حیدرآباد، دکن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

'
حیدراباد بھارت کی ریاست تلنگانہ کا دارالحکومت اور صوبہ کا سب سے بڑا شہر ہے۔ جنوبی ہند کے سطح مرتفع دکن علاقہ دریائے موسی کے کنارے واقع اس شہر کا کل رقبہ 650 مربع کلو میٹر (250 مربع میل) ہے۔ سطح سمندر سے 542 میٹر 1778 فٹ) کی اونچائی پر واقع یہ شہر کئی پہاڑوں اور مصنوعی تالابوں سے مالا مال ہے۔ شہر کا مشہور حسین ساگر حیدراباد کی تاسیس سے بھی پرانا ہے۔ بھارت میں مردم شماری، 2011ء کے مطابق حیدراباد آبادی کے لحاظ سے چو تھا بڑا شہر ہے۔ اس کی کل آبادی 6.9 ملین نفر پر مشتمل ہے۔ اگر میٹروپولیٹن علاقہ کی بات کریں تو اس کی کل آبادی 9.7 ملین ہے اور اس لحاظ سے یہ بھارت کا چھٹا بڑا میٹروپولیٹن شہر ہے۔ اس کی معیشت کی کل مالیت 74 بلین امریکی ڈالر ہے اور اس لحاظ سے یہ بھارت کی پانچوں بڑی شہری معیشت ہے۔

1591ء میں محمد قلی قطب شاہ نے اپنے پایہ تخت کو گولکنڈہ کے باہر وسعت دی۔ گولکنڈہ ایک قلعہ بند شہر تھا۔ 1687ء میں مغلیہ سلطنت نے حیدراباد کو سلطنت مغلیہ کا حصہ بنا دیا۔ 1724ء میں مغل وائسرائے نظام الملک آصف جاہ اول نے مغل سلطنت سے بغاوت کی اور اپنی خود مختاری کا اعلان کردیا اور مملکت اصفیہ کی بنیاد ڈالی۔ مملکت آصفیہ کو نظام حیدرآباد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ 1769ء تا 1948ء حیدراباد مملکت آصفیہ کا پایہ تخت رہا۔ برطانوی دور میں قانون آزادی ہند 1947ء تک یہ نوابی ریاست برطانوی ریزیڈنسی، حیدرآباد کہلائی۔ 1948ء میں بھارت ڈومینین نے حیدراباد کو بھارت میں شامل کرلیا اور شہر حیدراباد ریاست حیدرآباد کا پایہ تخت بنا رہا۔ 1956ء میں صوبہ تشکیل نو ایکٹ، 1956ء کے تحت ایک نئے صوبہ آندھرا پردیش کا دارالحکومت بنا۔ 2014ء میں آندھرا پردیش کے دو حصے ہوئے اور تشکیل تیلنگانہ عمل میں آیا اور 2024ء تک حیدراباد کو مشترکہ طور پر دونوں صوبوں کا دار الحکومت بنایا گیا۔ 1956ء سے حیدراباد صدر بھارت کا موسم سرما کا دفتر رہا ہے۔ شہر میں قطب شاہی اور نظام شاہی سلطنتوں کے باقیات جا بجا ملتے ہیں۔ چار مینار حیدراباد کی پہچان ہے۔ عہد جدید کے اواخر میں جب مغل سلطنت زوال پزیر ہونے لگی تب نظام حیدراباد نے اپنا دور شباب دیکھا اور حیدراباد کو دنیا بھر میں ایک پہچان مل گئی۔ یہاں کی ثقافت، زیورات، ادب، مصوری، دکنی لہجہ اور ملبوسات اپنی انفرادیت کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہیں۔ حیدرآبادی پکوان کی وجہ سے یہ شہر یونیسکو کے سٹی آف گیسٹرانومی میں شامل ہے۔ شہر میں واقع تیلگو سنیما بھارت کا دوسرا بڑا سنیما ہے۔ 19ویں صدی تک حیدراباد دنیا بھر میں اپنے ہیروں کی وجہ سے مشہور تھا اور اسے “سٹی آف پلرس“ (ہیروں کا شہر) کہا جاتا تھا۔ دنیا بھر میں گولکنڈہ کے ہیروں کی تجارت ہوتی تھی۔ شہر کے کئی روایتی بازار اب بھی موجود ہیں۔ حیدراباد سطح مرتفع دكن اور مغربی گھاٹ کے درمیان میں واقع ہے اور اسی وجہ سے 20ویں صدی میں یہ تحقیق، تعمیر، تعلیم و ادب اور معیشت کا مرکز بن گیا اور یہاں کئی تعلیمی ادارے قائم ہوئے۔ 1990ء کی دہائی میں یہ شہر ادویات اور بایوٹیکنالوجی میں ترقی کرنے لگا اور یہاں خصوصی معیشتی علاقہ (ہائی ٹیک سٹی) ترقی پزیر ہوا جہاں کئی بین الاقوامی کمپنیاں اور صنعت موجود ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

