علی خان آصف جاہ ثانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نواب میر نظام علی خان صدیقی بہادر آصف جاہ ثانی
Nawab Mir Nizam Ali Khan Siddiqi Asaf Jah II
ریاست حیدرآباد کا پانچواں نظام
Mir Nizam Ali Khan.jpg
معیاد عہدہ 1762–1803
پیشرو صلابت جنگ
جانشین میر اکبر علی خان سکندر جاہ، آصف جاہ سوم
خاندان آصف جاہی خاندان
والد آصف جاہ اول
والدہ عمدہ بیگم
پیدائش مارچ 7, 1734
ریاست حیدرآباد، مغلیہ ہندوستان
(اب بھارت)
وفات اگست 6، 1803(1803-80-60) (عمر  69 سال)
چومحلہ محل، حیدر آباد, ریاست حیدرآباد، مغلیہ ہندوستان
(اب تلنگانہ، بھارت)

نواب میر نظام علی خان صدیقی بہادر آصف جاہ ثانی (Nawab Mir Nizam Ali Khan Siddiqi Bahadur Asaf Jah II) جنوبی ہند کی ریاست حیدرآباد کا 1762ء سے 1803ء تک نظام تھا۔

پیدائش[ترمیم]

نواب نظام الملک آصف جاہ اول کی بیوی عمدہ بیگم کے بطن سے ایک بیٹا یکم شوال 1146ھ بمطابق 7 مارچ 1734ء کو عید الفطر کی شب پیدا ہوا۔ یہ بیٹا آصف جاہ اول کا چوتھا بیٹا تھا۔ صبح کو پیپری کے ایک پیرزادے سید حسین (جن کی ایک سو سال کی تھی) نواب کے پاس عید کی ملاقات کے سلسلے میں آئے۔ آصف جاہ اول نے ان سے کہا آپ کے قدم کی برکت سے آج ایک بنده زاده تولد ہوا ہے۔ آپ بزرگ ہیں قران مجید سے فال لے کر اپنی زبان مبارک سے اس کا نام رکھیں۔ پیر سید حسن نے فال نکالی تو مصحف میں حرف عین نکلا۔ اس وجہ سے پیرزادہ نے نام علی تجویز کیا۔ اس پر نظام الملک آصف جاہ اول نے اظہار پسندیدگی کر کے یہ کہا کہ اگر اس کے ساتھ ہمارے نام یا خطاب کا بھی کوئی جزو اضافہ کر دیا جائے تو مناسب ہو گا۔ چنانچہ اس کے بعد نظام على نام تجویز ہوا۔

تعلیم و تربیت[ترمیم]

حسب دستور رسم بسم اللہ خوانی کے بعد نظام علئ کی تعلیم کا آغاز ہوا اور اپنے والد محترم کے انتقال تک تعلیم حاصل کرتے رہے۔ نظام علی ابتدا ہی سے نہایت مستقل مزاج اور شیر دل واقع ہوئے تھے۔ اگرچہ آصف جاہ اول اپنے آخری عہد میں مہمات ملکی میں مصروف تھے لیکن اپنی اولاد کی تعلیم سے کبھی غافل نہیں رہے۔ نظام الملک کو جب کبھی موقع ملتا اپنے مصاحبین یا امرا میں سے کسی نہ کسی کو اپنے صاحب زادوں کی تعلیمی حالت دریافت کرنے کے لیے بھیج دیتے تھے۔ نظام علی خاں کی عربی و فارسی کی تعلیم کے لیے مولوی شیخ محمد جمیل مامور تھے۔ ترکی زبان کی تعلیم کے لیے خوش حال بیگ مقرر تھے۔ اس کے علاوہ نظام علی نے شیخ محمد جعفر سے خطاطی کی مشق بھی سیکھی۔ اس وجہ سے خط نستعلیق میں کامل مہارت حاصل تھی۔ تمام تعلیم نظام الملک آصف جاہ اول کی زندگی میں ہی مکمل کر لیے تھے اور والد کی زندگی میں ہی خان بہادر اور اسد جنگ وغیرہ کے خطابات دربار دہلی سے حاصل کر چکے تھے۔

