مندرجات کا رخ کریں

شاہی سلسلہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
عثمانی شاہی خاندان کے سلطان سلیمان اعظم

سلسلۂ سلاطین یا حکمران خاندان یا راج وَنش[1] یا جسے اردو میں عموماً صرف خاندان (dynasty) بھی کہا جاتا ہے، حکمرانوں کی ایسی متواتر لڑی کو کہا جاتا ہے جو ایک ہی کنبہ سے تعلق رکھتے ہوں۔[2] یہ اصطلاح عموماً ملوکیت کے نظام کے لیے استعمال ہوتی ہے، تاہم بعض اوقات جمہوری نظاموں میں بھی رائج ہوتی ہے۔ ایک راج کرنے والے گھرانے کو بعض اوقات ”خانوادہ“، ”شاہی خاندان“ یا ”گھرانا“ بھی کہا جاتا ہے۔

تاریخ دان کئی ریاستوں اور تہذیبوں، مثلاً رومی سلطنت (27 ق م – 1453ء)، شاہی ایران (678 ق م – 1979ء)، قدیم مصر (3100–30 ق م) اور قدیم و شاہی چین (2070 ق م – 1912ء) کی تاریخوں کو جانشینی کے ایسے ہی سلسلوں یعنی سلسلہ ہائے سلاطین کی بنیاد پر تقسیم کرتے ہیں۔ اس طرح اصطلاح ”حاکم خانوادہ“ اُس دور کے تعین کے لیے بھی استعمال کی جا سکتی ہے جس میں کوئی مخصوص خاندان حکومت کرتا رہا۔

اٹھارھویں صدی سے پہلے دنیا کی زیادہ تر حاکم خاندانوں کا حساب پدری نسب کے لحاظ سے رکھا جاتا تھا جیسا کہ فرنگی قوم کے سیلک قانون کے تحت۔ جہاں خواتین کے ذریعے جانشینی کی اجازت تھی، وہاں بیٹی کی حکومت اکثر اس کے شوہر کے خاندانی نام کے تحت ایک نئے حکمران یا حاکم خاندان کی بنیاد رکھتی تھی۔ بعد ازاں یورپ کی موجودہ بادشاہتوں میں اس روایت میں تبدیلی آئی اور اب قانونی طور پر خواتین کے ذریعے بھی خاندانی یا سلطنتی نام برقرار رہتا ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. اردو لغت تاریخی اصول پر (پہلا ایڈیشن)۔ کراچی: ترقی اردو بورڈ۔ ج 10۔ 1990۔ ص 376
  2. English Dictionary, 1st ed. "dynasty, n." Oxford University Press (Oxford), 1897.