ریاست حیدرآباد (1948ء-1956ء)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ریاست حیدرآباد (1948ء-1956ء))
بھارت کی ریاستیں اور یونین علاقے
1948–1956
فائل:Hyderabad State reorganization 1956.png
1956 map of جنوبی ہند showing Hyderabad state in yellowish green. After the States reorganisation in 1956, regions west of the red and blue lines merged with ریاست بمبئی و Mysore State respectively and the remaining part (تلنگانہ) was merged with Andhra State to form آندھرا پردیش۔
رقبہ
 • متناسقات17°00′N 78°50′E / 17.000°N 78.833°E / 17.000; 78.833
تاریخ 
• Hyderabad State formed from ریاست حیدرآباد
1948
• Reorganized and renamed آندھرا پردیش
1956
ماقبل
مابعد
Hyderabad State
Andhra Pradesh (Combined)
Karnataka
Maharashtra
آج یہ اس کا حصہ ہے:تلنگانہ
مہاراشٹر
کرناٹک
States of India since 1947

ریاست حیدرآباد (انگریزی: Hyderabad State) آزاد بھارت کی ایک ریاست تھی جو 1948ء میں نوابی ریاست سے یونین کی ریاست بنی اور 1956ء میں اسے ختم کر دیا گیا۔[1] 1956ء میں حیدراباد ریاست کو ریاست آندھرا میں ضم کر دیا گیا اور نئی ریاست کا نام آندھرا پردیش رکھا گیا۔[2]

تاریخ[ترمیم]

ستمبر 1948ء کو حیدراباد میں حکومت ہند نے آپریشن پولو کے ذریعے پولس ایکشن کیا جس میں نوابی ریاست کو ختم کر کے ریاست حیدراباد کا نام دیا گیا اور اسے حکومت ہند میں شامل کر دیا گیا۔

ملٹری گورنر[ترمیم]

ریاست حیدراباد کے حکومت ہند میں شامل ہونے کے بعد آپریشن پولو کے سربراہ اور قائد میجر جنرل جے این چودھری کو ریاست کا ملرٹی جنرل نامزد کیا گیا جو دسمبر 1949ء تک اس عہدہ پر باقی رہے۔ ریاست کا ایک واقعہ 1952ء کا مولکھی احتجاج ہے جب مقامی لوگوں کو نظر انداز کر کے بیرونی لوگوں کو حکومت کی نوکری دی گئی۔

راج پرمکھ[ترمیم]

ریاست حیدراباد کے آخری نظام نواب میر عثمان علی خان 26 جنوری 1950ء تا 31 اکتوبر 1956ء ریاست کے راج پرمکھ رہے۔

پہلا نامزد وزیر اعلیٰ[ترمیم]

26 جنوری 1950ء کو ایم کے ویلوری کو ریاست کا پہلا وزیر اعلیٰ بنایا گیا۔ جبکہ نظام حیدراباد کو راج پرمکھ یا گورنر کا عہدہ دیا گیا۔

پہلا منتخب وزیر اعلیٰ[ترمیم]

1952ء میں ریاست میں پہلی دفعہ اسمبلی انتخابات ہوئے اور ڈاکٹر برگولا رام کرشنا راو وزیر اعلیٰ منتخب کیے گئے۔ انہی کے دور میں تلنگانہ کے کچھ لوگوں کو بڑا خونی احتجاج کیا۔ ان کی مانگ تھی کہ مدراس کے افسروں کو واپس کیا جائے اور 1919ء سے چلنے والے ملکی قوانین کو نافذ کیا جائے۔[3]

ریاست حیدراباد کے ضلعے[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Hyderabad had tried 'NRC' 71 years ago, and failed". 
  2. "States Reorganization Act 1956". Commonwealth Legal Information Institute. 16 مئی 2008 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 01 جولا‎ئی 2008. 
  3. "Mulki agitation in Hyderabad state". Hinduonnet.com. 26 اگست 2010 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 09 اکتوبر 2011.