ابو الحسن قطب شاہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ابو الحسن قطب شاہ
Abul Hasan Qutb Shah.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 8 اکتوبر 1600  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
حیدرآباد، دکن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1699 (98–99 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
دولت آباد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت QutbshahiFlag.PNG سلطنت قطب شاہی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
سلطان گولکنڈہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
21 اپریل 1672  – 17 ستمبر 1687 
دیگر معلومات
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

ابوالحسن قطب شاہ(تانا شاہ) جنوبی بھارت کی ریاست گولکنڈہ سلطنت کے قطب شاہی خاندان کے آٹھویں اور آخری حکمران تھے۔ تانا شاہ کا دور حکومت 1672سے لے کر 1686 تک تھا۔ ان کا اصل نام ابوالحسن تھا۔ تانا شاہ کا لقب ان کو ان کے استاد حضرت صوفی سید ریاض الدین ملتانی نے گولکنڈہ کا تخت نشین ہونے سے قبل دیا تھا۔ حضرت شاہ ریاض الدین کی نسبت سے ان کی لڑی خواجہ بندہ نواز سے آٹھویں پشت پر جا ملتی ہے۔ ابوالحسن کی آواز بہت اچھی تھی اور گاتے بھی اچھا تھے۔ اس پر متزاد حد درجہ معصومیت بھی تھی۔ اسی بنا پر شاہ راجو نے انہیں تانا شاہ کا لقب دیا جس کا مطلب ہے 'صوفی بچہ'۔ تانا شاہ کا ایک اور مطلب بھی ہے 'زبردست حکمران'۔ ان کو ایک مقبول سیاست دان کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے جو کسی دوسرے مذہب یا قوم سے امتیازی سلوک روا نہیں رکھتے تھے۔ اس نے برہمنوں کو اپنے وزراء اور جنرلوں کے طور پر بھرتی کیا۔ ہانامکنڈا سے دو بھائی مدانہ اور اکانہ اس کے اہم وزراء تھے۔ تانا شاہ نے تلیگو ادب میں مدانہ کے بھتیجے کنچرلا گوپانہ کی وجہ سے اہم مقام حاصل کیا۔ کنچرلا گوپانہ 'رامادسو' کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ تانا شاہ نے رامادسو کو پالوانچا تالک کے تحصیل دار (آمدنی سیکشن کا سربراہ) کے طور پر بھرتی کیا۔ رامادسو نے بھڈرا چلم کے رام مندر کی تعمیر اور رام، سیتا،لکشمن کے بتوں کے زیورات کے لیے عوامی فنڈ جمع کرنا شروع کر دیا۔ تانا شاہ نے عوامی فنڈ کے اس غلط استعمال پر رامادسو کو جیل میں ڈال دیا۔ بارہ سال بعد رامادسو اس وجہ سے رہا ہوا کہ تانا شاہ نے اس کو خواب میں رام کی تصویر والے سنہرے سکوں کے ساتھ دیکھا تھا۔ اس کے بعد تانا شاہ نے ہر بار رام نوامی تہوار پر بدراچلم کے مندر میں موتی بھیجنے کی روایت ڈالی جو اس کے جانشینوں نے بھی برقرار رکھی اور آج بھی تلنگا ریاست کی جانب سے جاری و ساری ہے۔ اس سے قبل تانا شاہ کے سسسر عبدالقدوس کو اورنگ زیب کی طرف سے شاہجہان کی بالادستی قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔ ان کی دوسری بیٹی(تانا شاہ کی بیوی کی چھوٹی بہن) کی شادی اورنگ زیب کے سب سے بڑے بیٹے سلطان محمد سے ہوئی تھی۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Narendra Luther Archives-Strange life of Tana Shah

بیرونی روابط[ترمیم]

ماقبل 
عبد اللہ قطب شاہ
سلطنت قطب شاہی
1518–1687
مابعد 
none