مین آنگ ہلاینگ
| مین آنگ ہلاینگ | |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
| (برمی میں: မင်းအောင်လှိုင်)، (انگریزی میں: Min Aung Hlaing) | |||||||
| مناصب | |||||||
| وزیراعظم میانمار [1] | |||||||
| آغاز منصب 1 اگست 2021 |
|||||||
| |||||||
| |
|||||||
| آغاز منصب 22 جولائی 2024 |
|||||||
| |||||||
| معلومات شخصیت | |||||||
| پیدائش | 3 جولائی 1956ء (70 سال)[2] | ||||||
| رہائش | میانمار نیپیداو |
||||||
| شہریت | |||||||
| رکن | تاتماڈو ، ریاستی انتظامی کونسل، میانمار ، جنوب مشرقی ایشیائی اقوام کی تنظیم | ||||||
| تعداد اولاد | 2 | ||||||
| بہن/بھائی | |||||||
| عملی زندگی | |||||||
| مادر علمی | ڈیفنس سروسز اکیڈمی (1974–1977) یونیورسٹی آف یانگون (1973–1974) |
||||||
| تخصص تعلیم | قانوی سائنس | ||||||
| تعلیمی اسناد | فاضل القانون | ||||||
| پیشہ | فوجی افسر ، سیاست دان ، عسکری قائد ، فوجی افسر ، فوجی ، آزمودہ کار ، سرکاری | ||||||
| مادری زبان | برمی | ||||||
| پیشہ ورانہ زبان | برمی ، انگریزی | ||||||
| عسکری خدمات | |||||||
| عہدہ | جرنیل | ||||||
| لڑائیاں اور جنگیں | میانمار کی خانہ جنگی (2021ء تا حال) ، روہنگیا نسل کشی ، 2021ء میانمار مسلح بغاوت | ||||||
| IMDB پر صفحات | |||||||
| درستی - ترمیم | |||||||
من آنگ ہلاینگ یا مین آنگ ہلاینگ (انگریزی: Min Aung Hlaing) (ولادت: 3 جولائی 1956ء) برمی آرمی جنرل ہیں جو میانمار کے موجودہ ریاستی لیڈر اور میانمار کی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف ہیں۔ انھوں نے 2021ء میانمار مسلح بغاوت کے بعد ریاستی رہنما کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا۔[3]
مین آنگ ہلاینگ میانمار کی فوجی سیاست میں ایک مرکزی کردار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے 1970ء کی دہائی میں فوج میں شمولیت اختیار کی اور مختلف عسکری تربیتی اداروں سے تعلیم حاصل کی۔ ان کا تعلق میانمار آرمی کے اُن افسران کی نسل سے ہے جنھوں نے طویل عرصے تک ملکی سیاست اور حکومتی ڈھانچوں پر براہ راست اثرانداز ہونا جاری رکھا۔ فوج میں ترقی کے مختلف مراحل سے گذر کر وہ اپنے ساتھیوں کے مقابلے میں نسبتاً تیزی سے اعلیٰ عہدوں تک پہنچے اور 2011ء میں انھیں مسلح افواج کا کمانڈر ان چیف مقرر کیا گیا۔
جمہوریت کی کم زوری
[ترمیم]2011ء سے 2020ء تک وہ میانمار کی نام نہاد جمہوری منتقلی کے دوران ایک طاقتور فوجی ستون کے طور پر سامنے آئے۔ اس عرصے میں اگرچہ ملک میں نیم جمہوری حکومت قائم رہی، مگر آئینی اختیارات اور فوجی اثر و رسوخ برقرار رہا۔ مین آنگ ہلاینگ کو اس دوران روہنگیا بحران، ریاستی تشدد اور فوجی آپریشنز سے متعلق بین الاقوامی سطح پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اقوام متحدہ سمیت کئی عالمی اداروں نے اُن کی فوجی قیادت کے تحت کیے گئے اقدامات کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے طور پر بیان کیا۔
تختہ پلٹ
[ترمیم]یکم فروری 2021ء کو فوج نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کو بنیاد بنا کر منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس بغاوت کے نتیجے میں آنگ سان سوچی اور قومی جمہوری لیگ کی اعلیٰ قیادت کو گرفتار کر لیا گیا اور ملک کا انتظام براہ راست فوج کے کنٹرول میں آ گیا۔ مین آنگ ہلاینگ نے اس اقدام کو آئینی اور قومی سلامتی کی ضرورت قرار دیا، جبکہ عالمی برادری نے اسے سختی سے مسترد کرتے ہوئے پابندیاں عائد کیں۔
نئے انتظامی اداروں کی تشکیل
[ترمیم]بغاوت کے بعد انھوں نے ریاستی انتظامی کونسل ( "State Administration Council") کے نام سے ایک فوجی کونسل تشکیل دی اور خود اس کے چیئرمین بن بیٹھے، یوں عملی طور پر ریاستی سربراہ کی حیثیت سے ملک پر حکومت کرنے لگے۔ ان کے دور میں عوامی مظاہروں، سول نافرمانی کی تحریک اور مسلح مزاحمت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ شہری آزادیوں، میڈیا کی آزادی اور سیاسی جماعتوں کی فعالیت پر بھی شدید قدغنیں لگائی گئیں۔ عالمی مبصرین کے مطابق، اس بغاوت نے میانمار کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا اور ملک میں خانہ جنگی جیسے حالات پیدا کر دیے۔
تنقید
[ترمیم]مین آنگ ہلاینگ نے اپنی حکمرانی کو قومی استحکام، دہشت گردی کے خاتمے اور انتخابی اصلاحات کے نام پر جائز قرار دیا، مگر ناقدین کے مطابق یہ تمام اقدامات فوجی کنٹرول کو مستحکم کرنے اور سیاسی حریفوں کو کمزور کرنے کے لیے کیے گئے۔ اُن کے دور میں خطے کے ممالک خصوصاً چین اور روس کے ساتھ تعلقات میں قربت دیکھی گئی، جبکہ مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات مزید خراب ہوئے۔
مجموعی طور پر مین آنگ ہلاینگ کی شخصیت میانمار کی سیاست میں انتہائی متنازع سمجھی جاتی ہے۔ ان کی قیادت کو ایک طرف فوجی نظم و ضبط کا تسلسل کہا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف اسے عوامی حقوق، جمہوریت اور وفاقی ڈھانچے کے لیے شدید خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ بنام: Min Aung Hlaing — مذکور بطور: Prime Minister of Myanmar — اخذ شدہ بتاریخ: 25 اکتوبر 2022
- ↑ Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000032479
- ↑ "Myanmar military seizes power, detains elected leader Aung San Suu Kyi"۔ 2021-02-01 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ ویب}}:|عنوان=میں 8 کی جگہ line feed character (معاونت) ونامعلوم پیرامیٹر|یوآرایل کی کیفیت=رد کیا گیا (معاونت)

