ارتھ شاستر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

ارتھ شاستر، کوتلیہ چانکیہ کی لکھی گئی ایک بہت ہی مشہور کتاب کا نام ہے۔ کوتلیہ چانکیہ اپنی اس کتاب کی وجہ سے کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ کوتلیہ چانکیہ نے اس آفاقی تصنیف میں قدیم ہندوستانی تمدن کے ہر پہلو کو اپنی تحریر کا موضوع بنایا ہے۔ علوم و فنون، معیشت، ازدواجیات، سیاسیات، صنعت و حرفت، قوانین، رسم و رواج، توہمات، ادویات، فوجی مہمات، سیاسی و غیر سیاسی معاہدات اور ریاست کے استحکام سمیت ہر وہ موضوع کوتلیہ چانکیہ کی فکر کے وسیع دامن میں سما گیا ہے، جو ہم سوچ سکتے ہیں۔

اکثر محقق اس پر متفق ہیں کہ ارتھ شاستر ۳۱۱ ق م سے ۳۰۰ ق م کے دوران تصنیف ہوئی۔ اس کتان کا اصل سنسکرت متن ۱۹۰۴ء میں دریافت کیا گیا۔ ۱۹۰۵ء میں اسے پہلی بار کتابی شکل میں منظم کیا گیا۔ ۱۹۰۹ء اور پھر اس کے بعد حکومت ہند نے جناب شام شاستری کی مرتب کردہ ارتھ شاستر کو سنسکرت متن اور انگریزی ترجمے کے ساتھ بارہا شائع کیا۔

حوالہ[ترمیم]

  • ارتھ شاستر، مصنف: کوتلیہ چانکیہ، ترجمہ: سلیم اختر، ص- ۱۲، ۱۳