اگھور پنتھ
انسانی کھوپڑی کے ساتھ ایک اگھوری، ت 1875 | |
| کل تعداد | |
|---|---|
| 70 | |
| گنجان آبادی والے علاقے | |
| وارانسی، شمالی ہند |

اگھور پنتھ ایک خانہ بہ دوش شیو پرست سادھوؤں کا فرقہ ہے۔ یہ لوگ عمومًا وارانسی اور اس کے آس پاس پاس کے علاقوں میں بستے ہیں۔[1]
تاریخ
[ترمیم]اگھوریوں (Aghoris) کا تعلق ہندو مت کے قدیم فرقے "کاپالیکا" سے جوڑا جاتا ہے، جس کی جڑیں کئی صدیوں پرانی ہیں اور ان کی تاریخ میں بابا کینارام کو ایک اہم شخصیت مانا جاتا ہے جنھوں نے بنارس میں ان کی تعلیمات کو باقاعدہ شکل دی۔ یہ لوگ بھگوان "شیو" کے پیروکار مانے جاتے ہیں اور عام انسانی معاشرے سے بالکل الگ تھلگ شمشان گھاٹوں یا دور دراز غاروں میں زندگی بسر کرتے ہیں کیونکہ ان کا عقیدہ غیر جانبداری (Non-dualism) پر مبنی ہے، جس کے تحت وہ پاک اور ناپاک یا خوبصورت اور بدصورت کے درمیان فرق کو ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی نظریے کے تحت وہ ایسی مخصوص اور حیران کن رسومات اختیار کرتے ہیں جو عام معاشرے کے لیے ناقابلِ فہم اور خوفناک ہو سکتی ہیں، جیسے کہ اپنے جسم پر مردوں کی راکھ ملنا، انسانی کھوپڑی کو برتن کے طور پر استعمال کرنا اور شمشان کی آگ کے قریب بیٹھ کر چلے کاٹنا۔ جہاں تک جادو ٹونے اور تنترا (Tantra) کا تعلق ہے، اگھوریوں کا ماننا ہے کہ ان انتہائی کٹھن اور غیر روایتی ریاضتوں کے ذریعے وہ کائنات کی مخفی روحانی طاقتیں حاصل کرتے ہیں جنھیں "سدھی" کہا جاتا ہے اور یہی وہ پراسرار پہلو ہے جس کی وجہ سے عوام کی ایک بڑی تعداد انھیں جادو اور کالے علم سے منسوب کرتی ہے۔ اگرچہ بہت سے لوگ ان سے خوف محسوس کرتے ہیں یا ان کی طاقتوں سے متاثر ہو کر ان کے پاس جاتے ہیں، لیکن اگھوریوں کا دعویٰ ہے کہ ان کا اصل مقصد محض دنیاوی لگاؤ کو ختم کر کے موت کے خوف پر قابو پانا اور روحانی نجات حاصل کرنا ہے۔
عجیب و غریب عادات و اطوار
[ترمیم]اگھور پنتھی یا اگھوری لوگ اپنے آپ میں عجیب و غریب عادات و اطوار رکھتے ہیں۔ ان میں سے چند اس طرح ہیں :
- فطری طور پر انتقال ہونے والے انسانوں کا گوشت کھانا۔
- انسانی کھوپڑی سے بھیجا نکال کر کھانا
- خود کے فضلات کو کھانا
- صفائی ستھرائی کی کمی۔[1]
فرقے کی عالمی شہرت پانے کے اسباب
[ترمیم]اگھور پنتھ فرقہ 2017ء میں اس وقت عالمی سرخیوں میں آگیا جب سی این این کے پیش کنندہ رضا اسلم نے اس فرقے کا انٹرویو لینے کی کوشش کی۔ وہ انسانی کھوپڑی سے پیتے ہوئے دکھے، ان جلی لاش کا راکھ ملا گیا اور ان پر سادھوؤں نے اپنے فضلات بھی پھینکیں، حالانکہ یہ فرقے کے سادھوؤں کی تعداد سو سے متجاوز نہیں تھی۔[1]
ہندو تنظیموں کا احتجاج
[ترمیم]ان واقعات کو دکھائے جانے پر ناقدین نے رضا اسلم پر ہندو مت کی غلط اور انتہاپسندانہ تصویر پیش کرنے کا الزام عائد کیا۔ امریکی کانگریس کے واحد ہندو رکن نے ٹویٹر پر کہا:[1]
| ” | میں اس بات سے پریشان ہوں کہ سی این این اپنی موجودہ طاقت اور اثر کا استعمال کر کے لوگوں کے بیچ ہندومت کے تیئیں غلط فہمیوں اور خوف کو بڑھا رہا ہے۔ | “ |