وارانسی میں گھاٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
وارانسی میں گھاٹ

وارانسی میں گھاٹ دریائے گنگا کے کنارے دریا پر جانے کے لیے سیڑھیاں ہیں۔ شہر میں 87 گھاٹ ہیں۔ گھاٹوں میں سے زیادہ تر اشنان گھاٹ (غسل) اور پوجا کی رسموں کے گھاٹ ہیں، جبکہ کچھ شمشان گھاٹ بھی ہیں۔[1] وارانسی کے زیادہ تر گھاٹ 1700ء کے بعد تعمیر کیے گئے ہیں شہر مراٹھا سلطنت کا حصہ تھا۔[2] بہت سے گھاٹوں کے ساتھ کوئی کہانی وابستہ ہے۔ جبکہ کچھ گھاٹ ذاتی ملکیت بھی ہیں۔ [3] گنگا کے گھاٹوں پر صبح کشتی کی سواری سیاحوں میں بہت مقبول ہے۔ کاشی نریش کا شوالہ گھاٹ اور کالی گھاٹ ذاتی املاک ہیں۔

فہرست[ترمیم]

اہلیہ بائی گھاٹ
چیت سنگھ گھاٹ
کیدار گھاٹ
جین گھاٹ

بالاجی گھاٹ وارانسی کے گھاٹوں کی فہرست مندرجہ ذیل ہے۔

  • اسی گھاٹ
  • گنگا محل گھاٹ
  • ریوا گھاٹ
  • تلسی گھاٹ
  • بھدینی گھاٹ
  • جانکی گھاٹ
  • ماتا آنندمئی گھاٹ
  • جین گھاٹ
  • پنچکوٹ گھاٹ
  • پربھو گھاٹ
  • چیت سنگھ گھاٹ
  • اکھاڑہ گھاٹ
  • نرجنی گھاٹ
  • نروای گھاٹ
  • شوالہ گھاٹ
  • گلريا گھاٹ
  • دنڈی گھاٹ
  • ہنومان گھاٹ
  • پراچین ہنومان گھاٹ
  • میسور گھاٹ
  • ہریش چندر گھاٹ
  • لالی گھاٹ
  • وجيانرم گھاٹ
  • کیدار گھاٹ
  • چوکی گھاٹ
  • كشے میشور گھاٹ
  • مان سروور گھاٹ
  • نارد گھاٹ
  • راجا گھاٹ
  • گنگا محل گھاٹ
  • پانڈیا گھاٹ
  • دگپتيا گھاٹ
  • چوسٹی گھاٹ
  • رانا محل گھاٹ
  • دربھنگہ گھاٹ
  • منشی گھاٹ
  • اہلیہ بائی گھاٹ
  • شیتلاگھاٹ
  • پریاگ گھاٹ
  • دشاشومیدھ گھاٹ
  • راجندر پرساد گھاٹ
  • مان مندر گھاٹ
  • منیکرنیکا گھاٹ
  • تریپورہ بھیروی گھاٹ
  • ميرگھاٹ گھاٹ
  • للتا گھاٹ
  • سندھیا گھاٹ
  • سنکٹا گھاٹ
  • گنگا محل گھاٹ
  • بھونسلو گھاٹ
  • گنیش گھاٹ
  • رام گھاٹ
  • جٹار گھاٹ
  • گوالیار گھاٹ
  • بالاجی گھاٹ
  • پنچ گنگا گھاٹ
  • درگا گھاٹ
  • برہما گھاٹ
  • بوندی پركوٹا گھاٹ
  • شیتلاگھاٹ
  • لال گھاٹ
  • گائے گھاٹ
  • بدری نارائن گھاٹ
  • ترلوچن گھاٹ
  • نندیشور گھاٹ
  • تیلیا نالہ گھاٹ
  • نیا گھاٹ
  • پرہلاد گھاٹ
  • رانی گھاٹ
  • بھیساسر گھاٹ
  • راج گھاٹ
  • آدیشو یا وارانا سنگم گھاٹ
دریائے گنگا سے گھاٹوں کا نظارہ

اہم گھاٹ[ترمیم]

دشاشومیدھ گھاٹ[ترمیم]

دشاشومیدھ گھاٹ پر گنگا آرتی کی تقریب

دشاشومیدھ گھاٹ کاشی وشوناتھ مندر کے قریب واقع ہے اور سب سے شاندار گھاٹ ہے۔ اس سے متعلق دو افسانوی کہانیاں ہیں: ایک کے مطابق برہما جی نے اس کی تعمیر شیو جی کے استقبال کے لیے کی تھی۔ دوسری کہانی کے مطابق برہماجی نے یہاں دشاشومیدھ یگ کیے تھے۔ ہر شام پجاریوں کے ایک گروہ یہاں اگنی پوجا کرتا ہے جس میں بھگوان شو، گنگا دریا، سوریا دیو، اگنیدیو اور پوری کائنات کو آہوتیاں سمان کی جاتی ہیں۔ یہاں دیوی گنگا کی بھی خوبصورت آرتی کی جاتی ہے۔[4]

