میانمار

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


Pyidaungzu Myanmar Naingngandaw
میانمار/برما
میانمار کا پرچم میانمار کا قومی نشان
پرچم قومی نشان
شعار: ندارد
ترانہ: دنیا کے خاتمے تک اے برما
میانمار کا محل وقوع
دارالحکومت نیپیداو
عظیم ترین شہر رنگون
دفتری زبان(یں) برمی
نظامِ حکومت
صدر/چئرمین
وزیرِ اعظم
فوجی جنتا
تھان شوی
تھین سن
آزادی
- تاریخِ آزادی
برطانیہ سے
4 جنوری 1948ء
رقبہ
 - کل
 
 - پانی (%)
 
676578  مربع کلومیٹر (40)
261228 مربع میل
3.06
آبادی
 - تخمینہ:2007ء
 - 1983 مردم شماری
 - کثافتِ آبادی
 
48,798,000 (24)
33234000
75 فی مربع کلومیٹر(126)
194 فی مربع میل
خام ملکی پیداوار
     (م۔ق۔خ۔)

 - مجموعی
 - فی کس
تخمینہ: 2007ء

91.13 ارب بین الاقوامی ڈالر (64 واں)
1900 بین الاقوامی ڈالر (145 واں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ
   (تخمینہ: 2007ء)
0.583
(132) – متوسط
سکہ رائج الوقت کیات (MMK)
منطقۂ وقت
 - عمومی
۔ موسمِ گرما (د۔ب۔و)

(یو۔ٹی۔سی۔ 6.5)
غیر مستعمل (یو۔ٹی۔سی۔ 6.5)
ملکی اسمِ ساحہ
    (انٹرنیٹ)
.mm
رمزِ بعید تکلم
  (کالنگ کوڈ)
+95

برما یا میانمار (سنیےi/ˈbɜrmə/ BUR-mə)، سرکاری طور پر میانمار کی یونین کی جمہوریہ اور عام طور پر مختصر میانمار (سنیےi/miɑːnˈmɑr/ mee-ahn-MAR،[1] /miˈɛnmɑr/ mee-EN-mar یا /mˈænmɑr/ my-AN-mar (سب سے پہلے حرف پر زور کے ساتھ بھی); برمی تلفظ: [mjəmà][nb 1][2][3][4][5] ایک خود مختار ریاست ہے جو جنوب مشرقی ایشیا کی سرحد بنگلہ دیش، بھارت، چین، لاؤس اور تھائی لینڈ کے ساتھ واقع ہے۔ ایک تہائی برما کا کل محیط جو 1,930 کلو میٹر (1,200 میل) ہے جو خلیج بنگال اور بحیرہ انڈمان کے ساتھ ساتھ ایک بلاتعطل ساحل بناتا ہے۔ برما کی 2014 مردم شماری میں انکشاف ہوا کہ برما کی آبادی توقع سے بہت کم ہے جو صرف 51 ملین ہے۔[6] برما 676,578 مربع کلو میٹر (261,227 مربع میل) حجم میں ہے۔ برما کا دارالحکومت نیپیداو اور بڑا شہر یانگون ہے۔

برما/میانمار[ترمیم]

4 جنوری 1948ء میں برما برطانیہ سے آزاد ہوا. اس کے سات صوبے اور سات ڈویزن ہیں. شان٬ کایا٬ کچھین٬ ارکان٬ کرین٬ مون٬ چھین. ڈویزں یہ ہیں: مانڈلے٬ مگوے٬ پیگو٬ ایراودی٬ رنگون٬ تناسرم٬ اورسگائن. تاریخی اعتبارسے سرزمین برما پہلے کئی ممالک پر مشتمل تھا. خاص برمی جو میانمار قبیلہ کے نام سے مشہور ہے جو مانڈلے اور اس کے اطراف میں رہتے ہیں وہ نویں صدی عیسوی میں تبت چین سے یہاں پہنچے. گیارہویں صدی میں ان کو انوراٹھا نے متحد کیا. جنہوں نے پگان کو دارالحکومت بنایا اور بودھ مذہب کو درآمد کیا. جو آج ان کا قومی مذہب ہے. 1287ء میں جب قبلای خان نے برما پر حملہ کردیا تو یہ ملک کئی حصوں میں منقسم ہوگیا جن پر شان قبیلہ کے افراد حکومت کرتے تھے یہاں تک کہ سولہویں صدی عیسوی میں ٹنگو خاندان کی حکومت قائم ہوئی. اٹھارویں صدی میں الونگ پھیہ نے موں قبیلہ کی شورش کو کچل دیا. جس کے بعد الونگ پھیہ نے ہندوستان پر لشکر کشی کرکے اپنی سلطنت کو وسعت دی. 1784ء میں میں برمی راجہ بودھوپیہ نے ارکان پر حملہ کرکے قبضہ کرلیا. اس سے پہلے ارکان/اراکان ایک آزاد خودمختارملک تھا. 1826ء میں ارکان اور تناسرم برٹش انڈیا کے ماتحت آگیا. برما اس سے دست بردار ہوگیا. اس کے بعد دوسری اینگلو برمن وار 1852ء میں وسطی برما اور تیسری اینگلو برمن وار 1885ء میں بالائی برما اور1890ء میں شان اسٹیٹ پر انگریزوں کا قبضہ ہوگیا.

متعلقہ مضامین میانمار[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ "Myanmar — Definition and More from the Free Merriam-Webster Dictionary". Merriam-webster.com. http://www.merriam-webster.com/dictionary/myanmar?show=0&t=1345589109۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 September 2012.
  2. ^ Thackrah, J. R.. "میانمار کی تعریف". Collins English Dictionary. http://www.collinsdictionary.com/dictionary/english/myanmar۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 ستمبر 2012.
  3. ^ "Definition of Myanmar — Oxford Dictionaries (British & World English)". Oxford Dictionaries. http://oxforddictionaries.com/definition/english/Myanmar?q=myanmar۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 ستمبر 2012.
  4. ^ Ammon، Ulrich (2004). Sociolinguistics: An International Handbook of the Science of Language and Society. جلد 3/3 (2nd ed۔). Walter de Gruyter. p. 2012. ISBN 3-11-018418-4. http://books.google.com/?id=LMZm0w0k1c4C&pg=PA2012.
  5. ^ "میانمار". Thefreedictionary.com. http://www.thefreedictionary.com/Myanmar۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 July 2013.
  6. ^ "Asian Development Bank and Myanmar: Fact Sheet". Asian Development Bank. 30 April 2012. http://www.adb.org/Documents/Fact_Sheets/MYA.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 November 2012.[مردہ ربط]

حواشی[ترمیم]

  1. ^ The final "r" in "میانمار" تلفظ کے لئے ارادہ نہیں کیا گیا تھا، لیکن وسیع نمائندگی کرنے کے لئے شامل کیا گیا تھا "آہ"-کی آواز برطانوی انگریزی <ar>.