شیو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شیو
Shiva cropped.jpg
ملحقہ برہمن (شیویتتریمورتی، دیو
مسکن کیلاش
منتر اوم نماہا شیوایا
مہامرتیون جیا منتر
شیوا تانڈاؤ ستوترم
ہتھیار ترشول، پشو پتستر
علامات شیو لنگ
سواری نندی
تہوار مہا شواراتری
ذاتی معلومات
شریک حیات ستی، پاروتی
اولاد گنیش
کارتیکے

شیو یا شِو (سنسکرت: शिवः، شیوا) ہندومت کی تری مورتی کا آخری جزو ہے اور بھگوان کی جبروتی اور قہاری صفات سے منسوب ہے اور یوم آخرت کا مالک ہے۔ مگر شیو مت کے پیروکار صرف شیو کو حقیقت ارفع کی صورت گردانتے ہیں جس نے براہما کو تخلیق کیا۔ اسے گناہوں سے پاکیزگی بخشنے والا اور معصیت سے نجات دینے والا تصور کیا جاتا ہے۔ ’’شیو پُران‘‘ میں شیو کے 108 نام تحریر ہیں۔ جنوبی ہندوستان میں شیو کے ماننے والے زیادہ تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ شیو لنگ، شیش ناگ، تیسری آنکھ اور رودارکش مالا شیو سے منسوب ہیں۔

تری مورتی میں یہ تباہی، بربادی، جنگ اور طوفان کا دیوتا تھا۔ اس کی پیشانی پر تیسری آنکھ ہوتی ہے جسے ”ترلوچن“ کہا جاتا ہے۔ اس سے غیظ و غضب کے شعلے نکلتے ہیں کہتے ہیں کہ عشق کا دیوتا کام دیو اس کے غیظ و غضب کا شکار ہوکر ایک مرتبہ جل گیا تھا اور پھر بڑی ہی مشکلات سے عالمِ وجود میں آسکا۔ شیو کی علامت شیولنگ ہے جس کی پوجا کی جاتی ہے۔ شیو کی بیوی اوما ہے جو درگا، کالی اور ستی کہلاتی ہے۔ شیو کے نام پر ہندومت میں کئی فرقے وجود میں آئے پسوتپار، شیو سدھانت، لنگایتی اور نتارا — تیسرا جنوبی ہند میں اور چوتھا بنگال میں پایا جاتا ہے۔ شیو کی اولاد بھی بتائی جاتی ہے۔ ایک بیٹے کا نام کارتیکے جو دیوتاؤں کے لشکر کا سپہ سالار ہے اور دوسرا گنیش جو ہاتھی اور انسان کا مرکب ہے۔[1]

تاریخ[ترمیم]

شیو کے بارے میں کیا جاتا خیال ہے کہ یہ ہندوستان کے قدیم ترین دیوتاؤں میں سے ہے۔ وادیٔ سندھ کی تہذیب (3500 — 1700 ق م) سے متعلق جن آثار قدیمہ کی دریافت ہوئی ہے ان میں ایسی مہریں ملی ہیں جن پر شیو کی خصوصیات رکھنے والے ایک دیوتا کی شبیہ نقش ہے اور اس کی بِنا پر فیصلہ کیا گیا ہے کہ شیو یا اس سے ملتے جلتے دیوتا کی پرستش آج سے ساڑھے ہزار سال قبل مسیح بھی ہندوستان میں ہوتی تھی۔ ابتدائی عہد کے ویدک ادب کے مطالعہ سے پتا چلتا ہے کہ آریہ بھی اپنے ساتھ ہندوستان میں ایک ایسے دیوتا کا تصور لے کر آئے تھے جس کی خصوصیات بہت کچھ قدیم ہندوستانی دیوتا شیو سے ملتی جلتی تھیں۔ آریوں کا یہ دیوتا ابتدائی ویدک ادب میں رُدر کے نام سے موسوم ہے۔ وقت گزرے کے ساتھ آریوں اور ہندوستانی کے قدیم غیر آریہ باشندوں کے درمیان باہم اختلاط کے نتیجے میں یہ محسوس کیا گیا کہ آریوں کا دیوتا رُدر اور ہندوستان کا قدیم دیوتا شیو دراصل ایک ہی شخصیت کے دو نام ہیں۔ اس احساس کے نتیجے میں ویدک دور کے آخری زمانہ میں رُدر شیو نام کا ایک دیوتا منظر عام پر ابھرتا ہے جس میں قدیم شیو اور آریائی رُدر کی شخصیتیں جذب ہو گئی ہیں اور جو دونوں کی خصوصیات کا حامل ہے۔ اس صورت میں قدیم شیو کو ویدک برہمنی مت کو مہر استناد بھی حاصل ہو گئی ہے۔ بہر حال اس دور تک ”رُدر شیو“ کے تصور میں تجریدی عنصر غالب ہے اور اس کی شخصیت کی تجسیم بڑی حد تک نامکمل ہے۔ شویتا شویترا اپنیشد میں رُدر شیو کو رب اعلیٰ اور آقائے کُل کی حیثیت سے ضرور یاد کیا گیا ہے،[2] لیکن اس کی شخصیت کا کوئی واضح اور شخصی تصور نہیں پیش کیا گیا۔ ویدک عہد کے بعد رزمیہ نظموں کے دور (400 ق م — 500 عیسوی) میں مہابھارت میں پہلی مرتبہ شیو اپنی منفرد خصوصیت کے ساتھ ایک مکمل شخصی دیوتا کی شکل میں نظر آتا ہے۔ مہابھارت میں عام طور پر شیو کو ایک عظیم دیوتا کی صورت میں پیش کیا گیا ہے اور اس مخصوص صفات کی مظہر مختلف دیومالائی کہانیاں بھی بیان کی گئی ہیں۔[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. پروفیسر میاں منظور احمد، تقابلِ ادیان و مذاہب، صفحہ 23، محمد سعید اقبال علمی بک ہاؤس چوک اردو بازار لاہور۔ ایڈیشن 2004ء
  2. پریتیما بویس، دی ہندو ریلیجیس ٹریڈیشن، الائڈ پبلیشرس، نئی دہلی، 1978ء، صفحات 243–244
  3. رمیش چندر دت، اے ہسٹری آف سویلائزیشن اِن اینشینٹ انڈیا، دہلی، 1972ء، صفحات 2—4

بیرونی روابط[ترمیم]