منیکرنیکا گھاٹ[ترمیم]

منیکرنیکا گھاٹ، وارانسی

منیکرنیکا گھاٹ سے منسلک بھی دو کہانیاں ہیں۔ ایک کے مطابق بھگوان وشنو نے شیو کی تپسیا (عبادت) کرتے ہوئے اپنے سدرشن چکر سے یہاں ایک حوض کھودا تھا۔ جب شیو وہاں خوش ہو کر آئے تب وشنو کے کان کی منیکرنیکا اس کنڈ (حوض) میں گر گئی تھی۔

دوسری کہانی کے مطابق بھگوان شیو کو اپنے بھگتوں سے چھٹی ہی نہیں مل پاتی تھی، دیوی پاروتی اس پریشان ہوئیں اور شیو جی کو روکے رکھنے کے لیے اپنے کان کی نیکرنیکا وہیں چھپا دی اور شیو جی سے اسے ڈھونڈنے کو کہا۔ شیو جی اس ڈھونڈ نہیں پائے اور آج تک اس مقام پر انتیشٹی (چتا جلانا) ہوتی رہتی ہے۔ قدیم گرنتھوں کے مطابق منیکرنیکا گھاٹ کا مالک وہی چنڈال تھا، جس نے راجا ہریش چندر کو خریدا تھا۔ اس گھاٹ کی خاصیت یہ ہے کہ یہاں مسلسل ہندو انتیشٹی ہوتی رہتی ہیں اور گھاٹ پر چتا کی آگ مسلسل جلتی ہی رہتی ہے، کبھی بھی بجھنے نہیں پاتی۔

سندھیا گھاٹ[ترمیم]

سندھیا گھاٹ، وارانسی

سندھیا گھاٹ جسے شندے گھاٹ بھی کہتے ہیں، منیکرنیکا گھاٹ کے شمالی طرف سے جڑا ہوا ہے۔ یہ گھاٹ کاشی کے بڑے اور خوبصورت گھاٹوں میں سے ایک ہے۔ اس گھاٹ کی تعمیر 150 سال پہلے 1830ء میں گوالیار کی مہارانی بے جابائی سندھیا نے کرائی تھی اور اور اس سے جڑا ہوا شیو مندر جزوی طور پر دریا کے پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ اس گھاٹ کے اوپر کاشی کے متعدد بااثر لوگوں کی طرف سے بنائے گئے مندر واقع ہیں۔ یہ تنگ گھومتی گلیوں والے علاقے میں واقع ہے۔ ہندو اسطیر کے مطابق اگنی دیوتا کی پیدائش یہیں ہوئی تھی۔ یہاں ہندو لوگ ويریے اسور کی ارچنا کرتے ہیں اور بیٹے کی خواہش کرتے ہیں۔

مان مندر گھاٹ[ترمیم]

مان مندر گھاٹ، وارانسی

مان مندر گھاٹ ریاست جے پور کے مہاراجا جے سنگھ دوم نے 1770ء میں بنوایا تھا۔ اس میں سنگتراشی کے ساتھ جھرنکے بنے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے وارانسی میں جنتر منتر رصدگاہ ویدشالا بھی بنوائی تھی جو دہلی، جے پور، اجین، متھرا کے ساتھ پانچویں رصدگاہ ہے۔

للتا گھاٹ[ترمیم]

مرحوم نیپال نریش نے یہ گھاٹ وارانسی میں شمالی جانب بنوایا تھا۔ یہیں اس نے ایک نیپالی کھٹمنڈو پگوڈا طرز کا کیشو مندر بھی بنوایا تھا۔ جس میں بھگوان وشنو کی پوجا ہوتی ہے۔[5]

اسی گھاٹ[ترمیم]

اسی گھاٹ، وارانسی

اسی گھاٹ دریائے اسی کے سنگم کے قریب واقع ہے۔ اس خوبصورت گھاٹ پر مقامی جشن اور کھیلوں کے مقابلوں کا انعقاد ہوتا رہتا ہے۔ یہ گھاٹوں کی قطار میں آخری اور شمالی ترین گھاٹ ہے۔ یہ مصوروں اور فوٹوگرافروں کا بھی پسندیدہ مقام ہے۔ یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں طویل مدتی غیر ملکی طلبہ، محققین اور سیاحوں قیام کرتے رہے ہیں۔ عام دنوں میں صبح کے وقت تقریبا 300 لوگ فی گھنٹہ یہاں آتے ہیں جبکہ تہوار کے دنوں میں یہ تعدا 2500 افراد فی گھنٹہ تک جا پہنچتی ہے۔ مہا شواراتری جیسے تہواروں کے دوران ایک ہی وقت میں تقریبا 22،500 لوگ یہاں سما سکتے ہیں۔[6]

