لنگایت دھرم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

لنگایت دھرم کا شمار پہلے ہندو فرقوں میں کیا جاتا تھا مگر اب اسے ہندومت سے غیر مربوط تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس مذہب کے پیروکار کو لنگایت کہا جاتا ہے۔ اس مذہب پر اسلام کے نقوش اور اثرات واضح نظر آتے ہیں۔ ان کا گرو غالباً بسو (बसव) ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ ایک خدا ہے اور وہ تمام صفات عالیہ کا جامع ہے وہی تمام مادے اور تمام ارواح کا خالق و مالک ہے وہ اپنے آپ کو معلم عالم کی شکل میں ظاہر کرتا ہے۔ لنگایتوں میں پیری مریدی اور بیعت کے طریقے مسلمانوں سے ملتے جلتے ہیں۔ اس مذہب میں رسمیں نہیں ہیں۔ ذات پات کا کوئی امتیاز نہیں۔ ایک چنڈال بھی اس میں شامل ہو جائے تو برہمن کے برابر سمجھا جاتا ہے۔ بچپن کی شادی (بال ویواہ) ممنوع ہے طلاق کی اجازت ہے۔ بیواؤں کا احترام کیا جاتا ہے اور انہیں دوسری شادی کا حق حاصل ہے۔ لنگایت اپنے مردوں کو جلاتے نہیں دفن کرتے ہیں شرادھ اور موت کی دوسری رسمیں مفقود ہیں۔ تناسخ کا عقیدہ ان کے نزدیک غلط ہے۔ یہ لوگ پرہیز گار اور مجاہد مزاج ہیں۔ یہ کنڑی اور تلنگی علاقے میں خصوصاً بلگام، بیجاپور اور دھارواڑ کے اضلاع میں آبادی کا 35 فیصد ہیں۔ میسور اور کولھاپور میں آباد ہیں یہ اپنے آپ کو ویر شیو (یعنی شیو کے بہادر) کہلاتے ہیں۔[1]

بسو کے اقوال میں سے بعض تارا چند نے نقل کیے ہیں، جن کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا ایک ہے۔ وہ ساری کائنات پر حاوی ہے۔ توبہ اور پشیمانی کے سوا اور کوئی نذر نیاز یا قربانی گناہوں کا کفارہ نہیں ہو سکتی۔ گھوڑے وغیرہ کی قربانی کا کچھ فائدہ نہیں۔ ذات پات کے امتیازات بالکل بے معنی ہیں۔ عمل کرو اور جزا کی توقع نہ رکھو۔ سب روحیں خدا کی ذات میں جذب ہونے والی ہیں۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ہندو ثقافت پر اسلام کا اثر، ڈاکٹر تارا چند ص 119، ماخوذ از ہندوستان میں مسلم ثقافت مصنف عبد المجید سالک مطبوعہ دوم ص 499-500