مکان نامی[ترمیم]

حیدراباد کے معنی “حیدر کا شہر“ کے آتے ہیں۔ حیدر بمعنی شیراور آباد بمعنی شہر یا آبادی۔ حیدر دراصل خلیفہ راشد رابع علی ابن ابی طالب کا ایک نام ہے اور انہی کے نام پر اس شہر کا نام رکھا گیا ہے۔[1] پہلے اس شہر کا نام “باغ نگر“ (باغوں کا شہر) تھا جسے بعد میں حیدراباد کر دیا گیا۔[2][3] یورپی سیاح وون پوسر اور ثیونوٹ کے مطابق 17ویں صدی میں دونوں نام زیر استعمال تھے۔[4][5] ایک روایت کے مطابق شہر کے بانی محمد قلی قطب شاہ نے اس شہر کا نام بھاگ متی کے نام پر “بھاگیہ نگر“ رکھا۔ وہ ایک مشہور رقاصہ تھی۔ قلی قطب شاہ نے بھاگ متی سے شادی کرلی اور بھاگ متی نے اسلام قبول کر کے اپنا نام حیدر محل رکھ لیا۔ ان کے اعزاز میں یہ شہر حیدراباد کہلانے لگا۔[6]

ابتدائی تاریخ اور عہد وسطی[ترمیم]

A deccani style of painting of the last Qutb Shahi ruler Abul Hasan Qutb Shah
A 17th century Deccani School miniature of قطب شاہی سلطنت ruler ابو الحسن قطب شاہ with Sufi singers in the Mehfil-(“gathering to entertain or praise someone”)۔
Tomb of Abdullah Qutb Shah, the former ruler of Hyderabad
The گنبدان قطب شاہی at Ibrahim Bagh are the tombs of the seven Qutb Shahi rulers.

1851ء میں عہد نظام شاہی میں مضافات حیدرآباد میں فلپ میڈوز ٹیلر نے ماقبل تاریخ کے کچھ نصب کردہ پتھر دریافت کیے تھے۔ فلپ نظام شاہی سلطنت میں ایک پولیمیتھ تھے۔ فلپ نے ان پتھروں سے نتیجہ نکالا کہ یہ شہر سنگی دور سے آباد ہے۔[7][8] ماہرین آثار قدیمہ کو کھدائی کے دوران میں حیدرآباد کے نزدیک آہنی دور کے کچھ آثار ملے تھے جو تقریباً 500 عام زمانہ کے ہو سکتے ہیں۔[9] یہ پورا علاقہ اور جدید حیدراباد میں شامل ہے اور اور اس کے آس پاس 624ء تا 1075ء چالوکیہ خاندان کی حکومت تھی۔[10] 11ویں صدی میں چالوکیہ سلطنت چار ریاستوں میں منقسم ہو گئی اور گولکنڈہ کی ریاست کیکٹیا خاندان کے حصہ میں آئی۔ انہوں نے 1158ء میں گولکنڈہ کی حکومت سنبھالی اور ان کا پایہ تخت موجودہ حیدراباد سے 148 کلومیٹر (92 میل) شمال مشرق میں آباد وارنگل تھا۔[11] کیکٹیا کے راجا گنپتی دیوا نے پہاڑ کی چوٹی پر ایک قلعہ تعمیر کیا جسے اب قلعہ گولکنڈہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔[8]