صلابت جنگ کے عہد میں[ترمیم]

نظام علی خاں صلابت جنگ کے عہد میں کافی عرصے تک برار کے صوبیدار رہے۔ 1170ھ میں مرہٹوں نے حیدرآباد پر حملہ کر دیا تو نواب صلابت جنگ نے مرہٹوں کی سرکوبی کے لیے برار سے نظام علی کو طلب کیا اور فوج دے کر مرہٹوں کی سرکوبی کے لیے روانہ کیا جس میں اس نے نمایاں کامیابی حاصل کی. کچھ عرصہ بعد صلابت جنگ نے محسوس کیا کہ نظام علی خاں کی امداد کے بغیر ان نازک حالات میں سلطنت کے انتظامات چلانا مشکل ہے تو انھوں نے کل انتظام مالی و ملکی نظام علی خاں کے سپرد کر دیا اور ان کو اپنا وزیر اعظم بنا لیا۔ نظام علی خان کی موجودگی سلطنت کے دشمنوں کے حق میں زہر قاتل سے کم نہ تھی اور چونکہ نواب صلابت جنگ کی متزلزل طبیعت پر سلطنت کے بدخواہوں کو پورا قابو حاصل تھا اس لیے انھوں نے نواب صلابت جنگ بہادر کو پٹی پڑھا کر اس بات پر آمادہ کر دیا کہ آصف جاہ ثانی کو وزارت سے علیدہ کر دیں۔ چنانچہ ان کو وزارت سے علاحدہ کر کے بیس ہزار روپے ماہوار سے حیدرآباد کی صوبیداری پر مامور کر دیا گیا۔ جب اہل ملک کو یہ حکم معلوم ہوا کہ نظام علی کو وزارت سے ہٹا کر صوبیدار بنا دیا گیا ہے تو تمام ملک اور خصوصا فوج میں اس حکم کی اشاعت ہوئی تو اس میں بے چینی پیدا ہو گئی۔ فوجی حکام نے کہنا شروع کر دیا جس طرح صلابت جنگ نظام الملک کے صاحب زادے ہیں اسی طرح نظام علی خاں بھی ایک صاحب زادے ہیں۔ جب نظام علی خان کو ان حالات کا پتا چلا تو اس نے بڑی حکمت عملی سے اس بھڑکتی ہوئی آگ کو ٹھنڈا کر دیا اور لوگوں کو راضی کیا کہ بادشاہ کا حکم ماننا چا ہیے۔

تخت نشینی[ترمیم]

جب نظام علی خان کو وزیر اعظم کے عہدے سے ہٹایا گیا تو حالات بہت خراب ہو گئے تھے۔ نظام نے اپنی حکمت عملی سے حالات پر قابو پانے کی کوشش کی لیکن حالات قابو سے باہر ہو گئے۔ سلطنت کا امن خطرے میں پڑ گیا اور خود نواب صلابت جنگ کی کمزور طبیعت کی وجہ سے ملک میں ہر طرف فتنہ و فساد کے انتشار پیدا ہونے لگے۔ سلطنت آصفیہ کے امرا اور خیر خواہن سلطنت نے نواب میرنظام علی خان بہادر سے استدعا کی کہ ملک کا انتظام اس وقت تک درست نہیں ہو سکے گا جب تک نظام علی سلطنت کے اختیارات اپنے ہاتھوں میں نہ لیں۔ اس لیے بہ تقاضائے وقت نواب صلابت جنگ کو 14 ذی الحجہ 1175ھ کو قلعہ بیدر میں گوشہ نشیں کر دیا گیا اور اسی تاریخ کو نظام علی مسند حکومت پر جلوہ آرا ہوئے اور سلطنت کی باگ ہاتھ میں لی۔ نظام علی خان نے اپنے لیے آصف جاہ ثانی کا لقب اختیار کیا اور پرتاب وندر ٹھل داس کو اپنا دیوان مقرر کیا۔


ملکی حالت[ترمیم]

