مندرجات کا رخ کریں

مین آنگ ہلاینگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
مین آنگ ہلاینگ
(برمی میں: မင်းအောင်လှိုင်)، (انگریزی میں: Min Aung Hlaing ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

مناصب
وزیراعظم میانمار [1]   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آغاز منصب
1 اگست 2021 
تھین شین  
 
صدر میانمار   ویکی ڈیٹا پر (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آغاز منصب
22 جولا‎ئی 2024 
مائنٹ سوی (جنرل)  
 
معلومات شخصیت
پیدائش 3 جولا‎ئی 1956ء (70 سال)[2]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش میانمار
نیپیداو   ویکی ڈیٹا پر (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت میانمار   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رکن تاتماڈو ،  ریاستی انتظامی کونسل، میانمار ،  جنوب مشرقی ایشیائی اقوام کی تنظیم   ویکی ڈیٹا پر (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعداد اولاد 2   ویکی ڈیٹا پر (P1971) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
5   ویکی ڈیٹا پر (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی ڈیفنس سروسز اکیڈمی (1974–1977)
یونیورسٹی آف یانگون (1973–1974)  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تخصص تعلیم قانوی سائنس   ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد فاضل القانون   ویکی ڈیٹا پر (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ فوجی افسر ،  سیاست دان ،  عسکری قائد ،  فوجی افسر ،  فوجی ،  آزمودہ کار ،  سرکاری   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان برمی   ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان برمی ،  انگریزی   ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
عہدہ جرنیل   ویکی ڈیٹا پر (P410) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لڑائیاں اور جنگیں میانمار کی خانہ جنگی (2021ء تا حال) ،  روہنگیا نسل کشی ،  2021ء میانمار مسلح بغاوت   ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

من آنگ ہلاینگ یا مین آنگ ہلاینگ (انگریزی: Min Aung Hlaing) (ولادت: 3 جولائی 1956ء) برمی آرمی جنرل ہیں جو میانمار کے موجودہ ریاستی لیڈر اور میانمار کی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف ہیں۔ انھوں نے 2021ء میانمار مسلح بغاوت کے بعد ریاستی رہنما کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا۔[3]

مین آنگ ہلاینگ میانمار کی فوجی سیاست میں ایک مرکزی کردار کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ انھوں نے 1970ء کی دہائی میں فوج میں شمولیت اختیار کی اور مختلف عسکری تربیتی اداروں سے تعلیم حاصل کی۔ ان کا تعلق میانمار آرمی کے اُن افسران کی نسل سے ہے جنھوں نے طویل عرصے تک ملکی سیاست اور حکومتی ڈھانچوں پر براہ راست اثرانداز ہونا جاری رکھا۔ فوج میں ترقی کے مختلف مراحل سے گذر کر وہ اپنے ساتھیوں کے مقابلے میں نسبتاً تیزی سے اعلیٰ عہدوں تک پہنچے اور 2011ء میں انھیں مسلح افواج کا کمانڈر ان چیف مقرر کیا گیا۔

جمہوریت کی کم زوری

[ترمیم]

2011ء سے 2020ء تک وہ میانمار کی نام نہاد جمہوری منتقلی کے دوران ایک طاقتور فوجی ستون کے طور پر سامنے آئے۔ اس عرصے میں اگرچہ ملک میں نیم جمہوری حکومت قائم رہی، مگر آئینی اختیارات اور فوجی اثر و رسوخ برقرار رہا۔ مین آنگ ہلاینگ کو اس دوران روہنگیا بحران، ریاستی تشدد اور فوجی آپریشنز سے متعلق بین الاقوامی سطح پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ اقوام متحدہ سمیت کئی عالمی اداروں نے اُن کی فوجی قیادت کے تحت کیے گئے اقدامات کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے طور پر بیان کیا۔

تختہ پلٹ

[ترمیم]

یکم فروری 2021ء کو فوج نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کو بنیاد بنا کر منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ اس بغاوت کے نتیجے میں آنگ سان سوچی اور قومی جمہوری لیگ کی اعلیٰ قیادت کو گرفتار کر لیا گیا اور ملک کا انتظام براہ راست فوج کے کنٹرول میں آ گیا۔ مین آنگ ہلاینگ نے اس اقدام کو آئینی اور قومی سلامتی کی ضرورت قرار دیا، جبکہ عالمی برادری نے اسے سختی سے مسترد کرتے ہوئے پابندیاں عائد کیں۔

نئے انتظامی اداروں کی تشکیل

[ترمیم]

بغاوت کے بعد انھوں نے ریاستی انتظامی کونسل ( "State Administration Council") کے نام سے ایک فوجی کونسل تشکیل دی اور خود اس کے چیئرمین بن بیٹھے، یوں عملی طور پر ریاستی سربراہ کی حیثیت سے ملک پر حکومت کرنے لگے۔ ان کے دور میں عوامی مظاہروں، سول نافرمانی کی تحریک اور مسلح مزاحمت میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ شہری آزادیوں، میڈیا کی آزادی اور سیاسی جماعتوں کی فعالیت پر بھی شدید قدغنیں لگائی گئیں۔ عالمی مبصرین کے مطابق، اس بغاوت نے میانمار کو دہائیوں پیچھے دھکیل دیا اور ملک میں خانہ جنگی جیسے حالات پیدا کر دیے۔

تنقید

[ترمیم]

مین آنگ ہلاینگ نے اپنی حکمرانی کو قومی استحکام، دہشت گردی کے خاتمے اور انتخابی اصلاحات کے نام پر جائز قرار دیا، مگر ناقدین کے مطابق یہ تمام اقدامات فوجی کنٹرول کو مستحکم کرنے اور سیاسی حریفوں کو کمزور کرنے کے لیے کیے گئے۔ اُن کے دور میں خطے کے ممالک خصوصاً چین اور روس کے ساتھ تعلقات میں قربت دیکھی گئی، جبکہ مغربی ممالک کے ساتھ تعلقات مزید خراب ہوئے۔

مجموعی طور پر مین آنگ ہلاینگ کی شخصیت میانمار کی سیاست میں انتہائی متنازع سمجھی جاتی ہے۔ ان کی قیادت کو ایک طرف فوجی نظم و ضبط کا تسلسل کہا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف اسے عوامی حقوق، جمہوریت اور وفاقی ڈھانچے کے لیے شدید خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. بنام: Min Aung Hlaing — مذکور بطور: Prime Minister of Myanmar — اخذ شدہ بتاریخ: 25 اکتوبر 2022
  2. Munzinger person ID: https://www.munzinger.de/search/go/document.jsp?id=00000032479
  3. "Myanmar military seizes power, detains elected leader Aung San Suu Kyi"۔ 2021-02-01 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا {{حوالہ ویب}}: |عنوان= میں 8 کی جگہ line feed character (معاونت) ونامعلوم پیرامیٹر |یوآرایل کی کیفیت= رد کیا گیا (معاونت)