1310ء میں دہلی سلطنت کے خلجی خاندان کے حکمران علا الدین خلجی نے کیکٹیا کو شکست دی اور ان کی حکومت محدود کردی۔ 1321ء میں علاءالدین کے سپہ سالار ملک کافور نے کیکٹیا حکومت کو دہلی سلطنت میں شامل کرلیا۔[12] اسی حملہ کے دوران میں خلجی کو مشہور کوہ نور ہاتھ لگا جسے وہ دہلی لے گیا۔ کوہ نور کو گولکنڈہ کے کلور کی کان سے نکالا گیا تھا۔[13] 1325ء میں دہلی سلطنت خلجییوں کے ہاتھوں سے نکل کر تغلق خاندان کے ہاتھ میں آگئی اور وارنگل کو دہلی سلطنت میں شامل کرلیا گیا۔ ملک مقبول تیلاغانی وارنگل کے جنرل مقرر ہوئے۔ 1333ء میں منصوری نایک نے سلطنت کے خلاف بغاوت کر دی اور وارنگل کو اپنی ماتحتی میں لے لیا اور اپنی ریاست کی دارالخلافت کو یہاں منتقل کردیا۔[14] اس کے بعد تغلق کے ایک گورنر علا الدین بہمن شاہ نے بھی دہلی سلطنت کے خلاف بغاوت کر دی اور سطح مرتفع دكن میں اپنی حکومت قائم کی اور موجودہ حیدرآباد سے 200 کلومیٹر (124 میل) مغرب میں واقع گلبرگہ کو دارالحکومت بنایا۔ وارانگل کے منصور اور گلبرگہ کے بہمنیوں کے درمیان میں 1364-65ء تک خوب جنگیں ہوئیں اور بالآخر ایک معاہدہ پر دستخط ہوئے اور منصوری نے گولکنڈہ کو بہمن کے حوالہ کردیا۔ بہمن کے گولکنڈہ پر 1518ء تک حکومت کی اور وہ دکن پر پہلے مسلم آزاد حکمران بن گئے۔[15][16][17] 1496ء میں قلی قطب الملک کو تیلنگانہ علاقہ کا نیا گورنر بنایا گیا۔ انہوں نے پرانے گولکنڈہ کی قلعہ بندی کی۔ شہر کے حصار کو بڑھایا اور نئی دیواریں بھی تعمیر کیں اور نئے شہر کا نام محمد نگر رکھا۔ 1518ء میں قلی قبط الملک بہمنی سلطنت کے خلاف بغاوت کر دی اور قطب شاہی سلطنت کی بنیاد ڈالی۔[11][18][19] قطب شاہی سلطنت کے 5ویں حکمران محمد قلی قطب شاہ نے گولکنڈہ میں پانی کی قلت کی وجہ سے[20] 1591ء میں موسی ندی کے کنارے حیدرآباد کو بسایا۔[21][22] قلی قطب شاہ نے اپنے دور حکومت میں چار مینار اور مکہ مسجد کو تعمیر کیا۔[23] 21 ستمبر 1687ء کو ایک سال تک گولکنڈہ کا محاصرہ کرنے کے بعد اسے فتح کرلیا۔[24][25] انہوں نے گولکنڈہ کو مغلیہ سلطنت کا ایک صوبہ قرار دیا اور حیدرآباد کو دارالجہاد کا نام دیا اور یہاں سے 550 کلومیٹر (342 میل) شمال مغرب میں واقع اورنگ آباد، مہاراشٹر کو گولکنڈہ کا دارالحکومت بنایا۔[26][27][28]

نگار خانہ[ترمیم]

ََ

مشاہیر[ترمیم]

