ہندو تقویم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ہندو تقویم 1871-72 سے ایک صفحہ

ہندو تقویم کی اصطلاح بھارت میں مستعمل مختلف شمسی قمری تقویم کے استعمال ہوتی ہے۔ ان سب کا بنیادی مقصد وقت کی پیمائش ہے مگر سورج یا چاند کی گردش اور مہینوں کے نام کے علاوہ کون سا سال کب شروع ہوگا، میں فرق پایا جاتا ہے۔[1] کئی علاقائی تقویم پائی جاتی ہیں مگر سب سے زیادہ مشہور وکرمی تقویم ہوتی ہے جسے بکرمی بھی کہا جاتا ہے۔ اسے برِصغیر کے شمالی، مغربی اور وسطی علاقوں میں استعمال ہوتا ہے جبکہ جنوب میں تامل اور مشرق میں بنگالی تقویم مستعمل ہے۔ ان سب کا انحصار چاند کی گردش پر ہوتا ہے اور نیا سال بہار میں شروع ہوتا ہے۔ ان کی ابتدا پہلی صدی قبل مسیح سے شروع ہوتی ہے۔ کیرالہ جیسے علاقوں میں شمسی چکر کو ترجیح دی جاتی ہے جو ملیالم تقویم کہلاتی ہے۔ اس میں نیا سال خزاں میں شروع ہوتا ہے اور پہلی صدی عیسوئی کی دوسری دہائی میں اس کا آغاز ہوا۔[1][2] ہندو تقویم کو بعض اوقات پانچانگ بھی کہتے ہیں۔[3]

قدیم ہندو تقویم نظریاتی طور پر یہودی تقویم سے ملتی جلتی ہے مگر گریگوری تقویم سے فرق ہے۔[4] گریگوری تقویم میں قمری مہینے میں کچھ دنوں کا اضافہ کیا جاتا ہے تاکہ 12 قمری مہینوں کے مجموعے 354 روز[5] کو سال کے 365 دن کے برابر لایا جا سکے۔ ہندو تقویم میں ہر چند سال بعد ایک اضافی مہینہ ڈال دیا جاتا ہے تاکہ فصلی تہوار وغیرہ کا وقت برقرار رہے۔[2][4]

ہندو تقویم برِصغیر میں زمانہ قدیم سے مستعمل ہے اور آج بھی بھارت اور نیپال کے ہندو اپنے مذہبی تہوار جیسا کہ ہولی، ماہا شیو راتری، ویساکھی، رکھشا بندھن، پونگل، اونم، کرشنا جنم اشٹمی، درگا پوجا، رام لیلا، ویشو اور دیوالی وغیرہ اسی کے مطابق مناتے ہیں۔ ہندوستان کی اولین بدھ آبادیوں نے بھی پہلے اسے اور پھر وکرمی تقویم کو اپنا اور پھر اپنی مقامی بدھ تقویم پر منتقل ہو گئے۔[6] بدھ تقویم کو روایتی طور پر کمبوڈیا، لاؤس، میانمار، سری لنکا اور تھائی لینڈ میں استعمال کیا جاتا ہے جو ہندو تقویم سے ہی نکلا ہے۔[7][8][9]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 B. Richmond (1956)۔ Time Measurement and Calendar Construction۔ Brill Archive۔ صفحات 80–82۔ اخذ کردہ بتاریخ 2011-09-18۔ 
  2. ^ 2.0 2.1 Christopher John Fuller (2004)۔ The Camphor Flame: Popular Hinduism and Society in India۔ Princeton University Press۔ صفحات 109–110۔ آئی ایس بی این 978-0-69112-04-85۔ 
  3. Klaus K. Klostermaier (2007)۔ A Survey of Hinduism: Third Edition۔ State University of New York Press۔ صفحہ 490۔ آئی ایس بی این 978-0-7914-7082-4۔ 
  4. ^ 4.0 4.1 Eleanor Nesbitt (2016)۔ Sikhism: a Very Short Introduction۔ Oxford University Press۔ صفحات 122–123۔ آئی ایس بی این 978-0-19-874557-0۔ 
  5. Orazio Marucchi (2011)۔ Christian Epigraphy: An Elementary Treatise with a Collection of Ancient Christian Inscriptions Mainly of Roman Origin۔ Cambridge University Press۔ صفحہ 289۔ آئی ایس بی این 978-0-521-23594-5۔ , Quote: "the lunar year consists of 354 days".
  6. Anita Ganeri (2003)۔ Buddhist Festivals Through the Year۔ BRB۔ صفحات 11–12۔ آئی ایس بی این 978-1-58340-375-4۔ 
  7. Jeffery D Long (2013)۔ Jainism: An Introduction۔ I.B.Tauris۔ صفحات 6–7۔ آئی ایس بی این 978-0-85771-392-6۔ 
  8. John E. Cort (2001)۔ Jains in the World: Religious Values and Ideology in India۔ Oxford University Press۔ صفحات 142–146۔ آئی ایس بی این 978-0-19-513234-2۔ 
  9. Robert E. Buswell Jr.؛ Donald S. Lopez Jr. (2013)۔ The Princeton Dictionary of Buddhism۔ Princeton University Press۔ صفحہ 156۔ آئی ایس بی این 978-1-4008-4805-8۔ 

کتابیات[ترمیم]