بھگود گیتا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بھگود گیتا
An 1830 CE painting depicting Arjuna, on the chariot, paying obeisance to Lord Krishna, the charioteer.
کرشنا اور ارجن، کروکشیتر تقریباً 1830ء کی مصوری
معلومات
مذہب ہندومت
زبان سنسکرت زبان
آیات 700

بھگود گیتا یا شریمد بھگود گیتا (ہندی: श्रीमद्भगवद्गीता، لفظی ترجمہ: الوہی نغمہ) ہندو مت کا سب سے مقدس الہامی صحیفہ ہے۔ اٹھارہ ابواب اور سات سو شلوک پر مشتمل یہ کتاب دراصل مہا بھارت کے باب 23 تا 40 کا حصہ ہے۔

مہا بھارت کی مشہور جنگ میں جب کورو اور پانڈو اپنی اپنی فوج لے کر آمنے سامنے آن کھڑے ہوتے ہیں تو پانڈو سپاہ سالار ارجن مخالف فوج پر ایک نگاہ ڈالتا ہے جہاں اسے اپنے بھائی بند اور عزیز و اقارب صف آراء نظر آتے ہیں۔ اپنے دادا، چچا، استاد اور دیگر قابلِ احترام ہستیوں کو مدِّ مقابل دیکھ کر ارجن جذباتی ہو جاتا ہے اور اپنے رتھ بان کرشن جی سے کہتا ہے کہ اپنے عزیزوں اور پیاروں کے خون سے ہم ہاتھ کیسے رنگ سکتے ہیں۔ میں اس جنگ میں حصّہ نہیں لے سکتا۔ کرشن جی جواب دیتے ہیں کہ ظالم کو اس کے ظلم کی سزا دینا ہمارا فرض ہے اور فرض میں کوتاہی نہیں کی جاسکتی۔ دونوں کا مکالمہ جاری رہتا ہے اور بالآخر ارجن جنگ پہ راضی ہو جاتا ہے اور اس بے جگری سے لڑتا ہے کہ ظالم کورؤں کو شکستِ فاش ہو جاتی ہے۔ کرشن جی اور ارجن کا یہ طویل مکالمہ ہی اصل میں بھگوت گیتا کا متن ہے۔ سنسکرت کی اس نظم کو ہندو دھرم میں ایک بنیادی صحیفے کا درجہ حاصل ہے لیکن ترجموں کے ذریعے اسکا متن دنیا کے ہر کونے میں پہنچا اور اس کے مداحوں میں بلا تفریقِ مذہب و ملت ہر قوم کے لوگ شامل ہیں۔ گیتا کے دنیا کی ہر معروف زبان میں تراجم ہوچکے ہیں۔ [1]

گیتا کا اولّین ترجمہ فارسی میں ہوا تھا جو شہنشاہِ اکبر کے درباری دانش ور فیضی نے کیا تھا۔ اس کے بعد تو گویا دبستان کھُل گیا۔اردو میں اس نظم کے کم از کم پچاس ترجمے ہو چکے ہیں جن میں نظیر اکبر آبادی، مولانا حسرت موہانی، یگانہ چنگیزی، حکیم اجمل خان اور خواجہ دل محمد اور رئیس امروہوی کے تراجم بہت معروف ہیں۔

پس منظر[ترمیم]

بھگود گیتا وشنو بھگوان کے اوتار شری کرشن اور پانڈو خاندان کے بہادر جنگجو ارجن کے مابین مکالمے کی منظوم صورت ہے۔ گیتا کا پس منظر جنگ کا میدان ہے (جو درحقیقتاً زندگی کا استعارہ ہے)۔ جہاں ارجن جیسا سورما جب اپنے ہی اہل خانہ کو دولت اور اقتدار کی خاطر کشت و خون پر آمادہ دیکھتا ہے تو شدید باطنی کرب اور ذہنی کشمکش کا شکار ہوجاتا ہے۔ جنگ کی ہولناکی اور قتل عام کا سوچ کر وہ آبدیدہ ہوجاتا ہے، اور اپنے ہتھیار پھینک دیتا ہے۔ ایسے میں بھگوان کرشن غیب سے نمودار ہوتےہیں اور پھر ارجن اور کرشن کے مابین مکالمے کا آغاز ہوتا ہے۔ جو اپنے آپ میں نہایت عمیق آفاقی پیغام لئے ہوئے ہیں۔

گیتا کی تعلیمات[ترمیم]

  • انسان کا جوہر حقیقی آتما ہے جو زمان و مکان سے ماورا ہے۔
  • نجات کے کئی راستے ہیں، مگر کرم یوگ اور بھکتی یوگ ارفع طریق ہیں۔
  • جزا کی خواہش کئے بغیر عمل کرنا (نشکم کرما) بہت بڑا کام ہے۔
  • یہ کائنات راجو(دنیاوی)، ستو(عارفانہ) اور تمو(جاہلانہ) گن کا مرکب ہے۔ اسی طرح انسان بھی انہیں بنیادی تین فطرتوں کے حامل ہیں۔

گیتا کے اثرات[ترمیم]

بھگود گیتا کے فلسفے نے جدید دنیا کے ممتاز مفکروں کو متاثر کیا ہے۔ چاہے وہ بت پرستی کا سخت مخالف سماجی مصلح راجہ رام موہن ہو یا ادویت پسند شنکر اچاریہ۔ معروف امریکی دانشور ہنری تھورو گیتا کی تعریف میں رطب اللسان ہے۔ گاندھی جی کی زندگی میں گیتا اور اسکی تعلیمات کا بڑا ہاتھ ہے۔ انہوں نے اسے اپنی ’’روحانی لغت‘‘ قرار دیا ہے۔

1966 میں قائم ہونیوالی سوامی پربھوپد کی روحانی جماعت انٹرنیشنل سوسائٹی فار کرشن کونشیئس (ISKCON) کا محرک اور مرکز یہی بھگود گیتا تھی۔

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]