مزید دیکھے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Everett-Heath، John (2005). Concise dictionary of world place names. اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس. صفحہ 223. ISBN 978-0-19-860537-9. 
  2. Petersen، Andrew (1996). Dictionary of Islamic architecture. روٹلیج. صفحہ 112. ISBN 978-0-415-06084-4. اخذ شدہ بتاریخ 28 جون 2021. 
  3. Holister، John Norman (1953). The Shia of India (PDF). Luzac and company limited. صفحات 120–125. 10 اکتوبر 2018 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 جولائی 2020. 
  4. Lach، Donald F؛ Kley، Edwin J. Van (1993). Asia in the Making of Europe. 3. University Of Chicago Press. صفحہ ?. ISBN 978-0-226-46768-9. 3 مارچ 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  5. Nanisetti، Serish (7 اکتوبر 2016). "The city of love: Hyderabad". دی ہندو. 7 دسمبر 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 9 اکتوبر 2016. 
  6. McCann، Michael W. (1994). Rights at work: pay equity reform and the politics of legal mobilization. University of Chicago Press. صفحہ 6. ISBN 978-0-226-55571-3. 
  7. "Prehistoric and megalithic cairns vanish from capital's landscape". The Times of India. 21 جولائی 2017. اخذ شدہ بتاریخ 19 ستمبر 2021. 
  8. ^ ا ب Yimene، Ababu Minda (2004). An African Indian community in Hyderabad. Cuvillier Verlag. صفحہ 2. ISBN 978-3-86537-206-2. اخذ شدہ بتاریخ 19 ستمبر 2021. 
  9. Venkateshwarlu، K. (10 ستمبر 2008). "Iron Age burial site discovered". دی ہندو. 10 نومبر 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 7 جون 2013. 
  10. Kolluru، Suryanarayana (1993). Inscriptions of the minor Chalukya dynasties of Andhra Pradesh. Mittal Publications. صفحہ 1. ISBN 978-81-7099-216-5. 
  11. ^ ا ب لوا خطا ماڈیول:Footnotes میں 290 سطر پر: attempt to call field 'has_accept_as_written' (a nil value)۔
  12. Khan، Iqtidar Alam (2008). Historical dictionary of medieval India. The Scarecrow Press. صفحات 85 and 141. ISBN 978-0-8108-5503-8. 
  13. Ghose، Archana Khare (29 فروری 2012). "Heritage Golconda diamond up for auction at Sotheby's". دی ٹائمز آف انڈیا. 10 مئی 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 1 مارچ 2012. 
  14. Majumdar، R. C. (1967). "Muhammad Bin Tughluq". The Delhi Sultanate. Bharatiya Vidya Bhavan. صفحات 61–89. اخذ شدہ بتاریخ 5 مارچ 2020. 
  15. Prasad, History of the Andhras 1988, صفحہ. 172.
  16. Sardar, Golconda through Time 2007, صفحہ. 20.
  17. Ghosh، Mainak (2020). Perception, Design and Ecology of the Built Environment: A Focus on the Global South. Springer Nature. صفحہ 504. ISBN 978-3-030-25879-5. اخذ شدہ بتاریخ 13 اکتوبر 2021. 
  18. Nayeem، M.A (28 مئی 2002). "Hyderabad through the ages". The Hindu. 4 جون 2009 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 18 دسمبر 2013. 
  19. Matsuo، Ara (22 نومبر 2005). "Golconda". جامعہ ٹوکیو. 13 جون 2013 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 18 دسمبر 2013. 
  20. Aleem، Shamim؛ Aleem، M. Aabdul، ویکی نویس (1984). Developments in administration under H.E.H. the Nizam VII. Osmania University Press. صفحہ 243. 16 دسمبر 2020 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 جون 2012. 
  21. Olson، James Stuart؛ Shadle، Robert (1996). Historical dictionary of the British empire. Greenwood Press. صفحہ 544. ISBN 978-0-313-27917-1. 
  22. "Opinion A Hyderabadi conundrum". 15 نومبر 2018. 15 نومبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 15 نومبر 2018. 
  23. Bansal، Sunita Pant (2005). Encyclopedia of India. Smriti Books. صفحہ 61. ISBN 978-81-87967-71-2. 
  24. Richards، J. F. (1975). "The Hyderabad Karnatik, 1687–1707". Modern Asian Studies. 9 (2): 241–260. doi:10.1017/S0026749X00004996. 
  25. Hansen، Waldemar (1972). The Peacock throne: the drama of Mogul India. Motilal Banarsidass. صفحات 168 and 471. ISBN 978-81-208-0225-4. 
  26. Ikram، S. M. (1964). "A century of political decline: 1707–1803". In Embree، Ainslie T. Muslim civilization in India. کولمبیا یونیورسٹی. ISBN 978-0-231-02580-5. 6 مارچ 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 8 اکتوبر 2011. 
  27. Nanisetti، Serish (13 دسمبر 2017). "Living Hyderabad: drum house on the hillock". The Hindu. 26 فروری 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 19 دسمبر 2017. 

بیرونی روابط[ترمیم]