میر نظام علی خان کی مسند نشینی کے وقت تمام ہندوستان میں طوائف الملوکی پھیلی ہوئی تھی. مغلیہ حکومت انحطاط کے عالم میں تھی۔ وہ اکبری شوکت اور عالمگیری سطوت رخصت ہو چکی تھی۔ مغل شاہنشاہیت صرف برائے نام باقی رہ گئی تھی۔ مرہٹوں کی قوت تمام ہندوستان میں محسوس ہو رہی تھی۔ اگر کوئی طاقت ان کی مد مقابل تھی تو وہ سرکار آصفیہ تھی۔ یورپ کی دو قومیں (انگریز اور فرانسیی) ہندوستان میں اپنی عملداری قائم کرنا چاہتی تھیں اور مختلف رائیسوں کو اپنے ساتھ لے کر کرناٹک میں با هم خونخوار لڑائیاں لڑا رہی تھیں۔ میسور میں حیدر علی سرنگا پٹم کی قدیم سلطنت کا خاتمہ کر کے بادشاہ بن بیٹھا اور انگریزوں سے اس کی لڑائیاں ہو رہی تھیں۔ اس طرح یہ زمانہ مرہٹوں، حیدر علی، ٹیپو سلطان، نیز انگریزوں اور فرانسیسیوں کے جنگ و جدال کا تھا۔ آصف جاہ ثانی نے ان حالات کا ہمت و استقلال سے مقابلہ کیا اور جاہ و جلال میں فرق نہ آنے دیا۔ آپ کو اپنی سلطنت کی بقا و سلامتی کا بڑا خیال تھا آپ کے زمانے میں ملک کا انتظام بہت عمدہ اور مضبوط تھا۔ رعایا خوش اور ملک آباد تھا۔علم و ہنر کی کافی ترقی ہو رہی تھی۔ اس عہد سے سرکار انگریزی کے ساتھ روابط دوستی و اخلاص کی بنیاد قائم ہوئی اور انگریزی فوج نے افواج آصفی کی شرکت و اعانت سے بڑی فتوحات حاصل کیں۔ ان کے دور میں بجائے اورنگ آباد کے حیدرآباد کو سلطنت کا پایہ تخت قرار دیا گیا اور یہاں کئی عالیشان محل بنوائے گئے۔

مرہٹوں سے تعلقات[ترمیم]

نواب صلابت جنگ کے عہد میں مرہٹوں سے کئی لڑائیاں ہوئی۔ اودگیر کے مقام پر 15 جنوری 1760ء کو بڑی لڑائی ہوئی جس کو جنگ اودگیر کہتے ہیں۔ اس جنگ میں مرہٹوں کے دو لاکھ سوار تھے اور اس کے برخلاف حیدرآباد کی فوج صرف سات ہزار سے زیادہ تھی۔ اس جنگ کا نتیجہ یہ ہوا کہ حیدرآباد کو شکست اٹھانی پڑی اور مرہٹوں کی شرائط پر صلح ہوئی۔ اس صلح کی رو سے مرہٹوں کو مفت کی جاگیریں اور علاقے دیے گئے۔ چنانچہ ستاره، نصف صوبہ بیدر، بیجاپور، قلعہ دولت آباد اور قلعہ اسیر بھی حوالے کرنے پڑے۔ اس وقت نواب میر نظام علی خان بہادر نے مصلحت کے لحاظ سے خاموشی اختیار کی لیکن اس کا جذبہ انتقام ان کے دل میں ہمیشہ موجزن رہا۔ چنانچہ 1761ء میں پانی پت کی جنگ کی وجہ سے مرہٹوں کا پانسا پلٹ گیا اور یہ ایسے کمزور ہو گئے کہ پھر نہ ابھر سکے. پونا میں مادعو راؤ پیشوا اور اس کے چچا رگھوناتھ راو میں پھوٹ پڑ گئی۔ امرا اور ارکان سلطنت کے بھی دو گروہ ہو گئے۔ چنان مادھوراؤ اور اس کے طرفداروں نے چاہا کہ رگھوناتھ راؤ کو قید کر لیں۔ رگوناتھ راؤ یہ خبر سن کر اورنگ آباد آگیا۔ اس زمانے میں آصف جاہ ثانی سلطنت کے نواب تھے۔ جب رگوناتھ راؤ نے ان سے مدد طلب کی تو اس نے وہاں کی جانشینی کے جھگڑوں میں حصہ لے کر رگھوناتھ راؤ کے ایک طرفدار کی حیثیت سے پونا پر چڑھائی کی اور اس پر قبضہ کر لیا۔ ادھر مونکر دریا ایکواڈ کی متحده فوجوں نے نواب میر نظام علی خان بہادر کی فوج جرار کا مقابلہ تو نہیں کیا لیکن بجائے مقابلے کے حیدرآباد اور اورنگ آباد پر کئی حملے ہوئے، مگر یہاں بھی انہیں نقصان کے ساتھ پسپا ہونا پڑا۔ اس لیے کہ مرمٹوں کے اورنگ آباد پر حملہ کرنے سے پہلے ہی آصف جاہ ثانی حیدرآباد پہنچ چکے تھے۔ رگھوناتھ راؤ نے اس کمک و اعانت کے معاوضے میں پیاس لاکھ کا ملک اور قلعہ دولت آباد وغيره میر نظام علی کے نذر کیا۔