تلسی گھاٹ[ترمیم]

تلسی گھاٹ، وارانسی

تلسی گھاٹ کا پرانا نام "لولارک گھاٹ" تھا۔ اس کا نام سولہویں صدی میں تلسی داس بدل کر تلسی گھاٹ رکھا۔ تلسی داس نے اس گھاٹ پر شری کرشن لیلا کا آغاز کیا گیا، جو ابھی تک قائم ہے۔ کاشی نریش طرف سے ناگ ناتھیا کے موقع پر سونے کی اشرفیاں دی جاتی ہیں۔ اسی گھاٹ پر تلسی داس کا بنوایا ہوا ایک ہنومان مندر موجود ہے۔

گنگا محل گھاٹ[ترمیم]

گنگا محل گھاٹ وارانسی پر دریائے گنگا کے کنارے بنے گھاٹوں میں سے ایک اہم گھاٹ ہے۔ اسے نارائن خاندان نے 1830ء میں تعمیر کروایا۔ اس کے شمال میں اسی گھاٹ واقع ہے۔ اسے دراصل اسی گھاٹ کی توسیع کے طور پر تعمیر کیا گیا تھا۔[7][8][9][10]

نارائن خاندان نے 1830ء میں وارانسی میں دریائے گنگا کے پاس ایک ایک محل تعمیر کروایا تھا جس کا نام گنگا محل تھا۔ کیونکہ محل گھاٹ پر واقع تھا اس لیے اس کا نام گنگا محل گھاٹ پڑا۔ پتھروں سے بنی سیڑھیاں گنگا محل گھاٹ کو اسی گھاٹ سے جدا کرتی ہیں۔ یہ محل اب تعلیمی اداروں کے زیر استعمال ہے۔[7][8][9][10]

منشی گھاٹ[ترمیم]

منشی گھاٹ، وارانسی

منشی گھاٹ وارانسی میں دریائے گنگا کے بنے گھاٹوں میں سے ایک ہے۔ یہ ایک شاندار عمارت کے ایک حصے کے ساتھ 1912ء میں تعمیر ہوا۔ منشی گھاٹ کا نام ریاست ناگپور کے وزیر خزانہ شریدھارا ناراین منشی کے نام پر ہے۔ 1915ء میں دربھنگہ، بہار کے برہمن بادشاہ نے اس گھاٹ خریدا اور اس کی توسیع کی۔ اس کی توسیع کو اب دربھنگہ گھاٹ کہا جاتا ہے۔[11]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Rob Bowden (2003), The Ganges, ISBN 978-0-7398-6070-0, Heinemann
  2. Diana Eck, Banaras: CITY OF LIGHT, ISBN 978-0-691-02023-5, Princeton University Press
  3. Bansal 2008، صفحات۔ 34–35.
  4. "Ghats of Varanasi, 41 to 60"۔ National Informatics Centre۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 3 نومبر 2012۔
  5. "History"۔ Varanasi.org۔ اخذ شدہ بتاریخ Aug 2015۔ Check date values in: |accessdate= (معاونت)
  6. John McKim Malville and Rana P. B. Singh۔ "Time and the Ganga River at Asi Ghat, Pilgrimage and Ritual Landscape"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 20 دسمبر 2010۔
  7. ^ ا ب "Ganga Mahal Ghat"۔ Varanasi.nic.in۔ اخذ شدہ بتاریخ Sep 2015۔ Check date values in: |accessdate= (معاونت)
  8. ^ ا ب "Ghats of Varanasi"۔ Varanasi.org۔ اخذ شدہ بتاریخ Sep 2015۔ Check date values in: |accessdate= (معاونت)
  9. ^ ا ب "About Ghats"۔ kashiyana.com۔ اخذ شدہ بتاریخ Sep 2015۔ Check date values in: |accessdate= (معاونت)
  10. ^ ا ب "The Varanasi Heritage Dossier"۔ Wikiversity۔ اخذ شدہ بتاریخ Sep 2015۔ Check date values in: |accessdate= (معاونت)
  11. Proposing Varanasi for the World Heritage List of UNESCO (پی‌ڈی‌ایف)، Varanasi Development Authority

بیرونی روابط[ترمیم]