جگمے کھیسر نامگیال وانگچوک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جگمے کھیسر نامگیال وانگچوک
(تبتی میں: འཇིགས་མེད་གེ་སར་རྣམ་རྒྱལ་དབང་ཕྱུག་ خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
King Jigme Khesar Namgyel Wangchuck.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 21 فروری 1980 (38 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کھٹمنڈو[2][3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Bhutan.svg بھوٹان[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب بدھ مت
زوجہ جیتسن پیما (2011–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
خاندان آل وانگچوک  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
بادشاہ بھوٹان   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
آغاز منصب
14 دسمبر 2006 
دیگر معلومات
مادر علمی میگڈالن کالج،
جامعہ اوکسفرڈ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مؤثر گوتم بدھ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مؤثر (P737) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
Jigme Khesar Namgyel Wangchuck signature.svg 

جگمے کھیسر نامگیال وانگچوک (زونگکھا: འཇིགས་མེད་གེ་སར་རྣམ་རྒྱལ་དབང་ཕྱུག་[5]) سلطنت بھوٹان کے پانچویں بادشاہ یا ڈریگن بادشاہ (دروک گیالپو) ہیں۔[6] انہوں نے بھارت اور برطانیہ میں تعلیم حاصل کی اور وہ سنہ 2006ء میں اپنے والد کی بادشاہت سے علاحدگی کے بعد ملک کے بادشاہ بنے۔ ان کا شمار دنیا کے کم ترین بادشاہوں میں کیا جاتا ہے۔ سنہ 2006ء میں بھوٹان میں آئینی بادشاہت قائم ہونے کے بعد ان کے والد نے اپنے بادشاہ کے اختیارات چھوڑ دیے تھے اور ملک کو پارلیمانی طرز کی جمہوریت کی طرح بنانے کے لیے آئینی مسودہ بنانے بنانے کا حکم دیا تھا۔ اور یوں جگمے کھیسر سنہ 2008ء میں بھوٹان کے پہلے آئینی بادشاہ بنے تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.nndb.com/lists/515/000063326/
  2. https://web.archive.org/web/20160602115751/http://www.telegraphnepal.com/headline/2010-04-30/i-was-born-in-nepal%3A-hm-the-king-of-bhutan — اخذ شدہ بتاریخ: 8 مئی 2016 — سے آرکائیو اصل فی 2 جون 2016 — شائع شدہ از: 30 اپریل 2010
  3. http://archive.is/2017.06.04-212258/http://admin.myrepublica.com/society/story/22840/bhutanese-king-keen-to-visit-nepal.html — اخذ شدہ بتاریخ: 4 جون 2017 — سے آرکائیو اصل فی 4 جون 2017 — شائع شدہ از: 16 جون 2015
  4. http://www.bbc.co.uk/news/world-south-asia-15285121
  5. "A Legacy of Two Kings"۔ Bhutan Department of Information Technology۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 نومبر 2008۔ 
  6. Biswajyoti Das (18 دسمبر 2006)۔ "Bhutan's new king committed to democracy"۔ واشنگٹن پوسٹ۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 نومبر 2008۔