میسور کی تیسری لڑائی[ترمیم]

نواب حیدر علی جو میسوری فوج کے سپہ سالار تھے اس نے وہاں کے راجا کو قید کر کے خود بادشاہ ہو گیا تھا۔ نواب حیدر علی آصف جاہ ثانی کو اپنا دوست بنایا ہوا تھا۔ ایک ملاقات کے سلسلے میں حیدر علی نے آصف جاہ ثانی کو اشرفیوں کے چبوترے پر بیٹھایا اور جواہر کے خوان، دو ہاتھی اور تین توپیں نذر کی تھیں۔ جس کے صلے میں حیدر علی کو دولتِ آصفیہ سے خطابات بھی ملے تھے۔ حیدر علی کے انتقال پر ان کے قابل فخر سپوت فتح علی ٹیپو سلطان جانشین ہو ئے۔ انھوں نے اپنی سلطنت کا عمدہ انتظام کر کے اس کو کشادہ کرنا چاہا۔ چنانچہ انگریز مقبوضات تبخور، کرناٹک اور مدراس وغیرہ کو تہ تیغ کر کے آگ لگا کر خاک سیاه کر دیا۔ جس میں گوروں کو اسیر کر لیا گیا۔ یہ حال دیکھ کر انگریز سنحت پریشان ہوئے اور ٹیپو سلطان کو نیچا دکھانے کی تدبیریں سوچنے لگے۔ چنانچہ انگریزوں نے محمد علی خاں والا جاه نواب کرناٹک باج گزار حضور نظام کے ذریعے آصف جاہ ثانی کو اپنا دوست بنا کر ٹیپو سلطان کے مقابلے میں جنگ کرنے کے لیے اس شرط پر آمادہ کر لیا کہ فتح کے بعد دشمن کے ملک سے انھیں برابر کا حصہ دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی انگریزوں نے مرہٹوں سے بھی مدد مانگی جو مال غنیمت کی لالچ میں خوشی کے ساتھ آمادہ جنگ ہو گئے۔ اس انتظام کے بعد انگریزوں نے 1791ء میں میسور پر حملہ کر دیا ۔ آصف جاہ ثانی کی طرف سے نواب سکندر جاہ بہادر اور وزیر میر عالم بہادر افواج لے کر روانہ ہوئے۔ آصفی فوجوں نے میسوری فوجوں کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کیا اور نواب سکندر جاہ بہادر نے بڑی بہادری اور ہوشیاری سے میسور کے صدر مقام سرنگا پٹم پر قبضہ کر لیا۔ دوسری طرف انگریزوں نے بھی ٹیپو سلطان کے چند قلعے حاصل کرلیے۔ لیکن مرہٹوں نے جنگ نہیں کی۔ یہ صرف اس انتظار میں تھے کہ میدان کس کے ہا تھ رہتا ہے؟ آخر کار تنگ آ کر ٹیپو سلطان نے اپنے کچھ علاقے اور تاوان جنگ دے کران اتحادیوں سے صلح کرلی۔ اس کامیابی پر انگریزی گورنر جنرل لارڈ کار نوالس نے جیتے ہوئے علاقوں میں سے بموجب اقرار نامہ گروم کنڈہ، گوٹی، کڑپہ وغیرہ اور ایک کروڑ روپیہ نقد سرکار نظام کو دیا۔

