گنیش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
گنیش
ملحقہ دیو
منتر اوم گنیشائے نماہا
ہتھیار Paraśu (کلہاڑی), pāśa (جال) , aṅkuśa (ہاتھی کا چابک)
سواری چوہا
شریک حیات بھدی (دانائی)، ردھی (کامیابی)، سدھی (حصول)

گنیش (Ganesha) (سنسکرت:गणपति) کو ہندو مت میں ہاتھی کے سر اور انسانی دھڑ والا مقدس دیو اور شیو اور پاروتی کا بیٹا تصور کیا جاتا ہے۔ گنیش کو خوشحالی کا نقیب قرار دیا جاتا ہے۔ نیز علم و دولت کے حصول کے لئے بمبئی اور جنوبی ہندوستان میں اسکی پوجا کی جاتی ہے۔ گنیش چتورتھی اس سے منسوب خاص تہوار ہے۔

ابتدائی حالات[ترمیم]

کہا جاتا ہے کہ ایک دن جب شیوجی گھر پر موجود نہیں تھے تو پاروتی نے مٹی سے گنیش کو بنایا۔ اس کے بعد پاروتی نے گنیش کو غسل خانے کے دروازے پر پہرہ دینے کے لیے کھڑا کر دیا۔ جب پاروتی نہا رہی تھی تو شیوجی وہاں آگئے ۔ گنیش شیو جی کو نہیں پہچانتے تھے اور شیو جی گنیش کو۔ ایسے میں گنیش نے شیو جی کو غسل خانے میں جانے سےروک دیا۔ شیو جی غصے میں آگئے۔ دونوں کے درمیان لڑائی ہوئی اور شیو جی نے گنیش کا سرقلم کر دیا۔پاروتی کو جب اس واقعے کا علم ہوا تو وہ شیو جی پر خوب غصہ ہوئیں۔شیوجی نے پاورتی سے وعدہ کیا کہ وہ پاورتی کو گنیش واپس کر دیں گے۔شیوجی نے لوگوں کو کسی مردے کا سر لانے کوکہا مگر لوگوں کوصرف ہاتھی کا سر ملا اس لیے انہیں ہاتھی کا سر ہی لگا دیا گیا۔گنیش کو زندہ کرنے کے بعد انہیں گنیش کا نام دیا گیا۔اس واقعے کی یاد میں گنیش چترتھی کا تہوار منایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسے عوامی تہوار کے طور پر مراٹھا شیواجی (1630-1680) نے شروع کیا۔

نگار خانہ[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Ganesha getting ready to throw his lotus. Basohli miniature, circa 1730. National Museum, New Delhi. In the Mudgalapurāṇa (VII, 70), in order to kill the demon of egotism (Mamāsura) who had attacked him, Gaṇeśa Vighnarāja throws his lotus at him. Unable to bear the fragrance of the divine flower, the demon surrenders to Gaṇeśha. " For quotation of description of the work, see: Martin-Dubost (1997), p. 73.

بیرونی روابط[ترمیم]