گنیش

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
گنیش
حکمت اور دانائی کا دیوتا
Attired in an orange dhoti, an elephant-headed man sits on a large lotus. His body is red in colour and he wears various golden necklaces and bracelets and a snake around his neck. On the three points of his crown, budding lotuses have been fixed. He holds in his two right hands the rosary (lower hand) and a cup filled with three modakas (round yellow sweets), a fourth modaka held by the curving trunk is just about to be tasted. In his two left hands, he holds a lotus above and an axe below, with its handle leaning against his shoulder.
Basohli miniature, circa 1730. قومی عجائب گھر, نئی دہلی.[1]
دیوناگری गणेश
سنسکرتمیں Gaṇeśa
اشتراک Deva
منتر Oṃ Gaṇeśāya Namaḥ
ہتھیار Paraśu (کلہاڑی), pāśa (جال) , aṅkuśa (ہاتھی کا چابک)
ساتھی Buddhi (دانائی), Riddhi (کامیابی), Siddhi (حصول)
سواری چوہا

گنیش (Ganesha) (سنسکرت:गणपति) کو ہندو مت میں ہاتھی کے سر اور انسانی دھڑ والا مقدس دیو اور شیو اور پاروتی کا بیٹا تصور کیا جاتا ہے۔ گنیش کو خوشحالی کا نقیب قرار دیا جاتا ہے۔ نیز علم و دولت کے حصول کے لئے بمبئی اور جنوبی ہندوستان میں اسکی پوجا کی جاتی ہے۔ گنیش چتورتھی اس سے منسوب خاص تہوار ہے۔

ابتدائی حالات[ترمیم]

کہا جاتا ہے کہ ایک دن جب شیوجی گھر پر موجود نہیں تھے تو پاروتی نے مٹی سے گنیش کو بنایا۔ اس کے بعد پاروتی نے گنیش کو غسل خانے کے دروازے پر پہرہ دینے کے لیے کھڑا کر دیا۔ جب پاروتی نہا رہی تھی تو شیوجی وہاں آگئے ۔ گنیش شیو جی کو نہیں پہچانتے تھے اور شیو جی گنیش کو۔ ایسے میں گنیش نے شیو جی کو غسل خانے میں جانے سےروک دیا۔ شیو جی غصے میں آگئے۔ دونوں کے درمیان لڑائی ہوئی اور شیو جی نے گنیش کا سرقلم کر دیا۔پاروتی کو جب اس واقعے کا علم ہوا تو وہ شیو جی پر خوب غصہ ہوئیں۔شیوجی نے پاورتی سے وعدہ کیا کہ وہ پاورتی کو گنیش واپس کر دیں گے۔شیوجی نے لوگوں کو کسی مردے کا سر لانے کوکہا مگر لوگوں کوصرف ہاتھی کا سر ملا اس لیے انہیں ہاتھی کا سر ہی لگا دیا گیا۔گنیش کو زندہ کرنے کے بعد انہیں گنیش کا نام دیا گیا۔اس واقعے کی یاد میں گنیش چترتھی کا تہوار منایا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسے عوامی تہوار کے طور پر مراٹھا شیواجی (1630-1680) نے شروع کیا۔

گیلری[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

  1. "Ganesha getting ready to throw his lotus. Basohli miniature, circa 1730. National Museum, New Delhi. In the Mudgalapurāṇa (VII, 70), in order to kill the demon of egotism (Mamāsura) who had attacked him, Gaṇeśa Vighnarāja throws his lotus at him. Unable to bear the fragrance of the divine flower, the demon surrenders to Gaṇeśha. " For quotation of description of the work, see: Martin-Dubost (1997), p. 73.