جنگ کھڑلہ[ترمیم]

میسور کی تیسری لڑائی جو 1791ء میں ہوئی اس کے بعد لاڑد کارنوالس انگلینڈ چلے گئے اوراس کا جانشین سرجان شور گورنر جنرل بن کر ہندوستان آیا۔ اس کے خیالات سابق گورنرجنرل سے بالکل جداگانہ تھے۔ اس نے دیسی ریاستوں کے معاملات میں دخل دینے اور ان کا ساتھ دینے سے بالکل ہی انکار کر دیا۔ جب ملک میں عام طور گورنر جنرل کی اس پالیسی کا علم ہو گیا تو سرجان شور کے خیالات سے فائدہ اٹھا کر مرہٹوں نے اپنی پہلی شکست کا بدلہ لینے کے لیے آصفی سلطنت پر حملہ کر دیا۔ مہاراجا سندھیا، ہولکر اور وائی ناگپور بھونسلہ بھی مرہٹوں کے ساتھ تھے اوران کی متحدہ فوج کی تعداد ایک لاکھ تھی۔ نواب آصف جاہ ثانی کو بموجب عہدنامہ انگریزوں کی امداد کا بھروسا تھا لیکن سرجان شور نے ان حالات میں اپنے دوست نظام علی خان کی مدد کرنے سے صاف انکارکردیا۔ اس کی وجہ سے سرکار آصفیہ انگریزوں سے سخت ناراض ہو گئی۔ آصفیہ سلطنت کے حکام نے فرانسیسی جرنیل موسیوریمو کو فوج بڑھانے کے لیے حکم دیا چنانچہ فرانسیسی جرنیل پندرہ ہزار فرانسیسی فوج کے ساتھ مرہٹوں کے مقابلے کے لیے تیار ہو گیا۔ کرولا عرف کھڑلہ کے مقام پر مرہٹوں اور آصفی فوجوں کا مقابلہ ہوا۔ آصفی فوج نے مرہٹوں کی متحدہ فوج کا دل کھول کر مقابلہ کیا اور طرفین کے بہت سے آدمی مارے۔ بائیس دن تک لڑائی ہوتی رہی۔ قریب تھا کہ مرہٹوں کو شکست فاش ہوتی لیکن مرہٹوں نے حضور نظام کے بعض نمک حرام امیروں میں سات لاکھ روپے تقسیم کر کے انہیں اپنا طرفدار بنا لیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ بے وفا امیر موقع پر جنگ سے علیدہ رہے جس کی وجہ سے میر نظام کو شکست اٹھانا پڑی۔ آصفیہ سلطنت اور مرہٹوں کے درمیان صلح ہوئی جس میں شرائط مرہٹوں کی طرف سے دی گئی۔ اس کی رو سے شولا پور، احمد نگر اور تین کروڑ روپے دینے پڑے جو اس وقت ایک کروڑ نقد دیے گئے اور باقی رقم کی ادائیگی کے لیے ارسطو جاہ بہادر کو بطور یرغمال حوالے کرنا پڑا۔ اس شکست سے آصف جاہ ثانی انگریزوں سے ناراض ہو گئے اورانگریز رزیذنٹ کو لکھا کہتم نے جو دو پلٹنین حیدرآباد میں میری مدد کے لیے چھوڑی ہیں مجھے ان کی ضرورت نہیں ہے لہذا ہٹا لی جائیں۔ اس طریقے سے انگریزوں سے تعلقات منقطع ہو گئے اور فرانسیسیوں سے بڑھنے لگے۔ حیدرآباد کے علاوہ ہندوستان کے اکثر درباروں میں فرانسیسیوں کا بڑا رسوخ تھا۔ حیدرآباد میں فرانسیسی جرنیل موسیوریموں (موسی رحموں) تھا۔ اس نے آصف جاہ ثانی کے حکم کے مطابق بہت سے فرانسیسی سیاہی نوکر رکھے اور فرانسیسی فوج کی تنظیم کی ۔

