی کے ماتحت سہارنپور کو ایک شہر کی شکل دی۔ شہر کے گرد فصیل تعمیر کی گئی جس میں چار دروازے تھے۔ اس قلعہ کے کھنڈر آج بھی نظر آتے ہیں۔
١۷۵۷ء میں مرہٹہ حاکم رگھوناتھ راؤ اس شہر پر قابض ہو گیا، لیکن جلد ہی نجیب الدولہ نے دوبارہ اقتدار حاصل کر لیا۔ لیکن روہیلوں اور مرہٹوں کے مابین جاری طویل کشمکش کے نتیجہ میں یہ شہر مرہٹوں کے قبضہ میں چلا گیا۔ اس دور میں مندریں بھی تعمیر کی گئیں۔
١۸۰۳ میں یہ شہر برطانوی شرق الہند کمپنی ﴿British East India Company﴾ کے زیر اقتدار آیا۔ جنگ آزادی ہند 1857ء میں اس شہر کا زبردست حصہ رہا ہے۔ اس تحریک کا مرکز شاملی سہارنپور کے اطراف میں ہی واقع ہے۔ جنگ کے بعد اس علاقہ میں اسلامی مدارس کا قیام عمل میں آیا۔ دارالعلوم دیوبند اور مظاہرالعلوم اس علاقہ کے اولین مدارس ہیں۔
١۹۴۷ء میں آزادی ہند کے بعد پنجاب سے سہارنپور کے جانب بہت سے افراد و گروہوں نے نقل مکانی کی۔ جس کی وجہ سے شہر کے تہذیبی تنوع اور تجارت کو نیا رخ ملا۔

آبادی[ترمیم]

۲۰١١ء کی مردم شماری کے مطابق شہر کی آبادی ۷،۰۳،۳۴۵ اور ضلع کی آبادی ۳۴،٦۴،۲۲۸ ہے۔

بیرونی روابط[ترمیم]