مندر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
اوم

ہندوؤں کی عبادت گاہ کو مندر کہتے ہیں، جہاں ہندو دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں رکھی ہوتی ہیں۔ اور یہ مندر ان ہی کے جانب منسوب ہوتے ہیں۔ مثلًا شیو سے مراد وہ مندر ہے جہاں ہندوؤں کے بھگوان شیو کی پرستش کی جاتی ہے۔ سرسوتی مندر وہ مندر ہے جہاں ہندو عقیدے میں مطابق علم و دانش کی دیوی سرسوتی کی پرستش کی جاتی۔ ہندوؤں میں سروسوتی دیوی کا سب سے مشہور مندر تلنگانہ ریاست کے نظام آباد ضلع کے باسر مقام پر پے۔ اسی ہندوؤں میں دولت اور آسودگی کی دیوی لکشمی کے لیے جو مندر تعمیر کی جاتی ہے، لکشمی مندر کہلاتی ہے۔ ان معروف دیوی اور دیوتاؤں کے علاوہ ہندوؤں میں کئی ہزار دیوی اور دیوتا ہیں اور سب کے نام پر منادر تعمیر کیے گئے ہیں۔

کچھ اہم شخصیات کے نام پر بھی منادر بنائے جا چکے ہیں۔ ان بھارت میں عام طور سے بابائے قوم تسلیم کیے گئے موہن داس کرم چند گاندھی ہیں، جنہیں عوام میں مہاتما گاندھی کہا جاتا ہے۔[1] اس کے علاوہ ان کے قاتل نتھو رام گوڈسے کے نام پر بھی بھارت میں مندر موجود ہیں۔ [2]

مذہبی روایت کی بنا پر اکثر یہ مندر دریاؤں اور چشموں کے کنارے یا پہاڑوں کی چوٹی پر بناےٴ جاتے ہیں۔ حالاں کہ ایسے منادر کی کمی نہیں جو زمین ہی حدود میں سمٹے ہوئے ہیں۔

بدھ مندر[ترمیم]

بدھ مت میں مذہبی عبادت گاہ کو وہار کہتے ہیں۔ تاہم کچھ جگہوں پر اور عام زبان میں انہیں بھی بدھ مندر کہتے ہیں۔ بدھ مت کے کچھ حلقوں میں بت پرستی یا خدا کا تصور مفقود ہے۔ تاہم کئی جگہوں پر خود بدھ کے کے مجسمے نصب کیے گئے ہیں۔ بدھ کا سب سے بڑا مجسمہ حیدرآباد، دکن کے حسین ساگر آبی ذخیرے پر تعمیر کیا گیا ہے۔ جاپان، چین اور تھائی لینڈ کے بدھ منادر میں بدھ کے مجسمے نصب تو ہیں، مگر ہر جگہ بدھ کا چہرہ مختلف ہے۔

جین مندر[ترمیم]

جین مت کے بارے میں مشہور ہے کہ غالبًا تاریخ کے ہر دور میں قلیل التعداد رہا ہے، مگر اتنا ہی قدیم ہے جتنا کہ ہندومت ہے۔ چنانچہ دریائے سندھ کی تہذیب کے کچھ مجسموں میں بھی جین عبادت کے مجسمے ملے ہیں۔ جین مندروں میں مہاویر اور کئی اہم جین شخصیات کے مجسمے اور تصاویر پائے جاتے ہیں۔ جین مندر دھیان، عبادت، سماجی نشست اور تقاریب کے کام آتے ہیں۔ ان منادر میں شادی بیاہ بھی انجام پاتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]