انگریز حکام کے ساتھ تعلقات[ترمیم]

سرحان شور کا طرز عمل ہندوستان میں کچھ زیاد مفید ثابت نہ ہوا۔ اس لیے بہت جلد ان کو انگستان واپس ہونا پڑا اور ان کی جگہ ولزلی گورنر جنرل بنا کر ہندوستان آیا۔ ہندوستان آنے کے بعد ولزلی کو بہت جلد معلوم ہو گیا کہ ایک طرف حضور نظام انگریزوں سے برہم ہے تو دوسری طرف ٹیپوسلطان بھی اپنی پہلی شکست کا بدلہ لینے کے لیے تیار ہے اس لیے ولزلی نے یہ طے کیا کہ کسی طرح ہندوستانی ریاستوں کو اپنے قابو میں لائے اور فرانسیسیوں کو ہندوستان سے باہرنکال دے تاکہ انگریز ہر جگہ حاوی ہو جائیں۔ چنانچہ اس نے آتے ہی عہد معاونت (سب سی ڈیاری سسٹم) کی پالیسی جاری کرائی اوراس مقصد کے لیے گورنرجنرل ولزلی نے دربار حیدرآباد سے بھی مراسلت کی۔ چنانچہ میجرکرک پیاٹرک کو رزیڈنٹ بناکر حیدرآباد بھیجا گیا۔ انگریزوں کے ساتھ نظام آصف جاہ ثانی کے برابری اور دوستی کے تعلقات تھے۔ کرک پیاٹرک نے آتے ہی عظیم الامراء ارسطو جاہ کے توسط سے حضور نظام کے دل کو موہ لیا اور چشمت جنگ کا خطاب پایا۔ اس نے نواب میر نظام علی خان کوا نگریزوں کے ساتھ دوستی پر راضی کر کے عہد نامہ لکھوایا جس کی خاص شرائط یہ تھیں۔

  1. ریاست میں سوائے انگریزوں کے اورکسی کو ملازم نہیں رکھا جائے گا۔
  2. رزیڈنٹ کا تقرر ہو گا۔
  3. ریاست کی حفاظت کے لیے انگریزی فوج رکھی جائے گی جس کے اخراجات ریاست برداشت کرے گی۔
  4. ریاست کی اندرونی و بیرونی حفاظت انگریز کمپنی کے ذمہ ہوگی۔
  5. ریاست پڑوس کی ریاستوں سے بے تعلق رہے گی۔
  6. ریاست میں پڑوس کی ریاستوں سے یا کسی وجہ سے (مرہٹوں سے) نزاع ہو تو کمپنی ثالث ہو گی۔

چونکہ حضور غلام امن پسند تھے اورکسی غیر کے علاقے پر غاصبانہ قبضہ کر کے اپنے حدود کو بڑھانا نہیں چاہتے تھے اس لیے اس عہد معاونت کو قبول کر لیا حبس کے اثر سے فرانسیسی قوم دکن سے بالکل بے دخل کر دی گئی۔ حضور نظام سے انگریزوں کا اتحاد انگریزوں کی آیندہ ترقی کا بہت بڑا پیش خیمہ تھا۔

میسور کی چوتھی لڑائی[ترمیم]

