ابھینوگپت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابھینوگپت
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 950  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کشمیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1020 (69–70 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کشمیر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ فلسفی،  مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل فلسفہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر

ابھینوگپت (950-1016 عیسوی)[1][2] کشمیر کا ایک ہندو فلسفی ، سنت اور گیانی تھا۔ اسے ایک ماہر موسیقار، ڈراما نگار ، شاعر ، ماہر منطق ، نظریہ ساز اور مفسر بھی مانا جاتا ہے۔[3][4] ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت جس کے ہندوستانی ثقافت پر گہرے اثرات ہیں۔[5][6] وہ کئی کتابوں کا مصنف بھی تھا۔

وہ کشمیر میں ایک عالموں اور روحانیوں کے خاندان میں پیدا ہوا۔[7] اس نے اپنے زمانے کے متوجہ تقریباً تمام علوم ، فلسفی اور آرٹ لگ بھگ پندرہ یا اس سے بھی زیادہ اساتذہ سے پڑھ لیے۔[8] اس نے اپنی زندگی میں پینتیس کام مکمل کیے ، جن میں اہم ترین ، سب سے بڑا اور مشہور کام” تنترالوکا “ کی تصنیف ہے، یہ “ لاعلاج “ اور “ ترکا “ کے تمام فلسفیانہ اور عملی پہلوؤں کو انسائیکلو پیڈئیک انداز میں اکٹھا کیا گیا ہے۔ جسے آج کل “ کشمیری شیو مت “ کہا جاتا ہے۔

زندگی[ترمیم]

ابھینو اس کا اصل نام نہیں تھا بلکہ اور شاید یقیناً یہ ایک خطاب تھا جو اُسے کسی ایک اپنے گُرو کی جانب سے عطا کیا گیا تھا اور اس کے معنی انتہائی با صلاحیت اور اہل ترین کے ہیں۔جیارتھا (1150-1200 عیسوی)[9] جو ابھینو کا ایک اہم ترین شارح اور مبصر ہے، ابھینو کے تین مزید معانی بیان کرتا ہے۔ 1۔ ہمہ بیدار، 2۔ ہر جا موجود ، 3۔ محفوظ ممدوح۔

جادوئی پیدائش[ترمیم]

جس اصطلاح سے ابھینو خود اپنے آپ کو متعارف کرواتا ہے وہ ہے “ یوگنیبھو” یعنی یوگینی کا جنا۔[10][11] کشمیری شیو ازم اور خصوصا کاؤلا میں یہ عقیدہ ہے کہ بھیراوا کے الہیاتی تاسیس یافتہ والدین کا فرزند خصوصی اور غیر معمولی روحانی اور ذہنی صلاحیتوں سے نوازا گیا ہوتا ہے۔[12]ایسے بچے کے بارے میں یہ عقیدہ اور نظریہ رکھا گیا ہے کہ وہ “ مخزن علم “ ہوتا ہے اور یہاں تک کہ جب وہ شکم مادر میں ہی ہوتا ہے تب بھی وہ شیوا کا پرتو شمار کیا جاتا ہے یا اس کے چند مخصوص اوصاف سے متصف اور ایسا خال خال ہی زمانوں میں اُس نوع خاص کے لحاظ سے ہوتا ہے۔[13]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Triadic Heart of Shiva, Paul E. Muller-Ortega, page 12
  2. Introduction to the Tantrāloka, Navjivan Rastogi, page 27
  3. Re-accessing Abhinavagupta, Navjivan Rastogi, page 4
  4. Key to the Vedas, Nathalia Mikhailova, page 169
  5. The Pratyabhijñā Philosophy, Ganesh Vasudeo Tagare, page 12
  6. Companion to Tantra, S.C. Banerji, page 89
  7. Doctrine of Divine Recognition, K. C. Pandey, page V
  8. Introduction to the Tantrāloka, Navjivan Rastogi, page 35
  9. Introduction to the Tantrāloka, Navjivan Rastogi, page 92
  10. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Tantrāloka, Navjivan Rastogi page 20 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  11. Luce dei Tantra, Tantrāloka, Abhinavagupta, Raniero Gnoli, page 3
  12. Re-accessing Abhinavagupta, Navjivan Rastogi, page 2
  13. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ The Kula Ritual page 4 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