انگریز ٹیپو سلطان سے بہت خائف تھے۔ اس کی بیخ کنی چاہتے تھے۔ یہ کارروائی اس طرح شروع ہوئی کہ لارڈ ولزلی گورنر جنرل نے پہلے عہد نامہ معاونت ٹیپو سلطان کے پاس بھیجا مگر ٹیپو سلطان نے اس کو رد کر دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ٹیپو سلطان اور انگریزوں میں جنگ چھڑ گئی۔ تازہ عہد نامے کی رو سے حضور نظام انگریزوں کے طرفدار ہو گئے۔ میر نظام نے پہلے ٹیپو سلطان کو مصالحت کا دوستانہ مشورہ دیا مگر جب اس نے ایک نہ سنی تو مجبوراً حضور نظام کو انگریزوں کا ساتھ دینا پڑا۔ گورنرجنرل ولزلی کی درخواست پرمرہٹوں نے بھی انگریزوں کا ساتھ دیا مگر عملی امداد نہیں کی۔ متحدین نے چاروں طرف سے میسور پر حملے شروع کر دیے۔ نواب سکندر اور میر عالم سرکار نظام کی طرف سے ساڑھے بیالیس ہزار فوج کے ساتھ اس مہم کے لیے روانہ کیے گئے تھے۔ اس رن میں بہادر ٹیپوسلطان لڑتے لڑتے شہید ہو گئے اورسلطنت خداداد میسور کا خاتمہ ہو گیا۔ انگریز حکام نے سرنگا پٹم کی پرانی سلطنت کو زندہ کیا اور کرشنا راجا کو جو قدیم راجگان سرنگا پٹم کی اولاد میں سے تھا تخت نشین کیا اور اس کی حکومت اپنی نگرانی میں لے لی۔ جنگ ختم ہونے کے بعد میر نظام کو امداد کے معاوضے میں میسور کے وہ علاقے دیے گئے جو سلطنت آصفیہ سے ملحق تھے اور ان کی آمدنی ساڑھے سات لاکھ روپے تھی۔

وفات[ترمیم]

نواب نظام علی خان آصف جاہ ثانی نے بیالیس سال نہایت عزت و شان کے ساتھ حکومت کی لیکن بوجہ پیرانہ سالی کچھ عرصے سے ان کی صحت جواب دے چکی تھی۔ اسی دوران میں ہی فالج جیسی جان لیوا بیماری کا حملہ ہو گیا۔ آخر کار اسی مرض میں 17 ربیع الاول 1218ھ بمطابق 16 اگست 1803 کو وفات پائی۔ اس وقت عمر تقریباً 70 سال تھی۔ جسد خاکی کی تدفین مکہ مسجد میں اپنی والدہ ماجدہ کے بائیں پہلو میں ہوئی۔

اولاد[ترمیم]

نواب نظام علی خان آصف جاہ ثانی کی اولاد آٹھ صاحبزادے اور بارہ صاحبزادیوں پر مشتمل تھی۔

بیٹے[ترمیم]

  1. صاحبزادہ میر احمد علی خان
  2. صاحبزادہ میر اکبر علی خان (آصف جاہ سوم)
  3. صاحبزادہ میر سبحان علی خان
  4. صاحبزادہ میر ذو الفقار علی خان
  5. صاحبزادہ میر جمشید علی خان
  6. صاحبزادہ میر تیمور علی خان
  7. صاحبزادہ میر جہانگیر علی خان
  8. صاحبزادہ میر جہاندار علی خان

بیٹیاں[ترمیم]

  1. صاحبزادی بدری بیگم
  2. صاحبزادی منجھلی بیگم
  3. صاحبزادی نقشبندی بیگم
  4. صاحبزادی ریاض النساء بیگم
  5. صاحبزادی فخر النساء بیگم
  6. صاحبزادی فرحت النساء بیگم
  7. صاحبزادی ساجدہ بیگم
  8. صاحبزادی جہاں آرا بیگم
  9. صاحبزادی سلیمہ بانو بیگم
  10. صاحبزادی کابی بیگم
  11. صاحبزادی میر النساء بیگم
  12. صاحبزادی بشیر النساء بیگم [1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نواب میر نظام علی خان آصف جاہ ثانی از سید مراد علی طالع صفحہ 7 تا 26